’’ ذکر صدر مملکت کے فلم دیکھنے اور تبصرہ کرنے کا‘‘

166

 

لگتا ہے کہ 72 سال گزرنے کے باوجود پاکستان کی عام تو کجا اہم شخصیات بھی مملکت کے قیام کے مقاصد کو نہیں جان سکیں۔ ملک قائم کرنے کے مقاصد تو بہت عظیم ہیں۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ لوگ وقت کی اہمیت سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کررہے۔ ریاست اور حکومت کے لیے تو ایک ایک منٹ اہم ہوتا ہے مگر ہمارے سیاست دان جو قوم کے رہنما ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں اب بھی وقت کی اہمیت کا احساس نہ ہو تو یہ خوش فہمی بھی ایک مذاق ہوگی کہ ہم ایک اچھی قوم بن جائیں گے۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ ہر شخص کو اپنی ذاتی خواہشات پوری کرنے کی آزادی ہے۔ مگر اس بات سے بھی تو کوئی اختلاف نہیں کرسکتا ہے کہ ہر عوامی اور آئینی عہدے کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ کسی مشہور اور نیک ادارے کے کسی بھی شخص کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنی ذاتی خواہشات سرعام پوری کرے یا اس کا اظہار کرے کیوں کہ کسی شخص کے اس طرح کے عمل سے صرف وہ نہیں بلکہ اس کا ادارہ اور اس سے متعلق لوگوں پر بھی انگلیاں اٹھائی جاسکتی ہیں۔
وطن عزیز کے نئے صدر مملکت عارف علوی کے چند روز قبل کے ٹویٹ نے عوام کو حیران اور پریشان کرکے رکھ دیا اور وہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا واقعی صدر مملکت عارف علوی اتنے ’’فارغ‘‘ رہتے ہیں۔ انہوں نے (عارف علوی) 27 ستمبر کو رات 11 بجکر 37 منٹ پر ٹویٹ کیا کہ ’’I watched the movie جوانی پھر نہیں آنی yesterday.
An excellent production. I am glad Pakistan cinema is catching up and creating good entertainment. (میں نے گزشتہ رات مووی ’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘ دیکھی، مجھے خوشی ہوئی کہ پاکستانی سینما اچھی تخلیقی اور تفریحی فلموں کو فروغ دے رہا ہے)
اس ٹویٹ کو صدر مملکت عارف علوی کے کم ازکم 15 لاکھ فالو ور نے دیکھا یا دیکھ چکے ہوں گے یا پھر دیکھیں گے۔ لیکن کم و بیش 12کروڑ باشعور پاکستانی صدر کے اس ٹویٹ کو پڑھ کر اپنے آپ سے شرمندہ ہورہے ہوں گے۔ تاہم اس شرمندگی میں یقیناًانہیں ان سوالات کے جواب مل گئے ہوں گے کہ ’’صدر مملکت کے عظیم عہدے پر بیٹھے شخص کا آخر کام کیا ہے؟ وہ کیا کرتے ہیں؟۔ انہیں مجموعی طور پر سالانہ کروڑوں کی تنخواہ کیوں دی جاتی ہے اور اس عہدے پر اربوں روپے کے اخراجات کی وجہ کیا ہے؟
عارف علوی کا فلم دیکھنا کوئی ایسی بری بات نہیں ہے جسے چھپا لیا جائے یہ ان کا ذاتی فعل ہے۔ اپنی ذاتی خواہشات پوری کرنے کا انہیں مکمل حق حاصل ہے۔ مگر صدر مملکت کی حیثیت سے وہ کسی سینما میں جاکر فلم دیکھیں اور پھر اس پر تبصرہ کریں تو اعتراض سب ہی کو ہوگا۔ ذرا تصور کیجیے کہ ہمارے معاشرے کا کوئی شخص فلم ’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘ یا کوئی اور بھی مووی دیکھنے کے بعد کیا اپنے بچوں کے سامنے اس کا برملا اظہار کرسکتا ہے یا کرنا چاہے گا۔ نہیں ناں! جب ایک عام شخص ایسا نہیں کرسکتا ہے تو پھر صدر مملکت کے عہدے پر براجمان شخصیت کو بھی یہ زیب نہیں دیتا۔ بہتر ہوتا کہ ایوان صدر کی جانب سے فوری عارف علوی کے ٹویٹ پر وضاحت یا تردید آجاتی مگر ایسا تاحال نہیں ہوا۔ نتیجے میں خبریں بھی آرہی ہیں اور کالم بھی لکھے جارہے ہیں۔ ایسا اس لیے کیا جارہا ہے کہ ہمارا معاشرہ کسی اہم ترین شخصیت کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ سینما میں بیٹھ کر فلم دیکھے اور اس کا پرچار بھی کرے۔
ان دنوں جو فلمیں بنائی جارہی ہیں ان کا دورانیہ تقریباً ڈھائی گھنٹے کا ہوتا ہے۔ صحافتی فارمولے کے حوالے سے یہ بڑی خبر ہے عارف علوی کے اپنے بیان کے مطابق ’’انہوں نے فلم دیکھی۔ بعدازاں اور اس پر تبصرہ بھی کیا۔ عارف علوی پی ٹی آئی کی جانب سے منتخب کردہ صدر مملکت ہیں وہ اس عہدے کے لحاظ سے مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں۔ وہ اس ریاست کے سربراہ ہیں جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلاتی ہے۔ پاکستان جس کا قیام طویل جدوجہد اور 22 لاکھ جانوں کی قربانی کے نتیجے میں عمل میں آیا۔ وہ اس فوج کے سربراہ ہیں جیسے دنیا کی نمبر ایک فوج ہونے اعزاز حاصل ہے۔ قوم یہ سوال کرسکتی ہے کہ کیا پی ٹی آئی اور وزیراعظم عمران خان ملک کو ایسے صدر کی موجودگی میں ’’مدینے کی ریاست بناسکیں گے؟ مذکورہ ٹویٹ کے حوالے سے ’’جسارت‘‘ کی 29 ستمبر کو شائع ہونے والی تجزیاتی خبر کے مطابق ابھی ایوان صدر کی طرف سے کوئی تردید یا وضاحت بھی نہیں آئی ہے البتہ اس ٹویٹ پر مختلف شخصیات کے جوابی تبصرے ضرور آرہے ہیں۔ ممتاز براڈ کاسٹر اور اے آر وائی نیوز کے چیئرمین سلمان اقبال نے فلم دیکھنے اور تبصرہ کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ یاد رہے کہ یہ فلم اے آر وائی فلمز ہی نے بنائی ہے۔ تاہم متعدد افراد نے منفی تبصرے کیے ہیں۔ جس کا یہاں ذکر کرنا ممکن نہیں ہے۔ چوں کہ صدر نے کم ازکم دو گھنٹے نکال کر یہ فلم دیکھی ہے اس لیے اس پر جلد ہی مزید تفصیلی کالم بھی لکھے جاسکتے ہیں اور لکھے جائیں گے۔ بہرحال بہتر ہوتا کہ صدر مملکت فلم دیکھنے کے عمل کو ذاتی سرگرمی کے طور پر ہی رکھتے اور اس کا اظہار سوشل میڈیا پر نہ کرتے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ