مہاجرین کی جبری ملک بدری رکوانے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جرمنی میں کارنیوال

81

 

مطیع اللہ

جرمنی میں گزشتہ 3 برس سے جاری مہاجرین کی جبری بے دخلی کا عمل تیز ہونے کے خلاف غیر سرکاری تنظیم ایکس تھیٹر اور فری کشمیر آرگنائزیشن کے تحت دارالحکومت برلن میں کارنیوال کا انعقاد کیا گیا جس میں 43 گاڑیوں کے قافلے میں تقریباً 45 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ مہاجرین کی جبری ملک بدری اور ان کے ساتھ قوم پرستانہ رویہ روا رکھنے کے خلاف دونوں تنظیموں کی جانب سے 2015ء میں پہلے کمیونٹی کارنیوال کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں 19 ٹرکوں کے قافلے میں 5 ہزار افراد نے شرکت کی تھی، تاہم بعد ازاں تارکین وطن کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف آواز بلند کرنے والوں اور ان کے حامیوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔
اس موقع پر کارنیوال کے منتظمین نے جرمن حکومت سمیت دیگر یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ جرمنی سمیت یورپ بھر میں آئے ہوئے مہاجرین کو جنگ زدہ اور غیر محفوظ ممالک میں واپس بھیجنے کے بجائے انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس موقع پر کارنیوال ہیمبرگ کے منتظم اور ہیمبرگ کے رکن اسمبلی ’سری‘ نے نمایندہ جسارت سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہم ہر سال کارنیوال کا باقاعدہ انعقاد کرتے ہیں۔ اس اہم احتجاج میں مختلف تنظیمیں اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں، خاص طور پر جن ممالک میں جنگ جاری ہے یا اس کے علاوہ دیگر مسائل کے باعث وہ غیر محفوظ تصور کیے جاتے ہوں، تارکین وطن کو اس کارنیوال کے ذریعے اس حوالے سے اپنا پیغام جرمن و یورپی حکام تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے تاکہ جن مہاجرین کو ملک بدری کا خدشہ ہو، ان کے لیے کوئی عملی اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں کے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ جو لوگ یہاں تک خطرناک راستوں سے ہوتے ہوئے اور اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر جان بچانے کے لیے پہنچے ہیں، انہیں پناہ دیے جانے کا حق حاصل ہے تاکہ وہ بہتر طریقے سے اپنی زندگی کو نیا آغاز دے سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کارنیوال کے لیے ہم گزشتہ ایک سال سے کام کررہے تھے۔ امید کرتے ہیں کہ آیندہ سال یہ کارنیوال دوسرے شہروں میں بھی ہو تاکہ مہاجرین اور ان کے انسانی حقوق سے متعلق یہ پیغام ہر جگہ پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ کمیونٹی کارنیوال میں 130سے زائد این جی اوز، 40 سے زائد ٹرک اور ہزاروں کی تعداد میں مختلف ممالک اور شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہیں۔ اس بار کارنیوال میں یورپ کے دیگر ممالک جن میں بلجیم، ڈنمارک، اٹلی، فرانس، آسٹریا، پولینڈ اور جمہوریہ چیک سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد بھی شریک ہے۔ جنہوں نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں اور اور اپنے ممالک میں ہونے والے مظالم اور جنگ زدہ علاقوں کی تصاویر اٹھائے امن کے لیے نعرے لگا رہے ہیں۔اس موقع پر مختلف ممالک کے مہاجرین نے جبری ملک بدریوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
اس موقع پر کشمیر کونسل یورپ اور فری کشمیر آرگنائزیشن کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے خلاف آگاہی ٹرک بھی پریڈ میں شامل رہا۔ کارنیوال میں شریک فری کشمیر کے بانی محمد صدیق کیانی نے نمایندہ جسارت کو بتایا کہ کشمیر دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں ہونے والے مظالم سے دنیا بے خبر ہے۔ اس کارنیوال کے ذریعے ہم یورپ بھر میں بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیوں کو دنیا کے سامنے عیاں کرنے کے لیے پمفلٹ تقسیم کررہے ہیں تاکہ دنیا کو جنت نظیر ’کشمیر‘ کے حوالے سے علم ہو۔انہوں نے کہا کہ فری کشمیر آرگنائزیشن اور کشمیر کونسل (ای یو) کے زیر اہتمام کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کے لیے ہم سال بھر دیگر تقاریب کا بھی انعقاد کرتے ہیں، جن میں کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم پرمبنی ڈاکومنٹری فلمیں اور دیگر تصاویر جرمن عوام کو دکھاتے ہیں۔ کشمیر کونسل (ای یو) کے چیئرمین علی رضا سید نے اس موقع پر کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ہم کبھی کشمیر کے بغیر بات نہیں کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئی حکومت کشمیر کے معاملے میں سنجیدگی کامظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ ہم آزادی کشمیر کی تحریک کو صرف مظاہروں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں، تاہم میدان عمل میں جو لوگ موجود ہیں ان کی قربانیوں کو بھی ہم سلام پیش کرتے ہیں جو آئے روز بھارتی قابض فوج کا ظلم و تشدد اور خطے میں اس کی کھلی غنڈہ گردی و جارحیت کو برداشت کرتے ہوئے روز اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا رہے ہیں۔ بھارتی فوج نے کشمیر میں خون کی ندیاں بہادیں لیکن اسے کامیابی نصب ہوئی اور نہ کبھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کارنیوال کے ذریعے یورپ کے لوگوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بھارت ایک دہشت گر ملک ہے، جس نے بدمعاشی کے ذریعے صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ بھارت کے اندر بھی جاری دیگر آزادی کے تحریکوں کو دبا رکھا ہے۔ فری کشمیر کے جنرل سیکرٹری سمیع اللہ نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر جلد آزاد ہوکر آزادی کی سانس لے گا۔ ہم کشمیر جنت نظیر کسی کافر کے حوالے نہیں کرسکتے۔ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والا مظفر وانی دہشت گرد نہیں تھا بلکہ وہ آزادی کی خاطر لڑنے والا مجاہد تھا جو امر ہوگیا۔ بھارت دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا لیکن ہم بھی کشمیر کی آزادی کی تحریک کو زندہ رکھنے پر مقبوضہ کشمیر کے عظیم عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو اپنے جوانوں کو آزادی کے لیے قربان کرتے ہوئے تھکتے نہیں۔ علاوہ ازیں کارنیوال کے حوالے سے منعقدہ تقریب کے افتتاح کے موقع پر مختلف ممالک و این جی اوز کے نمایندوں نے اپنے موقف اور مطالبات پیش کیے۔
کارنیوال میں شریک برلن سے آئے ہوئے جرمن سیاسی پارٹی ایس پی ڈی کے کارکن کاشف کاظمی نے نمایندہ جسارت کو بتایا کہ اس موقع پر جب پورا یورپ اُمڈ آیا ہو، ہم کشمیر کے مسئلے کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ جہاں بھارتی مظالم کی داستانوں سے کتابیں بھر گئی ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ