جدہ کمیونٹی اور اسپورٹس کی نامورشخصیت اقبال چودھری کو خراج عقیدت حامد رانا، اعجاز خان، عبدالرحمٰن مرچنٹ، وسیم بخاری، رام نارائن، سراج وہاب مجید الحسن سیادت علی،شمیم کوثر، افسر فہیم اور ڈاکٹر فائز العابدین کا اجلاس سے خطاب

66

اقبال چودھری جیسے انسانوں کی سج دھج ہی جدا ہوتی ہے۔ ان کا رختِ سفر بھی مختلف ہوتا ہے اور شاید منزل بھی انوکھی۔ بہت کچھ ان کی دسترس میں ہوتا ہے۔ کبھی کبھی تو چاند ستارے بھی ان کے قدم چومنے آتے ہیں۔ ایسے میرِ کارواں ہی منزل کی نشاندہی کرتے ہیں۔
نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
جی ہاں اقبال صاحب ہمارے لیے میرِ کارواں تھے۔ ایسا میرِ کارواں جو ایک قلعے کے مانند ہوتا ہے۔ اونچا، وسیع، مضبوط اور فراخدل۔ ہر مصیبت اپنی جان پر لینے والا، روحوں کو پناہ دینے والا، جس کے لافانی نقوش دل پر ثبت ہو جائیں۔ان خیالات کا اظہار جدہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے نائب صدر حامد رانا نے گزشتہ دنوں مقامی ہوٹل میں جے سی اے کے چیف ایگزیکٹو محمد اقبال چودھری کے لیے منعقدہ تعزیتی اجلاس میںان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقبال صاحب کی دلچسپ گفتگو اور غیر معمولی بذلہ سنجی اپنی مثال آپ ہے۔ ہرلحظہ رنگ بدلتی شخصیت میں یقیناً ایک انوکھا پن تھا اور شاید مزاح کے تمام استعارے ان پر ختم تھے۔ ہر جمعہ کوان کا ساتھ مزاح کے انمول ستارے بکھیرتا اور ہر نظر تمام ساتھیوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لاتی۔
یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اخوت کی جہاں گیری، محبت کی فراوانی
حامد رانا نے اقبال چودھری کی شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان کی اسلامی روایات سے عقیدت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔ اسلامی فلسفے کے بے شمار پہلو وہ اپنی عام زندگی میں اپنے عمل سے اجاگر کرتے رہے اور خاص طور پر اخوت اور بھائی چارگی کے رہنما اصولوں پر عمل گویا ان کا مقصد حیات تھا اور یقین مانیے محبت کے بام و در تعمیر کرنے میں اکثر وہ کرب زار وں میں تنہا محو سفر رہے۔
اے باد بیابانی مجھ کو بھی عنایت ہو
خاموشی و دل سو زی، سر مستی و رعنائی
اقبال چودھری کی شخصیت ایک ہی فکر و عمل کی عکاس رہی۔ اللہ اور اس کے رسول سے انمول محبت اور عبادت کے قرینے۔ گزشتہ کئی برسوں سے انہوں نے حجاج کرام کی خدمت کو زندگی کا شعاربنا رکھا تھا۔ گویا زندگی وقف تھی اسلام کی بزم آرائی کے نام
مجھے فخر ہے کہ وہ نہ خلعت شاہی کے طلبگار رہے اور نہ ہی جاں پناہی کے گنہگار۔ وہ تو بس ایک ادنیٰ خادم کی طرح اپنی دھن میں مگن، تسکین کے مراحل طے کرتے رہے۔ اجلاس کے دوران حامد رانا نے حاضرین کواقبال چودھری کی سوانح حیات سے بھی آگاہ کیا۔
جے سی اے فنانس امور کے نگراں اور اقبال چودھری کے قریبی ساتھی عبدالرحمن مرچنٹ نے نہایت جذباتی انداز میں ان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا تعارف پیش کیا۔
قبل ازیں اجلاس کا آغاز قاری حافظ نور محمد کی تلاوت قران پاک اور اس کے ترجمہ سے ہوا۔ اجلاس کی صدارت جے سی اے کے چیئرمین ڈاکٹر فائز العابدین نے کی۔ اجلاس میں جے سی اے ، ڈبلیو پی سی اے، ایس سی سی ارکان، کھلاڑیوں، اسپانسرز، کمیونٹی کی ممتاز شخصیات، اخباری نمایندوں ،سیاسی، سماجی تنظیموں ،پاکستان بھارت اکاؤنٹنٹس فورم، پاکستان حج والنٹیئر گروپ، خاک طیبہ، بزم عثمانیہ اور محمد اقبال کے قریبی دوستوں اور ساتھیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ انہوں نے تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے اور ہال میں آویزاں بینر پر دستخط بھی کیے۔
جے سی اے کے صدر اعجاز احمد خان نے اقبال چودھری کے ساتھ اپنے کرکٹ تعلقات پر روشنی ڈالی اور ان کی خوبیاں کرتے ہوئے کہا کہ اقبال صاحب اگر کوئی کھلاڑی کم ہوتا تو اس جگہ فیلڈنگ کرنے کھڑے ہوجاتے۔ کوئی اگر اپنی کو کٹ یا جوتا بھول گیا تو اسے اپنے پاس سے دے دیتے اور پھر واپس نہیں لیتے۔ اس موقع پر سوڈان میں موجود جدہ کے سابق ٹیم منیجر افسر فہیم نے آڈیو پیغام میں اپنے جذبات اور احسات کا اظہار کیا۔ جے سی اے رکن مجید الحسن نے کہا کہ جب میں نے اقبال صاحب کے انتقال کا سنا تو اتنا دکھ ہوا، جتنا اپنے والد کے انتقال کا سن کر ہوا تھا۔ ان کی شخصیت واقعی باپ جیسی تھی۔ تلنگانہ یونائٹیڈ فورم کے سیادت علی خان نے کہا کہ وہ سعودی عرب میں کرکٹ کی ترقی و ترویج کے لیے اور اسے زندہ رکھنے کے لیے سخت محنت سے کام کرنے والے شخص تھے۔ خاکِ طیبہ ٹرسٹ کے شمیم کوثر نے کہا کہ ٹرسٹ کے لیے بھی ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وہ خاموشی سے کام کرنے والے کارکن تھے۔ پاکستان حج والنٹیئر گروپ کے پروفیسر شاہد وسیم بخاری نے کہا کہ اللہ کے مہمانوں کی خدمت میں پیرانہ سالی کے باوجود پیش پیش رہتے تھے۔
انگریزی روزنامہ سعودی گزٹ کے سینئر ایڈیٹر رام نارائن نے اقبال چودھری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 3دہائیوں سے میرا اور ان کا رپورٹنگ کی وجہ سے تعلق رہا۔ ان کی غیر جانبدارانہ رپورٹنگ قابل تعریف تھی۔ وہ اپنی فطرت میںسچے تھے۔ عرب نیوز کے منیجنگ ایڈیٹر سراج وہاب نے بھی اقبال چودھری کی کرکٹ کے لیے خدمات کو نا قابل فراموش قرار دیا۔ پاکستان جرنلسٹس فورم کی نمایندگی کرتے ہوئے مسرت خلیل نے اُن کے ساتھ کھیل اور رپورٹنگ کے حوالے گزرے ہوئے زمانے کو یاد کیا۔
اجلاس کے صدر چیئرمین ڈاکٹر فائز العابدین نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اقبال صاحب کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک پُر کشش شخصیت تھے۔ ہم سب مل کر ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہیں۔
محمد اقبال چودھری کا انتقال 21اگست 2018ءکو پاکستان کے شہر لاہور میں علالت کے باعث 75برس کی عمر میں ہوا۔ 6اپریل 1944ء کو فیروزپور (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان تقسیم ہندکے دوران 1947ء میں پاکستان آگیا اور سرگودھا میں سکونت اختیار کی۔ اہوں نے 1961ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ گئے۔ وہ 1971ء میں چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ کورس مکمل کرکے پاکستان آگئے اور 8سال پاکستان میں ملازمت کرنے کے بعد 1981ء میں سعودی عرب آگئے۔ جدہ کرکٹ لیگ کے بانی صدر انجینئر شاہد امین نے 1983ء میں انہیں بہترین انتظامی اور خداداد صلاحیتوں کی بنا پر جدہ کرکٹ لیگ کا ایگزیکٹو سیکرٹری مقرر کیا۔ انہوں نے 2006ء میں جے سی ایل کو خیرباد کہہ کر جدہ کرکٹ ایسوسی ایشن میں شمولیت اختیار کرلی۔ بعد میں وہ اس کے صدر اور سی ای او بنے۔ 4دہائیوں پر محیط کرکٹ کی خدمات کے عوض جدہ کرکٹ کی دنیا انہیں ـبابائے کرکٹ کے نام سے یاد کرے گی۔
آخر میں حج رضاکار گروپ کے مولانامحمد حنیف نے اقبال چودھری کے ایصال ثواپ کے لیے دعائے مغفرت کی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ