روہنگیا مسلمانوں کے مسائل اورمیڈیا کی اہمیت پر سیمینار

81

 

 

پاکستان رائٹر فورم (پی آرایف) کے تحت ’روہنگیا مسلمانوں کے مسائل اور میڈیا کی اہمیت‘ پر سیمینار جدہ کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس کی صدارت پاکستان جرنلسٹس فورم (پی جےایف) جدہ کےچیئرمین امیر محمد خان نے کی۔
سیمینار کا آغاز تلاوتِ قرانِ پاک سے ہوا جس کی سعادت صدارتی ایوارڈ یافتہ قاری محمد آصف نے حاصل کی۔ بارگاہِ رسالت میں ہدیہ نعتؐ احمد بن زبیر نے پیش کیا۔ معروف شاعر زمرد خان سیفی نے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار پر اپنا منظوم کلام پڑھا۔ نظامت کے فرائض فورم کے سینئر رکن توقیر احمد نے سر انجام دیے۔ سعودی عرب میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کے ترجمان نورالامین نے اپنے خطاب میں پاکستان رائٹر فورم کے صدر انجینئر نیاز احمد اور مجلس انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اراکان کی مختصرتاریخ بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ اراکان میں اسلام کا داخلہ عباسی خلیفہ ہارون رشید کے عہد 788ء بمطابق 171ھ میں عرب تجار کے توسط سے ہوا۔ اس علاقہ کو قدیم زمانے میں مروہنگ کہا جاتا تھا۔ جسکا مطلب زیادہ ڈیم پائے جانے والا علاقہ ، کیونکہ اس علاقہ میں بڑے بڑے ڈیم کثرت سے پائے جاتےتھے۔ رفتہ رفتہ یہ مروہنگ لفط روہانگ میں تبدیل ہوگیا اور یہاں کے رہنے والے روہنگیا کہلانے لگے۔
اسلامی تعلیمات سے متاثرہوکر رفتہ رفتہ روہانگ کے پرانے باشندے اسلام قبول کرنے لگے۔ روہانگ کے حکمرانوں میں سے ایک بودھ حاکم مسلمان ہوگیا اور اس کے فوت ہونے کے بعد ایک ترک النسل سلطان جس کا نام سلطان سلیمان شاہ تھا، نے اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی۔ جس کا ہیڈ کوارٹر پتھری قلعہ ہوا کرتا تھا۔
اراکان 1784ء تک ایک آزاد اسلامی ریاست رہ چکا ہے۔ جس کے مغرب میں بھارت، بنگلادیش، مشرق کی طرف کوہ ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ مایوہے جو اراکان کو میانمر (برما) سے جغرافیائی طور پر مکمل الگ کردیتا ہے۔ جنوب میں خلیج بنگال و بحیرہ ہند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اراکان نہایت زرخیز علاقہ ہے اور اس زمین میں تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ یہاں کے جنگلات، پہاڑ، دریا، سمندربھی ہر قسم کی قیمتی اشیا سے مالا مال ہیں۔
اراکان جہاں کم وبیش ساڑھے 300سال تک مسلمانوں نے حکمرانی کی اور وہاں اسلامی نظام حکومت قائم کیا۔ 1784ء میں برمی راجا بودھوپیہ نے اراکان پر قبضہ کر لیا۔پھر مختلف ادوار سے گزر کر 1828ء میں انگریزوں نے اراکان پر قبضہ کرلیا۔ دوسری جنگ عظیم جو جاپان اور برطانیہ کے درمیان اس زمین میں لڑی گئی تھی ،مشہور زمانہ ’مگھ خاڑاخاڑی‘ 1942ءکے بعد جس قتل عام میں لگ بھگ ایک لاکھ مسلمانوں کو قتل کرکے شہید کیا گیا تھا۔ پیس کمیٹی کاقیام وجود میں آیا تھا۔ پیس کمیٹی اور جمعیت علما شمالی اراکان کے مطالبے پر 31دسمبر 1942 کو برطانیہ نے ایک عارضی حکم نامے کے تحت مےیو اور ناف ندی کے درمیانی علاقہ کو مسلم ایریا قرار دیا تھا۔
جمعیت علما شمالی اراکان نے تحریک آزادی برما کے دوران مستقبل کے آزاد برما میں روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں 2جنوری 1947کو آزادی برما کے زعماسے مذاکرات کیے جب برمی وفد اونگرسان کی قیادت میں برطانوی وزیر اعظم لارڈ کلیمنٹ ایٹلی سے آزادی کا معاہدہ کرنے لندن جاتے ہوئے دہلی میں رُکے تھے۔ 27جنوری1947ء کو اونگ سان، ایٹلی معاہدہ ہواجس کی شرائط کے مطابق پینلونگ کانفرنس کی گئی کیونکہ انگریزوں نے برما میں موجود تمام قوموں کی رضامندی کا مطالبہ کیا تھا۔
12فروری 1947ء کو پینلونگ کانفرنس بلائی گئی۔ اس میں یہ بات طے تھی کہ جو اسٹیٹ انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے 10سال بعد الگ ہوکر خود مختاری اختیار کرنا چاہیں، انہیں خود مختاری دےدی جائے گی۔ جس کی مندرجہ ذیل شرائط تھیں:
۱۔ اس علاقے کی واضح جغرافیائی حدود ہوں۔
۲۔ وہاں برمی زبان کےمقابلے میں دوسری ایک الگ بان بولی جاتی ہو۔
۳۔ وہ علاقہ علاحدہ تاریخی پس منظر رکھتا ہو۔
۴۔ وہ الگ تہذیب و تمدن رکھتا ہو۔
۵۔ وہ اقتصادی طور پر قابل عمل کاروبار والا اور اقتصادی طور پر خود کفیل کمیونٹی ہو۔
۶۔ وہ واضح بڑی آبادی ہو۔
۷۔ وہ علاحدہ یونٹ کے طور پر اپنی الگ پہچان برقرار رکھنے کی خواہش رکھتا ہو۔
چنانچہ مسلمانوں کے اندر اراکان میں یہ تمام شرائط اور خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
نورالامین نے کہا کہ 4جنوری 1948ء کوانگریزوں سے برما کی آزادی کے بعد اس وقت کے مسلمان رہنماؤں میں ماسٹر ظہیر الدین اور مسیح الدین اور اکثر مسلمان رہنماؤں کی دلی خواہش تھی کہ اراکان کے پورے حصے کو پاکستان کے ساتھ الحاق کیا جائے۔ مگر ایسا نہ ہوسکا۔ چنانچہ اراکان کے بڑے حصے کوبرما کے ساتھ ملا دیا گیا اور کچھ حصہ مشرقی پاکستان کے ساتھ ملایاگیاجو آجکل بنگلادیش میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں مندرجہ بالا حضرات نے قائد اعظم محمد علی جناح سے بھی ملاقات کی تھی۔
نورالامین نے عالمی این جی او کے تحت آسٹریلیا ، بنگلادیش، کنڈا، ناروےاور فلپائن کے محقین کی تحقیق کے بعد حاصل شدہ اعداد شمار جن کے مطابق 25اگست 2017سے 2018تک روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے قتل عام کیا گیامان کی تفصیل درج ذیل ہے:
۱۔ قتل: 24 ہزار روہنگیا قتل کیے گئے۔
۲۔ ریپ : 18 ہزار خواتین اور بچیوں کی عصمت دری کی گئی۔
۳۔ فائرنگ: 41192 افراد کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
۴۔ ایزارسانی: 114872 افراد کو شدید زد و کوب کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
۵۔ آتشزدگی: 115026 گھر جلا دیے گئے۔ ان گھروں کے اندر جل کر مرنے والوں کی تعداد تاحال نامعلوم ہے۔
۶۔ توڑ پھوڑ: 113000 گھر مسمار یا تباہ و برباد کردیے گئے۔
۷۔ بے گھر: 826000 روہنگیا افراد اقوام متحدہ کے مطابق بنگلادیش میں بطور مہاجر موجود ہیں جبکہ 2017ء سے پہلے 3 لاکھ افراد بنگلادیش میں موجود تھے جو کل ملا کر 11 لاکھ 26 ہزار بنتے ہیں۔
۸۔ زیادتیاں: 413 بچے جنہوں نے زیادتی کی شکار ہونے والی معصوم روہنگیا بیٹیوں کی کوکھ سے جنم لیا۔
۹۔ یتیمی: 50 ہزار بچے یتیم ہو گئے۔
تازہ ترین صورت حال بیان کرتے ہوئے نور الامین نے کہا کہ اراکان کا شمالی حصہ مسلمانوں سے تقریباً خالی ہو چکا ہے۔ جہاں برمی حکومت مسلمانوں کی جگہ زمین پر قبضہ کرکے بیرونی ملکوں کو کرایے پر دے رہی ہے اور کچھ زمینوں کو بنگلادیش سے مگھوں کو لاکر ان میں تقسیم کررہی ہے۔
نورالامین نے روہنگیا مہاجرین کے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم روہنگیاؤں پر ہونے والے تمام مظالم کے بدلے انصاف چاہتے ہیں۔ مکمل شہری حقوق کی واپسی جو جمہوری دور میں ہمارے پاس تھی۔ روہنگیا کے لیے علاحدہ محفوظ علاقہ تیار کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنےاپنے گھروں اور زمینوں ہی پر جانے دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کی بڑی تعداد جو اراکان اور مہاجرین بنگلادیش میں ہیں، ان کی ضروریات پوری کرنے کے فوری انتظامات کیے جائیں۔ جس میں تعلیم، یتیموں، بیواؤں کی ضروریات زندگی، علاج معالجہ اور کھانے پینے کا بندوبست کیا جائے۔
الخدمت فاؤنڈیشن جدہ کےنگراں مولانا حبیب الرحمٰن نے انسانیت، بھلائی اور خدمت خلق پر اپنے بصیرت افروز خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے روہنگیا کے پناہ گزینوں کے کیمپوں میں امدادی کاموں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ امیر محمد خان نے اپنے صدارتی خطاب میں روہنگیا، کشمیر، فسلطین، شام،محصورین پاکستان بنگلادیش اور دنیا کے دیگر خطوں میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کی اہمیت پر کہا کہ ہم اس کے ذریعے باآسانی دنیا کو آگاہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے مشکور ہیں جن کی انسان دوستی کے تحت روہنگیا کے مسلمانوں کو مفت اقا مہ دیا گیا اور ان کی بڑی تعداد کو مکہ المکرمہ میں آباد کیا۔
انجینئر نیاز احمد صدر پاکستان رائٹر فورم نے تقریب میں شریک تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مجلس انتظامیہ کے توقیر احمد، زمرد سیفی اور زاہد علی کا خاص طور سے شکریہ ادا کیا۔ تقریب سے جمیل راٹھور، محمد امانت اللہ، سید مسرت خلیل اور شمس الدین الطاف نے بھی خطاب کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ