ملک بھر میں 6000 غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائیٹیاں ہیں،رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

256

ایف آئی اے نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کی فرانزک آڈٹ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی، رپورٹ کے مطابق ملک میں 6000 غیرقانونی جبکہ 2767 رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں۔

سپریم کورٹ میں ہاؤسنگ سوسائیٹیز سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران  ایف آئی اے نے ملک بھرمیں غیرقانونی طور پر رجسٹرڈ ہاوٴسنگ سوسائٹیزکی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 6000 غیر رجسٹرڈ جبکہ 2767 رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 84 رجسٹرڈ اور 12 غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائیٹیز ہیں۔ پنجاب میں 1188 رجسٹرڈ اور 4680 غیر رجسٹرڈ سوسائیٹیز ہیں۔ سندھ میں 1380 رجسٹرڈ اور 967 غیر رجسٹرڈ ہیں، خیبرپختونخوا میں 49 رجسٹرڈ اور 120 غیر رجسٹرڈ سوسائیٹیز ہیں، بلوچستان میں 12 رجسٹرڈ اور 221 غیر رجسٹرڈ ہیں۔

غیررجسٹرڈ 6000 ہاوسنگ سوسائٹیوں کو متعلقہ ڈی سی او کے ذریعے کنٹرول کیا جاسکتا ہے تاہم اس سلسلے میں صوبوں کے چیف سیکرٹریزاورڈی سی اوکوئی مدد نہیں کررہے جب کہ اکثر غیر رجسٹرڈ سوسائٹیوں نے عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 701 ہاؤسنگ سوسائیٹیز کا فرانزک آڈٹ مکمل کرلیا ہےجن میں اسلام آباد کی 3،پنجاب کی 646، سندھ کی 16، خیبرپختونخوا کی 29 اور بلوچستان کی 7 ہاؤسنگ سوسائیٹیز شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ