پیپلزپارٹی تیمور تالپور کے بیان سے لاتعلق،ہارس ٹریڈنگ نہیں کی،ناصر شاہ

116

کراچی (اسٹا ف رپورٹر) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی نے اپنے رکن سندھ اسمبلی تیمور تالپور کے ہارس ٹریڈنگ کیمتعلق بیان سے اظہار لاتعلقی کردیا‘ ہفتے کواسمبلی کا اجلاس اسپیکرآغا سراج درانی کی زیرصدارت ہوا۔ سندھ کے وزیر برائے سروسز اینڈ ورکس سید ناصرحسین شاہ نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں کی‘ پارٹیوں میں اختلافات کی وجہ سے ایک جماعت کو زیادہ ووٹ ملے‘ پیپلزپارٹی پر نوٹ کے ذریعے ووٹ خریدنے کا الزام سندھ کے عوام کی توہین ہے۔ ہفتے کو سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سید ناصر شاہ نے کہا کہ سابق وفاقی حکومت نے ہم سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کیا‘ نئی حکومت سے امید ہے کہ صوبے میں وفاقی منصوبوں پر عمل درآمد کرائے گی۔ انہوں نے کہاکہ جو ادارہ مصنوعی دل لگاتا ہے اس کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے‘ ہماری تعریف نہ کریں لیکن اچھے اداروں کے خلاف مت بولیں۔ان کا کہنا تھا کہ آئندہ 5 سال میں کراچی میں500 سے زیادہ بسیں لائی جائیں گی۔ وزیرتعلیم سندھ سردارشاہ نے کہا ہے کہ میں اپنی بیٹی کو سرکاری اسکول میں تعلیم دلواؤں گا‘ محکمہ تعلیم کوجادوکی چھڑی سے ٹھیک کرنا میرے بس میں نہیں‘ تعلیم کو بہتر کرنے کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ پر کالا باغ تو ایک طرف بھاشا ڈیم بھی نہیں بن سکتا‘ یہ ڈیم نہ قابل عمل ہے‘ نہ ٹیکنیکل گراؤنڈ پر بہتر ہے‘ دریاؤں کا پانی بیچ دیا گیا‘ سسٹم میں پانی ہی نہیں‘ یہاں ریت اڑ رہی ہے اور آپ ڈیم بنانے چلے ہیں۔کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں ہفتہ کو آئندہ مالی سال 2018۔19کے باقی 9ماہ کے صوبائی بجٹ پر عام بحث چھٹے روز بھی جاری رہی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے پارلیمانی لیڈر کنور نوید جمیل نے بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں کراچی کو نظرانداز کیا گیا‘یہ واٹر کمیشن کی مہربانی ہے کہ اس نے کراچی اور حیدرآباد کے لیے پینے کے صاف پانی کی کچھ اسکیمیں بجٹ میں شامل کرائی ہیں‘ کراچی میں ہر سال 5 ارب روپے کا پانی فروخت ہوتا ہے۔ صوبائی وزیر توانائی امتیازشیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانیوں اور بنگالیوں کی آبادکاری کا اعلان کرکے سندھ کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا ۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ کے لوگ گٹر کا پانی پی رہے ہیں‘پینے کے پانی سے کلورین کی مدد سے انڈسٹریل ویسٹ ختم نہیں کیا جاسکتا‘وزیراعلیٰ صاحب! پینے کے پانی میں انڈسٹریل ویسٹ شامل کرنے کے ذمہ دار صنعتکاروں کو جیل میں ڈالیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ2 روز پہلے اسی ایوان میں سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا اقبالی بیان دیاگیا،پی پی رکن نے ایوان میں تسلیم کیا کہ ووٹ خریدا گیاتھا‘اب بتائیں کہ ووٹ کس نے خریدا کس سے خریدا؟۔ صوبائی وزیربلدیات سعید غنی نے کہا کہ کے ڈی اے اربوں روپے کمانے والا ادارہ تھا‘ کے ڈی اے کو سٹی ناظم کے ماتحت کرکے اس کو تباہ کردیا گیا‘ہماری حکومت کے 10 برس میں کراچی 192 ارب روپے دیے گئے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بجٹ پر بڑے دلچسپ انداز میں اظہار خیال کیا ان کی تقریر کے دوران ایوان میں قہقہے بلند ہوتے رہے اور پورے ایوان کا ماحول زعفران زار ہوگیا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے ہر الزام پیپلزپارٹی کو دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ پھسلتے خود ہیں اور پانی پھینکنے کا الزام پیپلزپارٹی پر لگا دیتے ہیں‘ وزیراعظم 50 ارب روپے کا اعلان کرگئے ‘ دیکھتے ہیں اس کا کیا ہوتا ہے‘ آصف علی زرداری کی ذہانت ہے کہ انہوں نے مفاہمت کی سیاست کی جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو تیسری مرتبہ حکومت ملی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ