اشتعال انگیز تقریر ،بانی ایم کیوایم ،خالدمقبول اور دیگر رہنماء اشتہاری قرار

38

کراچی (اسٹاف رپورٹر) انسداد دہشت گردی عدالت نے اشتعال انگیزی اور میڈیا ہاؤس پر حملے سے متعلق کیس میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی سمیت کئی پارٹی رہنماؤں کو اشتہاری قرار دے دیا۔کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اشتعال انگیزی اور میڈیا ہاؤس پر حملے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، عامر خان، گل فراز خٹک سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے بانی ایم کیو ایم، وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، حیدر عباس رضوی اور سلمان مجاہد کو پیش نہ ہونے پر اشتہاری قرار دے دیا جب کہ ملزمان کی حاضری مکمل نہ ہونے کے باعث فرد جرم عائد نہ کی جا سکی۔عدالت نے ملزمان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر فرد جرم عاید کی جائے گی۔ مقدمے کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔ سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایم کیوایم رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی میں ہونے والی تقاریر سے سندھ کے عوام کو فائدہ نہیں ہوگا،بلاول زرداری کا تقاریر پر ایکشن لینا قابل تعریف ہے،ہجرت کے بعد مہاجروں کی سندھ کے عوام نے دل کھول کر مدد کی،پاکستان بنانے والے اگر پاکستان کا حصہ نہیں تو پھر کون ہیں،بلاول زردار ی کے سہیل انور سیال کی تقاریر پر ایکشن لینے کے باعث احتجاج کی کال واپس لی،بلاول نے کہا ہے یہ سہیل انور سیال کاذاتی بیان ہے پارٹی پالیسی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد حسین کے بیا ن سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو معزرت خواہ ہوں،کر۔ رؤف صدیقی نے سندھ اسمبلی میں محمد حسین کی تقریر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں محمد حسین اور سہیل انور سیال کی تقاریر قابل مذمت ہیں ،پاکستان کے 23 کروڑ عوام کو اللہ تعالی پالتے ہیں ،ہم اپنے بچوں کو نہیں پال سکتے تو دوسروں کو کیا پالیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ