اقوام متحدہ۔۔۔ پاکستان نہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان

377

 

محمد مظفر الحق فاروقی

آج کل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔ UNO کی تاریخ کا یہ 73 واں اجلاس ہے جس میں پوری دنیا کے 93 ممالک شرکت کررہے ہیں۔ بین الاقوامی فورم کا یہ اجلاس ہر سال ستمبر کے مہینہ میں منعقد کیا جاتا ہے۔ عالمی اور علاقائی مسائل پر تقاریر ہوتی ہیں۔ سربراہانِ مملکت اور دوسرے سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ کھانے پینے کا پُرتکلف اہتمام ہوتا ہے۔ پھر دنیا کے تین چوتھائی حصہ کے ممالک اپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے جاتے ہیں اور دنیا وہیں کی وہیں رہ جاتی ہے۔ غربت، جہالت اور طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا عام آدمی کے نہ دن بدلتے ہیں نہ رات۔ یہ فورم یا ادارہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بنا تھا 72 سال پہلے، تاکہ اقوام عالم میں ایسا بھائی چارہ پیدا کیا جاسکے کہ تیسری عالمی جنگ کا منہ دنیا نہ دیکھ سکے اور روئے زمین پر یہ اربوں انسان خوشما اور خوشحالی کی زندگی گزار سکیں۔ پتا نہیں یہ اقوام متحدہ کا کارنامہ ہے یا زمین پر بسنے والے ساڑھے چھ ارب انسانوں کا خوف کہ اگر تیسری عالمی جنگ چھڑ گئی تو یہ سارے انسان کہیں دوبارہ پتھر کے دور (STONE AGE) میں نہ داخل ہوجائیں۔
روزنامہ جسارت کی 18 ستمبر کی اشاعت میں میرا ایک کالم شائع ہوا تھا جس کا عنوان تھا ’’جنرل اسمبلی میں اردو میں تقریر‘‘۔ یہ بھی ایک تبدیلی ہوگی، مجھے بہت سے تعریفی فون آئے، پھر 21 ستمبر کو یہ خبر پڑھ کر خوشی ہوئی، خبر کا عنوان تھا ’’شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اردو میں خطاب کریں گے‘‘ جب مذکورہ کالم جسارت میں آیا شاہ محمود صاحب پاکستان میں موجود تھے۔ پتا نہیں ان کو اردو میں تقریر کی رائے اور اہمیت مذکورہ کالم کے ذریعے بتادی گئی ہو کیوں کہ وزارت خارجہ کا محکمہ اپنی وزارت سے متعلق کالم اور خبروں اور تبصروں پر نگاہ رکھتا ہے۔ ایک رائے پہلے سے یہ تھی کہ چوں کہ یہ حکومت تبدیلی کا نعرہ لگا کر میدان سیاست آئی ہے اس لیے کیوں نہ انگریزی میں تقریر کی روایت کو توڑا جائے یا پھر کالم نگار کی رائے مشورے اور تبصرہ پر عمل کیا جائے۔ بہرحال تبدیلی تو آئی اور قومی زبان اردو کو اس کا حق دینے اور احساس کمتری کے خول سے باہر آنے کا موقع تو آیا۔ جسارت دنیاوی اعتبار سے ایک ’’چھوٹا اخبار‘‘ سہی اس کے کالم اور تبصرے وزن تو رکھتے ہیں۔ سیدنا علیؓ کا قول ہے ’’یہ مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے؟‘‘
جسارت نے کہا جب بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج اپنی قومی زبان ہندی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) میں تقریر کرسکتی ہے تو ہمارا وزیرخارجہ اپنی قومی زبان اردو میں کیوں نہیں!۔
اب آتے ہیں دوسرے نکتہ کی طرف۔ اقوام متحدہ کے 193 چھوٹے بڑے ممالک کے نمائندوں کے اس وسیع و عریض ہال میں الگ الگ ڈسک ہوتے ہیں اور ان پر ان کے ملک کے ناموں کی انگریزی زبان میں پلیٹ لگی ہوتی ہیں۔ اپنے ملک کا نام صرف پاکستان PAKISTAN لکھا ہوتا ہے۔ جب کہ پاکستان کا پورا اور صحیح نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یعنی ISLAMIC REPUBLIC OF PAKISTAN۔ مگر ہمیں یہاں بھی اپنے ملک کے ساتھ اسلامک لگاتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے بلکہ اسی طرح جیسے ایک طویل عرصے سے ہم اس عالمی پلیٹ فارم پر انگریزی کے بجائے اپنی قومی زبان اردو میں شرم محسوس کرتے آرہے تھے۔ (سنا ہے جنرل ضیا الحق شہید نے اقوام متحدہ میں اردو میں تقریر کی تھی۔ آج لوگ اس حکمران کو کچھ بھی کہیں یہ شخص اسلام اور اردو اور اپنے قومی لباس کا حامی تھا)۔
جیسا کہ کہا گیا یا لکھا گیا اقوام متحدہ میں ہر ہر ملک کا اپنا نام انگریزی میں لکھا ہوا نظر آئے گا۔ ہمیں یہ بات اس لیے کھٹکی کہ جب ایران جیسے ترقی پزیر ملک کا نام ایران IRAN نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران ISLAMIC REPUBLIC OF IRAN لکھا ہے اور ایرانی قوم اپنے ملک کے نام کے ساتھ ISLAMIC لکھنے یا لکھوانے میں کوئی شرم یا عار محسوس نہیں کرتے بلکہ اپنے اسلامی ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں تو وہاں ہمارے ملک کا نام صرف PAKISTAN کیوں۔ ISLAMIC REPUBLIC OF PAKISTAN کیوں نہیں۔ کیا اقوام متحدہ کا ادارہ ہمارے ملک کا پورا نام لکھنے سے عاری ہے یا منع کرتا ہے کہ ہماری نیم پلیٹ کی لمبائی کم پڑجائے گی۔ اقوام متحدہ کے ادارہ کی نیم پلٹ چھوٹی نہیں ہمارے ذہن چھوٹے اور احساس کمتری کا شکار ہیں۔ ہم اسلامی کہلواتے ہوئے شرم سے پانی پانی ہوئے جاتے ہیں۔ آخر ہمارا پڑوسی ملک ایران کیوں نہیں شرماتا، وہ ڈنکے کی چوٹ پر اس بھرے ہال میں خود کو ISLAMIC لکھواتا ہے اور اس کے نام کے ساتھ ISLAMIC ہمیشہ لکھا جاتا ہے۔
اے نئی حکومت کے لوگو۔ تبدیلی کے سورج کو طلوع کرنے والو، پاکستان کی قوم اس حکومت اور اس حکومت کے سربراہ کو ہمیشہ یاد رکھے گی کہ اس نے اقوام متحدہ جیسے باوقار اور عالمی ادارے میں اپنے ملک کے نام کی غلطی کو درست کرادیا۔ اب ہمارے ملک کا پورا نام لکھا بھی جائے گا اور پکارا بھی جائے گا۔ یہ تصحیح بھی ہوگی اور تبدیلی بھی۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندہ ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو ہدایت دے کہ وہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے نام ایک خط لکھ کر اس عالمی فورم میں اپنے ملک پاکستان کا نام درست کرائیں۔ شاید بائیں بازو کی ذہنیت یا روشن خیال لوگ نام کی تبدیلی کے معاملے کو چھوٹی اور معمولی بات سمجھیں۔ سمجھتے ہیں تو سمجھا کریں ’’ہم تو سچی بات کہیں گے بُری لگے یا بھلی‘‘۔ سوال یہ ہے کہ جب پاکستان کے پاسپورٹ پر پاکستان کا نام ISLAMIC REPUBLIC OF PAKISTAN لکھا ہے اور جو ہمارے ملک کا آئینی نام ہے تو نام کی درستی کے سلسلے میں قدم اٹھانے میں ہچکچاہٹ یا تنگ نظری کیوں؟۔
سوال اسلام یا ISLAMICکے لفظ کا نہیں سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک کا جو پورا اور صحیح نام ہے وہ کیوں نہ لیا جائے اور کیوں نہ لکھا جائے۔ آپ ایران کو سامنے رکھیں اور ایران سے سبق سیکھیں، آپ ہمت کریں۔ ملیحہ لودھی صاحبہ دس پندرہ منٹ کی ایک تکلیف کریں، یو این او کے سیکرٹری جنرل کو تحریر لکھ بھیجیں۔
قوم کا دل یقیناًخوش ہوگا جب 2019ء کے اجلاس میں ہم اپنے ملک کا نام Islamic Republic of Pakistan دیکھیں گے یہ ایک نہ مٹنے والی تبدیلی ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ