تبدیلی کی دعویدار حکومت کے فرسودہ اقدامات

190

 

ڈاکٹر رضوان الحسن انصاری

پانچ سال سے تبدیلی کا نعرہ لگانے والے، عوام کو ’’نیا پاکستان‘‘ کا سبز باغ دکھانے والے، معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کا دعویٰ کرنے والے اور پاکستان سے باہر پڑے ہوئے اربوں ڈالر ملک میں لانے کا وعدہ کرنے والوں کا اصل چہرہ اس وقت سامنے آیا جب وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں ’’ترمیمی فنانس بل 2018‘‘ پیش کیا جسے معاشی تجزیہ کار اور سنجیدہ طبقے منی بجٹ کا نام دے رہے ہیں جس میں وہی پرانے اور فرسودہ اقدامات کو دہرایا گیا ہے جو اس سے پچھلی حکومتیں کرتی آئی ہیں جب کہ غربت اور مہنگائی میں کمی، روزگار کی فراہمی، صحت اور تعلیمی سہولتوں کی دستیابی اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی، ٹیکس چوری کرنے والی بڑی مچھلیوں کو پکڑنے کے اقدامات جیسی باتیں کہیں گم ہوگئیں۔
اس منی بجٹ کو پیش کرنے کی وجہ موصوف نے یہ بیان کی ہے کہ پچھلی حکومت نے اپریل میں جو بجٹ پیش کیا تھا اس کے اعداد و شمار میں گھپلا تھا۔ مثلاً محاصل کی وصولیابی کی تفصیل غیر حقیقی تھی اور اس میں 350 ارب روپے زیادہ ظاہر کیے گئے تھے۔ اسی طرح خسارہ جو 1800 ارب روپے کا ظاہر کیا گیا تھا جو بڑھ کر 2700 ارب روپے ہوسکتا تھا دوسرے الفاظ میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 7.1 فی صد ہوسکتا تھا اور ہم اس کو کم کرکے 5.1 فی صد تک لانا چاہتے ہیں۔ اسی کے لیے منی بجٹ سے پہلے گیس کی قیمتوں میں 57 فی صد تک اضافہ کرکے تقریباً 150 ارب روپے وصول کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ جب کہ منی بجٹ کے ذریعے ترقیاتی اخراجات میں 300 ارب روپے کم کردیے گئے ہیں۔ تنخواہ دار طبقے پر 25 فی صد انکم ٹیکس اور کاروباری طبقے پر 29 فی صد ٹیکس لگادیا گیا ہے۔ اس طرح مزید 180 ارب روپے وصول کرنے کا انتظام کرلیا گیا ہے، اس کے علاوہ 312 اشیا پر 10 سے 20 فی صد ریگولیٹری ڈیوٹی عاید کردی گئی ہے جب کہ 295 درآمدی اشیا کی ریگولیٹری ڈیوٹی میں 5 سے 10 فی صد اضافہ کیا جائے گا، اس طرح مجموعی طور پر وزیر خزانہ کے الفاظ میں 810 ارب روپے کا وفاقی بجٹ میں اثر پڑے گا اور اس طرح مالیاتی خسارہ کم ہوسکے گا۔ لیکن اس تمام منی بجٹ میں حیرانی کی بات یہ ہے کہ ٹیکس نیٹ میں وسعت دینے کا کوئی اقدام نظر نہیں آیا جو لوگ پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہیں اُن پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا۔ دوسری حیرانی کی بات یہ ہے کہ پچھلی حکومت نے نان فائلر پر 40 لاکھ روپے سے زیادہ کی پراپرٹی خریدنے اور گاڑی خریدنے کی پابندی لگائی تھی تا کہ وہ ٹیکس نیٹ میں آئیں لیکن تبدیلی کے نعرے والی حکومت نے نان فائلر پر یہ پابندی ختم کردی بلکہ اس کا دفاع کیا جارہا ہے کہ یہ بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ تیسری حیران کن بات یہ کہ ترقیاتی اخراجات میں اضافے کے بجائے اس میں کمی کردی جس کا براہ راست اثر معاشرے کے غریب طبقوں پر پڑے گا۔ اس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا، مجموعی قومی پیداوار جو پچھلے سال 5.7 فی صد تک پہنچ گئی تھی اس میں بھی کمی آئے گی اور امکان ہے 5 فی صد سے کم ہوجائے گی۔ مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لیے عوام پر تو ٹیکس لگائے جارہے ہیں لیکن وزیراعظم، وزرا اور گونرر اور وزرائے اعلیٰ کی مراعات، تعیشات میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ اسی طرح بیوروکریسی بھی تمام مراعات، اعزازات، تعیشاتکے اسی طرح مزے لے رہی ہے جیسا پچھلی حکومتوں میں ہوتا تھا اگر ان کے اخراجات میں کمی کی جاتی تو حکومت کو اتنا کچھ مل جاتا جتنا گاڑیوں اور بھینسوں کو نیلام کرنے سے نہیں ملا۔
حقیقت یہ ہے کہ مالیاتی خسارہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور تجارتی خسارے کا حجم اتنا زیادہ ہے جو ان معمولی اور روایتی اقدامات سے کم نہیں ہوگا۔ مثلاً تجارتی خسارہ جو 2016-17 میں 32 ارب ڈالر تھا اب 2017-18 میں 35 ارب ڈالر ہوگیا ہے، باوجود اس کے کہ پچھلی حکومت نے بھی اسی طرح درآمدی اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ کی تھی۔ یہی کام جناب اسد عمر بھی کررہے ہیں، اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح تجارتی خسارہ کم ہوجائے گا تو یہ ان کی بھول ہے، یوں تو ایف بی آر ایک بدنام زمانہ ادارہ ہے جس کی جڑوں میں کرپشن اور بدانتظامی بیٹھی ہوئی ہے مگر وہاں کچھ تجزیہ کار اور مخلص افسران موجود ہیں اُن سے مشورہ کرکے اس مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
اصل میں اسد عمر صاحب نے ایک نجی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے یہ کام کیا ہے اور اس میں وہ کامیاب رہے ہیں مگر ایک نجی کمپنی کا آپریشن اور ملک کی معیشت کا انتظام دونوں کا ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں۔ یہ ضرور ہے کہ موجودہ حکومت نے ایک درجن سے زیادہ ٹاسک فورس قائم کردی ہیں۔ دیکھیں وہ کیا سفارشات دیتی ہیں اور سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ آیا حکومت میں اتنا دم خم ہے کہ وہ مقتدرہ قوتوں، مراعات یافتہ طبقوں اور اپنے ہی دوستوں کے خلاف کوئی قدم اٹھاسکیں، کیوں کہ اس وقت وفاقی کابینہ میں جو لوگ شامل کیے جارہے ہیں اُن میں عمران خان کے دوستوں کی نمایاں تعداد ہے، یہاں تک کہ سید ذوالفقار عباسی جنہیں زلفی بخاری کے نام سے پہچانا جاتا ہے جو پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں جو ابھی تک ای سی ایل میں شامل ہیں اور نیب میں اُن کے خلاف آف شور کمپنی رکھنے کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے ان کو بھی وفاقی کابینہ میں شامل کرلیا ہے، اس طرح وزرا کی تعداد 32 ہوگئی ہے اور ایسے وزرا بھی شامل ہیں جن کے پاس کوئی محکمہ نہیں ہے۔
پاکستانی قوم یہ تماشا دیکھ کر حیران ہے کہ ایک طرف سادگی اور کفایت شعاری کی باتیں ہیں اور دوسری طرف وزرا کی فوج ہے جن کی تنخواہ اور مراعات عوام کے ٹیکسوں سے ادا کی جائیں گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ