یمنی حکومت کا اقوام متحدہ سے عدم تعاون کا اعلان

87
یمن: فریقین کی ہٹ دھرمی کے باعث جنگ کا شکار خاندان کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے
یمن: فریقین کی ہٹ دھرمی کے باعث جنگ کا شکار خاندان کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے

عدن (انٹرنیشنل ڈیسک) یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم سے تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس نے یہ فیصلہ اقوام متحد ہ کے تحت انسانی حقوق کونسل میں یمن کے لیے تحقیقاتی مشن کے مینڈیٹ میں توسیع کی منظوری کے بعد کیا۔ یمنی حکومت نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ وہ ماہرین کے گروپ کے ساتھ نہیں تعاون کرے گی۔اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک کی حیثیت سے یہ اس کا حق ہے کہ اس کے داخلی امور میں مداخلت نہ کی جائے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین نے انسانی حقوق کونسل میں یمن کی صورت حال کے بارے میں اتفاق رائے سے قرار داد منظور نہ ہونے کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا اور کونسل کے ایجنڈے کی دسویں نکتے کے تحت اقدام پر زور دیا تھا۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ یمنی حکومت اور متعلقہ ممالک کی جانب سے مفاہمتی فارمولے کے لیے تعاون کے اظہار کے باوجود انسانی
حقوق کونسل ایک ایسی مشترکہ قرارداد کی منظوری میں ناکام رہی، جو یمن کی صورت حال سے متعلق عالمی برادری کے اتحاد کی مظہر ہوتی۔ تاہم عرب اتحادی ممالک نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر پر زور دیا کہ وہ یمنی حکو مت اور یمن کی قومی کمیٹی برائے تحقیقات کی صلاحیت کار بڑھانے کے لیے ٹیکنیکل معاونت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے۔ عرب اتحاد کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کونسل میں قرارداد کی منظوری کے وقت رکن ممالک میں تقسیم بڑی واضح تھی۔ یہ قرار داد ہالینڈ، بلجیم، کینیڈا، لکسمبرگ اور آئرلینڈ نے پیش کی تھی۔ عرب اتحاد نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ عالمی اور بین الاقوامی ماہرین کی یمن سے متعلق رپورٹ میں واضح سقم تھا۔ اس میں سلامتی کونسل کی قرارداد کے منافی بہت سی باتیں موجود تھیں، بلکہ یہ ان سے بالکل متصادم تھی۔
یمنی حکومت

Print Friendly, PDF & Email
حصہ