بحیرۂ روم میں مہاجر دوست جہاز کے خلاف کشتیوں کی مہم

73
بحیرۂ روم: امدادی جہاز ایکوریس پر موجود تارکین وطن منزل کی تلاش میں پریشان ہیں
بحیرۂ روم: امدادی جہاز ایکوریس پر موجود تارکین وطن منزل کی تلاش میں پریشان ہیں

روم (انٹرنیشنل ڈیسک) بحیرہ روم میں موجود امدادی جہازوں کو مہاجرین کی مدد کرنے کے عمل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سمندر میں مہاجرین کو بچانے والا آخری بحری جہاز ایکوریس بھی اب مشکلات کے بھنور میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ جرمن ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بحیرہ روم میں انسانی ہمدردی کے تحت کمزور کشتیوں پر یورپ پہنچنے والے افریقی مہاجرین کو بچانے والا آخری بحری جہاز ایکوریس ہے۔ اس جہاز کے عملے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اب اسے دوسری
مہاجرین مخالف کشتیوں کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ جہاز نے ان کشتیوں کی مہم کو غیرقانونی قرار ضرور دیا ہے لیکن یہ نہیں واضح کیا کہ یہ مہاجرین مخالف کشتیاں کس کی ملکیت ہیں۔ بظاہر یہ مختلف یورپی ممالک کے کوسٹ گارڈز کی ہو سکتی ہیں۔ ایکوئیریس نامی بحری جہاز کے پاس 56 غیر ملکی تارکین وطن ہیں لیکن وہ انہیں کسی بھی بندرگاہ پر پہنچانے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔ ایکوئیریس ان پناہ گزینوں کو بین الاقوامی سمندری میں مالٹا کے کوسٹ گارڈز کی تحویل دینے کی کوشش میں ہے لیکن کوسٹ گارڈز نے ایکوئیریس کو مہاجرین کی منتقلی یا کسی بھی بندرگاہ پہنچنے سے روک دیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مالٹا کے ساحل پر کھڑی ایسی دوسری کئی کشتیاں ہیں، جو کھلے سمندر میں غیرقانونی تارکین وطن کو بچانے کی کوشش میں مصروف تھیں لیکن اب انہیں بندرگاہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ کشتیاں اب مالٹا سے نکلنے کی قانونی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح جرمن غیر سرکاری تنظیم سی واچ کا بحری جہاز سی واچ تھری بھی مالٹا کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہے اور اسے بھی حکام نے بندرگاہ چھوڑنے سے روک رکھا ہے۔ جرمن غیرسرکاری تنظیم کا موقف ہے کہ مالٹا کے حکام نے اس کے بحری جہاز کو غیرقانونی طور پر روک رکھا ہے۔ سی واچ تھری نامی بحری جہاز رواں برس جون سے لنگر انداز ہے۔ ایسے ہی 2 مزید بحری جہاز بھی مالٹا حکام کی اجازت کے منتظر ہیں۔ سی واچ نامی جرمن غیرسرکاری تنظیم کے مہاجرین کو بچانے کے مشن کے سربراہ ٹامینو بوہم کا کہنا ہے کہ وہ مالٹا حکام سے اجازت کے منتظر ہیں اور جیسے ہی اجازت ملتی ہے، وہ اپنی امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں گے۔ واضح رہے کہ اٹلی میں رواں برس قائم ہونے والی قدامت پسند اور مہاجرین مخالف حکومت کے نائب وزیراعظم ماتیو سالوینی نے بحیرہ روم سے غیر قانونی تارکین وطن کو بچا کر اطالوی سرحدی تک لانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ سالوینی ایسے بحری جہازوں کو ’انسانی اسمگلروں کے بحری جہاز‘ قرار دیتے ہیں۔
بحیرہ روم ؍ مہم

Print Friendly, PDF & Email
حصہ