ترک صدر نے جرمنی میں نئی مسجد کا افتتاح کردیا

326
کولون: ترک صدر رجب طیب اردوان جرمنی کی سب سے بڑی مسجد کے باہر خطاب کررہے ہیں‘ ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سیکڑوں پولیس اہل کار گشت کررہے ہیں
کولون: ترک صدر رجب طیب اردوان جرمنی کی سب سے بڑی مسجد کے باہر خطاب کررہے ہیں‘ ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سیکڑوں پولیس اہل کار گشت کررہے ہیں

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اِردوان نے جرمنی میں ایک اور جامع مسجد کا افتتاح کردیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر اردوان نے ہفتے کے روز کولون شہر میں جامع مسجد کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وہ جرمنی کے دیگر شہروں میں بھی مساجد دیکھنا چاہتے ہیں۔ مسجد کے افتتاح کے موقع پر تقریباً 10 ہزار افراد موجود تھے۔ ترک صدر کے دورہ جرمنی کے دوران کولون میں مختلف احتجاجی مظاہروں کا اہتمام بھی کیا گیا، تاہم اس موقع پر مقامی حکام کی جانب سے سیکورٹی کو ہائی الرٹ رکھا گیا۔اِردوان نے اپنے 3 روزہ دورہ جرمنی کے دوران جمعہ کے روز برلن میں اپنے جرمن ہم منصب فرانک والٹر شٹائن مائر اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے ملاقات کی تھی۔ اِردوان کے اس دورہ جرمنی کو دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنی اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری لانے کا عہد کیا ہے۔ گزشتہ 2 برس کے دوران جرمنی اور ترکی کے مابین تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے جس کی وجہ شہری حقوق اور دیگر امور پر اختلافات بتائے جاتے ہیں۔ برلن میں جرمن چانسلر سے ملاقات میں اِردوان نے کہا کہ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو اپنے تعلقات بہتر بنانا چاہییں۔ بعد ازاں جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے صدر اِردوان کے ساتھ پریس کانفرنس میں دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات اور مہاجرین کے موضوع کا بھی ذکر کیا۔ چانسلر نے اس موقع پر ترکی کے ساتھ بہتر تعلقات کی اہمیت بھی اجاگر کی اور کہا کہ اقتصادی طور پر مضبوط ترکی جرمنی کے مفاد میں ہے۔ مرکل نے مزید کہا کہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی دونوں رکن ریاستیں اس بات پر متفق ہیں کہ اگلے مہینے روسی اور فرانسیسی صدور کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں شامی بحران پر بات کی جائے گی۔ دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات میں تاہم آزادی اظہار سے لے کر دوہری شہریت رکھنے والے ان جرمن شہریوں کے حوالے سے کوئی بھی اتفاق رائے سامنے نہیں آیا، جو ترک جیلوں میں قید ہیں۔ ساتھ ہی یہ معاملہ بھی طے نہیں ہو سکا کہ کیا جرمنی کو ان افراد کو ملک بدر کر دینا چاہیے جنہیں صدر اردوان اپنا اور ترک ریاست کا دشمن قرار دیتے ہیں۔ صدر اردوان نے اس موقع پر جرمنی سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ترک صدر ؍ جرمنی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ