اقوام متحدہ کشمیر میں بھارتی قتل عام کی تحقیقات کرے، پاکستان

147
نیویارک، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریس سے مصافحہ کررہے ہیں
نیویارک، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریس سے مصافحہ کررہے ہیں

نیویارک(خبر ایجنسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت ہمارے صبر کا امتحان نہ لے، بھارت نے اگر سرحد پر کوئی مہم جوئی کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا، مسئلہ کشمیر میں قتل و غارت پر اقوام متحدہ ایک آزاد کمیشن تشکیل دے۔کلبھوشن پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہیسمجھو تا ایکسپریس میں جاں بحق ہونے والے بے گناہ پاکستانیوں کوکبھی نہیں بھولیں گے جن کے قاتل بھارت میں آزاد پھر رہے ہیں۔گستاخانہ خاکوں سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی،اسلام دشمنی کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔اقوام متحدہ کے 73 ویں جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے موجودہ انتخابات میں تبدیلی کے لیے ووٹ دیا اور اپنی مرضی کی حکومت لائے، عمران خان کی قیادت میں ہم نے نئی پاکستان کی داغ بیل ڈالی، دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے، پاکستان کو تنہا کرنے کی قوتیں غالب ہوتی نظر آرہی ہیں، پاکستان اپنے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ آج دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے، دنیا کے بنیادی اصول متزلزل دکھائی دے رہے ہیں،برداشت کی جگہ نفرت اور قانون کی جگہ اندھی اور بے لگام طا قتیں غلبہ پارہی ہیں، دنیا میں نئیراستوں کی جگہ رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں ، نفرتوں کی فصلیں کھڑی کی جارہی ہیں، سامراجیت کی نئی شکلیں پروان چڑھ رہی ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تجارتی جنگ کے گہرے بادل افق پر نمودار ہوچکے ہیں، دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی اتفاق رائے کی جگہ ایک مبہم عسکری سوچ نے لے لی ہے یہ عمل عالمی امن کے لیے خطرناک ہے،عالمی تنازعات کے ساتھ ساتھ نئے تفرقات جنم لے رہے ہیں، مسئلہ فلسطین آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ناموس رسالتﷺ کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سب کے سامنے ہے، دیگر مذاہب کی جانب سے جہاں برداشت کے نظریات ہونے چا ہییں وہاں اب نفرتوں نے جنم لیا ہے، ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کا جو منصوبہ بنا اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی، ہم اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کی مدد سے تہذیبوں کے درمیان تصادم روکیں گے اور اسلام دشمنی کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات کا حل چاہتے ہیں، اقوام متحدہ کے اس اجلاس میں پاک بھارت متوقع ملاقات ایک اچھا موقع تھا جس میں تمام معاملات پر بات چیت ہوتی لیکن مودی حکومت نے منفی رویے کی وجہ سے موقع تیسری بار گنوا دیا، بھارتی قیادت نے امن پر سیاست کو فوقیت دی، ایک ڈاک ٹکٹ کو بنیاد بنایا جو مہنیوں پہلے جاری ہوا، بھارت جان لے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے جس سے دیرینہ مسائل حل ہوسکتے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر خطے کے امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جسے 70 سال ہوگئے، یہ امن اس وقت تک قائم نہیں ہوگا جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، یہ مسئلہ انسانیت کے ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے باشندے 70 سال سے انسانی حقوق کی پامالی سہتے آئے ہیں، یو این او کی حالیہ رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں جس میں کشمیر میں ریاستی جبر کا مکروہ چہرہ دکھایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج نے کیا کیا مظالم ڈھائے۔شاہ محمود قریشی نے بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی آڑ میں اب بھارت کشمیر میں منظم قتل و غارت کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکے گا، ہم کشمیر میں قتل و غارت پر ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں جو ذمہ داروں کا تعین کرے، اب یہ عمل ناگزیر ہوگیا ہے، امید کرتے ہیں کہ بھارت بھی کمیشن کو تسلیم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں قابض افواج کی درندگی سے نظر اٹھانے کے لیے بھارت ایل او سی پر فائرنگ کرتا ہے، بھارت کو ہمارے صبر کا امتحان نہیں لینا چاہیے، اگر وہ ہم پر حملے کی غلطی کرتا ہے تو اسے پاکستان کی جانب سے بھرپور رد عمل کا سامنا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں کچھ طاقتوں کی جانب سے اسلحے کی غیر منصفانہ فروخت جاری ہے لیکن ہم اسلحے کی دوڑ کی روک تھام کے لیے تیار ہیں، جنوبی ایشیا میں ایک ملک کی وجہ سے سارک کی تنظیم کو غیر فعال کردیا گیا ہے لیکن ہم سارک کو فعال کرنا چاہتے ہیں تاکہ جنوبی ایشیا میں غربت کے خاتمے کے لیے اقدمات کیے جائیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم 17 سال سے دہشت گردی کی جنگ سے نبرد آزما ہیں، دو لاکھ افواج کی مدد سے دنیا کا سب سے بڑا آپریشن کیا، آج بھی ہمارا مشرقی ہمسایہ دہشت گردوں کی مالی مدد اور معاونت کررہا ہے اور ہزاروں جانوں کا ضیاع اس کا نتیجہ ہے، ہم پاکستان میں ہونے والے حملوں میں ہندوستان کی معاونت،سمجھو تا ایکسپریس میں جاں بحق ہونے والے بے گناہ پاکستانیوں کوکبھی نہیں بھولیں گے جن کے قاتل بھارت میں آزاد پھر رہے ہیں، سانحہ اے پی ایس اور سانحہ مستونگ کے ذمہ داروں کو بھارتی پشت پناہی حاصل تھی، اقوام متحدہ کو شواہد دے چکے ہیں، ہماری تحویل میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی موجودگی اور اس کی فراہم کردہ تفصیلات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کو ہندوستان کی پشت پناہی حاصل ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان داعش کی بڑھتی ہوئی عمل داری ہے، پاکستان اور افغانستان نے ایکشن پلان کو عملی جامہ پہنایا ہے، پاکستان پناہ گزینوں کی سب سے بڑی آماجگاہ ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، پاکستان کی قربانی کا اندازہ لگایا جائے کہ اس سے زیادہ وسائل کے ممالک پناہ گزینوں کو پناہ نہیں دیتے، ہم افغان پناہ گزینوں کی جلد اور رضاکارانہ واپسی کے خواہش مند ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 17 سالہ جنگ عسکری ذرائع سے نہیں جیتی جاسکتی ہے، پاکستان، افغانستان کے امن کے لیے بھرپور حمایت کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے انتقال پر دلی افسوس کا اظہار کرتا ہوں، آنجہانی کوفی عنان کی اقوام متحدہ کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے روشناس کرانے کے لیے اہم کردار ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی مسائل کے لیے پاکستان کی تجاویز بھی پیش کیں اور اقوام عالم کے فعال رکن کے طور پر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ میں قومی زبان اردو میں خطاب کیا۔ قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ا نتونیو گتریس سے ملاقات کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھا دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے کردار ادا کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پْر امن حل کشمیریوں کی خواہشات کا عکاس ہونا چاہیے۔انہوں نے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ بھارت سے کہا جائے کہ وہ مہم جوئی سے باز رہے۔علاوہ ازیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے دیرینہ اتحادی امریکا کے ساتھ تعلقات کی بہتری چاہتا ہے جبکہ امریکی انتظامیہ نے خطے میں اپنی ترجیحات کو تبدیل کرلیا ہے اور وہ بھارت کے ساتھ اپنے تذویراتی تعلقات کو بڑھا رہا ہے۔ نیویارک میں ایشیاء سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن وامان کا خواہشمند ہے لیکن دوسری جانب بھارت مذاکرات سے فرار اختیارکررہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ