بائیو میٹرک اور انٹرنیٹ ووٹنگ سسٹم

111

 

 

سمندر پار پاکستانیوں کے لیے ای ووٹنگ کا معاملہ ایک عرصے سے زیر غور ہے۔ الیکشن کمیشن نے ملکی انتخابات سے قبل اپریل میں عدالت عظمیٰ کے حکم پر انٹرنیٹ ووٹنگ ٹاسک فورس (آئی وی ٹی ایف) قائم کی تھی، تاکہ نادرا کے تیار کردہ انٹرنیٹ ووٹنگ کا تکنیکی آڈٹ کر کے معلوم کیا جا سکے کہ ای ووٹنگ کا استعمال کتنا محفوظ اور قابل عمل ہے۔ ٹاسک فورس نے اپنی رپورٹ میں اس نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ رپورٹ میں کہا گیاکہ ای ووٹنگ نظام میں ووٹ خریدے جانے کے خدشات ہیں۔ اسی طرح ووٹر کو بھی ممکنہ طور پر دباؤ میں لایا جاسکتا ہے۔ یہ ووٹنگ بیرون ملک ہو گی، جہاں پاکستان کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا، اس لیے ووٹوں کی خرید و فروخت کے خلاف الیکشن کمیشن کوئی بھی کارروائی نہیں کر سکے گا۔ اسی طرح اس سسٹم میں ووٹ کو راز میں رکھنے کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا، جو ملکی قوانین کے خلاف ہے۔ اس موقع پر آئی وی ٹی ایف نے ایک بھونڈی تجویز پیش کی کہ اوورسیز لوگوں کے لیے ڈاک یا سفارت خانے کے ذریعے ووٹنگ کا نظام متعارف کرایا جائے۔ حالاں کہ اس صورت میں راز داری کس طرح پامال ہوگی کسی سے مخفی نہیں ہے۔
ای ووٹنگ سسٹم سے جڑا ایک مسئلہ بائیو میٹرک ووٹنگ سسٹم ہے، جس کا مقصد پاکستان میں موجود لوگوں کو جدید مشینی طریقے سے ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ جولائی کے انتخابات میں ایسے مناظر کثرت سے دیکھنے میں آئے کہ پولنگ عملے کی بے پروائی اور سست روی کے باعث وقت ختم ہوگیا اور لوگوں کو بنا ووٹ ڈالے ہی گھروں کو لوٹنا پڑا۔ اسی طرح کئی حلقوں میں یہ شکایت سامنے آئی کہ مقررہ پولنگ اسٹیشن کے بجائے کہیں دور کا پتا دے دیا گیا اور لوگوں نے تنگ آکر ووٹ دینے کا ارادہ ہی ملتوی کردیا۔ ووٹنگ کا نظام خواہ وہ ای ووٹنگ ہو یا بائیو میٹرک، حکومتی سطح پر اسے بہت محفوظ سمجھا جارہا ہے۔ اس تناظر میں نئی حکومت نے آتے ہی ضمنی انتخابات میں بیرون ملک بسنے والوں کے لیے اس نظام کو متعارف کرانے کا اعلان کردیا ہے۔ گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے رہنما رضاربانی کا ایک بیان سامنے آیا کہ ای ووٹنگ سسٹم دھاندلی کے لیے متعارف کرایا جارہا ہے۔ حالیہ الیکشن کے تناظر میں ربانی صاحب اگر اسے ’’دھاندلی میں آسانی‘‘ کے الفاظ سے تعبیر کرتے تو قدرے موزوں ہوتا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس نظام میں دھاندلی کے امکانات کہیں زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ بیلٹ پیپرز سے کی جانے والی ووٹنگ کا کسی نہ کسی درجے میں ثبوت موجود ہوتا ہے۔ جتنی بھی دھاندلی ہو بالآخر کسی کچرا کنڈی یا تنور پر روٹیوں تلے بیلٹ پیپرز برآمد ہوہی جاتے ہیں۔ آج کا زمانہ سوشل میڈیا کا ہے۔ لوگ جعلی بیلٹ پیپرز سے بھرے ہوئے بیلٹ باکس کی آمد ورفت کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرلیتے ہیں اور دھاندلی کی قلعی کھل جاتی ہے۔ جہاں تک بائیو میٹرک سسٹم کا تعلق ہے۔ تو یہ نظام خلائی مخلوق سے بھی زیادہ غیر مرئی ہے۔ اس نظام میں الیکٹرونک بیلٹ استعمال ہوتے ہیں۔ ووٹر پولنگ اسٹیشن میں اپنا ووٹ ڈالتا ہے ۔ اس کے بعد ووٹ انتخابی حلقے تک پہنچایا جاتا ہے۔ اور آخر میں حتمی طور پر ملکی سطح پر الیکشن کمیشن کو ارسال کردیا جاتا ہے۔ ووٹ ڈالنے کی جتنی بھی وڈیو بنالیں آپ کو معلوم نہیں ہوگا کہ ووٹ آگے پہنچا بھی یا نہیں۔ اس کے بعد دھاندلی کرنے والے کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے 21ارب روپے خرچ کرنے اور افرادی قوت صرف کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ بیٹھے بیٹھے ایک پارٹی کے ووٹوں کو کروڑوں اور دوسری کے لاکھوں میں تبدیل کرنے کے لیے صرف ہندسوں والے ایک کی بورڈ کی ضرورت پڑے گی۔ اس سسٹم کے نتائج پر نہ تو کسی کو انگلی اٹھانے کی جرأت ہوگی اور نہ ہی ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہوسکے گی۔ نہ تو یورپی یونین کے مبصر کچھ تبصرہ کرسکیں گے اور نہ ہی جاپانی میڈیا اور سی این این کو کوئی سراغ ملے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے بقول سمندر پار بسنے والے پاکستانیوں کی تعداد 80 سے 90 لاکھ ہے۔ ذرا تصور کیجیے ایک ایک فرد کو گننے والے جمہوری نظام میں اگر اتنی بڑی تعداد کے جعلی ووٹ شامل ہوجائیں تو کتنی جگ ہنسائی ہوگی۔
یہ تمام حالات صرف اس صورت میں پیش آئیں گے، جب ہمارے تصور میں دھاندلی حکومتی سطح پر ہو۔ اس نظریے کو ذرا وسعت دیں تو معاملہ خلائی مخلوق اور محکمہ زراعت کی گرفت سے نکل کر ایلینز اور اڑن طشتریوں کی افواہیں پھیلانے والوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔ یہ سسٹم ہمارا دیسی ساختہ نہیں ہے۔ اسی طرح استعمال ہونے والے کمپیوٹر بھی ہمارے تیار کردہ نہیں ہیں۔ ہماری قوم تو ویسے بھی اچھے سے اچھے کے نام پر امریکی اور جاپانی اور کورین مصنوعات کو ترجیح دیتی ہے۔ پھر اس بات کی کیا ضمانت ہوگی کہ وہ سسٹم میں اپنی مداخلت کے لیے کوئی چور دروازہ نہ بنائیں۔ اور یہ کیونکر ممکن ہوگا کہ ہمارے ماہرین اس پر مطلع ہوجائیں۔ بائیو میٹرک ووٹنگ کا پورا سسٹم سرتا پا نادرا کے جمع شدہ ڈیٹا پر منحصر ہے۔ اور نادرا خود کس حد تک محفوظ ہے اسے عوام اچھی طرح جانتے ہیں۔ ماضی میں امریکا کو ڈیٹا دیے جانے کے حوالے سے اسکینڈلز سامنے آچکے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ علاقائی کونسلرز سے لے کر وزیر اعظم تک کے فیصلے پینٹاگون سے ہوا کریں گے۔ دنیا پر عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کے لیے پہلے ہی کوششیں ہورہی ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا ملک براہ راست متاثر ہونے والوں میں سے ایک بن جائے۔
ان سب باتوں کو بالائے طاق رکھ کر ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ ہمارے حکمراں دودھ کے دھلے اور دنیا کے تمام ممالک پاکستان کے ساتھ مخلص ہیں۔ اس کے بعد بھی کیا خطرات ٹل جائیں گے؟ دنیا میں اس وقت ہیکرز اور سائبر کرائمز کا راج ہے۔ ہما شما سب سے اس سے متاثر ہیں۔ 2017ء میں wannacry نامی وائرس نے دنیا بھر میں تہلکا مچا دیا تھا۔ ہیکرز نے اس وائرس کے ذریعے مائیکروسافٹ استعمال کرنے والے کمپوٹرز پر تالے ڈال دیے، جس کے بعد بھاری تاوان کی ادائیگی کے بعد ہی لوگوں کو اپنا ڈیٹا مل پایا۔ ماضی میں چینی ہیکرز پینٹاگون کے کمپیوٹرز پر ہاتھ صاف کرچکے ہیں۔ روس اور امریکا کے درمیان سائبر وار جاری ہے۔ 2016ء کے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت اور اس کے بارے میں تحقیقات کا حال سب کو معلوم ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ نے الزام لگا یا ہے کہ اس معاملے میں چینی ہیکرز کا ہاتھ تھا۔ شمالی کوریا کے حوالے سے بھی واشنگٹن کا موقف سامنے آیا کہ پیانگ یانگ سائبر کرائم میں ملوث ہے۔ گزشتہ سال پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر بھارتی ہیکرز نے محکمہ دفاع جیسے حساس ادارے کے کمپیوٹرز ہیک کرکے ان پر بھارتی ترنگا اور ترانا لگا دیا تھا۔ ایران میں پرتشدد احتجاج کے دوران ہیکرز نے خرم شہر کے ائرپورٹ کی کمپیوٹر سیکورٹی کو ہیک کرکے اشتعال انگیز اعلانات اور دھمکیوں کے ٹکر چلادیے تھے۔
موضوع کی مناسبت سے ایک سب سے بڑی مثال۔ استونیا بلقانی خطے کا ایک افریقی ملک ہے۔ یہ یورپ کے شمالی علاقے میں واقع ہے۔ شمالی جانب سے سرحد فن لینڈ سے ملی ہوئی ہے، جب کہ مغرب میں بحر بالٹک نے اس کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ استونیا میں2014ء کے پارلیمانی انتخابات میں الیکٹرونک ووٹنگ سسٹم استعمال کیا گیا۔ اس دوران کمپیوٹرز نے خطرے کے الارم بجا دیے۔ ہیکرز نے سسٹم کو آسانی سے ہیک کرکے بڑی کامیابی سے جعلی ووٹ اپ لوڈ کر دیے۔ بعد میں حکومت نے اس حوالے کئی اقدامات بھی کیے، لیکن اس نظام پر سوالیہ نشان لگنے سے نہ بچاسکی۔
ایک دلچسپ بات یہ کہ استونیا دنیا کا واحد ملک ہے جہاں 99 فی صد عوامی سروسز آن لائن مہیا کی جاتی ہیں۔ نکاح و طلاق سے لے کر جائداد کی خرید وفروخت تک ہر چیز ای سسٹم کے تحت ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی افرادی قوت بچا کر 800 سال محفوظ کرلیے ہیں۔ ہماری موجودہ تبدیلی پسند حکومت کے لیے شاید وہ آئیڈیل ملک بن سکے لیکن خیال رہے کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنی چال بھی بھول جائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ