جولان کراسنگ دوبارہ کھولنے کی اسرائیلی پیشکش

73
جولان: شام اور اسرائیل کے درمیان قائم سرحدی گزرگاہ بند پڑی ہے‘ صہیونی فوجی گشت اور نگرانی کررہے ہیں
جولان: شام اور اسرائیل کے درمیان قائم سرحدی گزرگاہ بند پڑی ہے‘ صہیونی فوجی گشت اور نگرانی کررہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ شام کے ساتھ مشترک سطح مرتفع جولان پر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی گزرگاہ کھولنے پر راضی ہے۔ یہ بات اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈر لائبرمین نے جولان کے دورے کے موقع پر کہی۔ خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسدی فوج نے مزاحمت کاروں سے علاقہ چھین لیا ہے، اس لیے اب قنیطرہ کی سرحدی گزرگاہ کھولی جاسکتی ہے۔ تاہم اس سہولت کی بحالی کے تمام عملی امور شام پر منحصر کرتے ہیں۔ دوسری جانب اسد حکومت نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے دمشق کو ایس 300طرز کے جدید ترین فضائی دفاعی
نظام مہیا کیے جانے کے بعد اسرائیل اب شام پر مزید کوئی نیا فضائی حملہ کرنے سے قبل کئی بار سوچنے پر مجبور ہو گا۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ماسکو حکومت نے اسی ہفتے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ روس شام کو اپنے تیار کردہ انتہائی جدید طرز کے ایس 300 نامی فضائی دفاعی میزائل سسٹم مہیا کرے گا۔ ماسکو حکومت نے یہ فیصلہ اس واقعے کے محض ایک ہفتے بعد کیا تھا، جب شام پر ایک نئے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد اسدی فوج نے غلطی سے ایک روسی طیارہ مار گرایا تھا۔ اس طیارے میں سوار تمام 15 روسی فوجی مارے گئے تھے۔ روس نے اپنے اس طیارے کی تباہی کے بعد اس کا الزام اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے یہ فضائی حملہ شام میں ایک بڑے روسی طیارے کو دوران پرواز اپنے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کیا تھا۔ اس سلسلے میں شامی نائب وزیر خارجہ فیصل المقداد نے اب نہ صرف شام کے لیے روسی ایس 300 ائر ڈیفنس میزائل سسٹم کی عن قریب فراہمی کا خیر مقدم کیا ہے، بلکہ ساتھ ہی انہوں نے یہ تصدیق بھی کی کہ ماسکو حکومت کے وعدوں کے مطابق یہ میزائل سسٹم آیندہ 2 ہفتوں کے اندر اندر شام پہنچ جائیں گے۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ شام میں یہ نئے میزائل سسٹم روس ہی کے بنائے ہوئے ایس 200 طرز کے میزائل سسٹم کی جگہ لے لیں گے۔ جدید ترین ایس 300 طرز کے میزائل سسٹم کے مقابلے میں ایس 200 میزائل سسٹم بہت پرانے ہیں، جو سوویت دور میں تیار کیے گئے تھے۔ اسد حکومت کی 2013ء میں کی گئی ایک درخواست پر روس دمشق کو یہ میزائل بہت پہلے فراہم کر دینا چاہتا تھا، تاہم ماضی میں ماسکو نے اپنا یہ فیصلہ اسرائیل کی درخواست پر مؤخر کر دیا تھا۔ اس سلسلے میں شامی نائب وزیر خارجہ فیصل المقداد نے دمشق میں کہا کہ میرے خیال میں اسرائیل جو مختلف بہانے بنا کر بار بار فضائی حملے کرنے کا عادی ہو چکا ہے، اب شامی سرزمین پر کوئی بھی نیا فضائی حملہ کرنے سے قبل بہت محتاط انداز میں سوچنے پر مجبور ہو جائے گا۔ شام کی سرکاری نیوز ایجنسی نے المقداد کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اب اسرائیل کو کوئی بھی ایسی کوشش کرنے دیں۔ ہم اپنا دفاع ایسے ہی کریں گے، جیسے ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔ شامی نائب وزیر خارجہ کے الفاظ میں اسرائیل کے لیے اب یہ لازمی ہوگیا ہے کہ وہ ایک بار بھی شام پر کوئی نیا حملہ کرنے سے پہلے کئی بار سوچے۔
جولان کراسنگ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ