قومی اسمبلی: فواد چودھری بے قابو، اپوزیشن کا واک آؤٹ

185
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے ہیں

اسلام آباد(خبرایجنسیاں) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری قومی اسمبلی کے اجلاس میں بے قابوہوگئے اورمخالفین کے خلاف کھل کر نازیبا زبان کا استعمال کیا۔ اسپیکر نے کئی بارانہیں ٹوکا لیکن وہ نہیں مانے۔ اس دوران ایوان میں فواد چودھری کے خلاف نعرے لگے اور انہیں لوٹا لوٹا بھی کہا گیا۔ایوان میں گرما گرمی ہوگئی اور اپوزیشن ارکان احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے۔ جمعرات کو اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کے خورشید شاہ پر الزام پر مبنی ٹوئٹ کا معاملہ اٹھا دیا، انہوں نے کہا کہ کسی ثبوت کے بغیر الزام لگانے سے استحقاق مجروح ہوا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات اس الزام کو ثابت کریں۔فواد چودھری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکو کو ڈاکو کہہ دیں تویہ لوگ برامان جاتے ہیں، سب چوروں کا کڑا احتساب ہونا چاہیے، قومی اداروں کو تباہ کرنے والوں اور چوروں کو پکڑیں گے۔ پچھلے کچھ برسوں میں ملک کے اداروں کو کھوکھلا کیا گیا، یہ لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ ہم ناتجربہ کار لوگ ہیں لیکن جس طرح دو تین دہائیوں سے ملک چلایا گیا ایسے ملک نہیں چلے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی آئی اے، ریڈیوپاکستان اور پاکستان اسٹیل کو تباہ کردیا گیا، بیرون ملک ٹیکسی چلانے والے کو ڈی جی ریڈیو پاکستان بنادیا گیا، خورشیدشاہ نے پی آئی اے میں خلاف میرٹ سیکڑوں لوگ بھرتی کرائے، انہوں نے 3دن میں 800 لوگ بھرتی کیے، مشاہد اللہ نے اپنے بھائی اورکزن کوپی آئی اے میں اہم عہدوں پر فائز کرایا، جس طرح انہوں نے خزانے کو لوٹا ، ملکی دولت کو عیاشیوں میں اڑایااس طرح تو کوئی ڈاکے کے پیسے مجرے پربھی نہیں لٹاتا۔اسپیکر نے ایک مرتبہ پھر فواد چودھری کو ٹوکتے ہوئے کہا آپ کے الفاظ حذف کردیتے ہیں جس پر ان کا کہنا تھا اسپیکر صاحب آپ ان سے محبت کا اظہار ضرور کریں، یہ داستان لوگ سننا چاہتے ہیں، میری بات مکمل کرنے دیں، یہ لوگ تو سارے ایسے ہی بیٹھے ہیں ،مجھے پاکستان کے لوگ سنیں گے۔فواد چودھری کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ نے کہا کہ ذمے دار وزیر نے گھٹیا زبان استعمال کی،غلط افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، جہاں مجراہوتا ہے سب کو پتا ہے، متعلقہ وزیرایوان سے معافی مانگیں، جب تک وہ معافی نہیں مانگیں گے ایوان میں نہیں آئیں گے، جس کے بعد پیپلز پارٹی کے اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ وزیر اطلاعات معافی مانگیں ورنہ ہمیں بھی مجبوراً واک آؤٹ کرنا پڑے گا۔ جس کے بعد اپوزیشن جماعتیں ایوان سے واک آؤٹ کرگئیں۔فواد چودھری نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر معذرت کرلی ۔اسپیکر نے وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان کو اپوزیشن کو منانے کے لیے بھیج دیا۔بعدازاں اسپیکر نے فوادچودھری کے الفاظ کارروائی سے حذف کرادیے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ