سراج الحق کی زیر صدارت جیورسٹس کانفرنس، ناموس انبیا پر عالمی قانون سازی کا مطالبہ

359
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق جیورسٹس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں‘ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری‘ منظور گیلانی‘ احمر بلال صوفی ‘ لیاقت بلوچ ودیگر بھی شریک ہیں
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق جیورسٹس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں‘ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری‘ منظور گیلانی‘ احمر بلال صوفی ‘ لیاقت بلوچ ودیگر بھی شریک ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والی جیورسٹس کانفرنس میں فیصلہ کیا گیاہے کہ تحفظ ناموس رسالت اور ختم نبوت ؐپر عالمی قانون سازی کے لیے جنوری 2019 ء میں لندن اور جنیوا میں انٹر نیشنل جیورسٹس کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا ۔ کانفرنسوں کے انتظامات کے لیے سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری ، چیف جسٹس (ر) منظور گیلانی ، احمر بلال صوفی ، اسد اللہ بھٹو ایڈووکیٹ پر مشتمل
کمیٹی قائم کر دی گئی ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ مقدس ہستیوں کی توہین کو جرم قرار دینے سے متعلق ملکی اور عالمی سطح پر قوانین بنانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ، جس طرح ممالک کے آپس میں معاہدے ہوتے ہیں اس طرح مقدس ہستیوں کی شان کا تحفظ کرنے کے لیے بھی معاہدے کیے جائیں ورنہ دنیا میں ہر طرف فساد ہی فساد ہو گا ۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے کہا کہ ختم نبوتؐ قانون کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں 295سی پر اثر انداز ہونے کے لیے سینیٹ میں بھی ایک بل پیش ہوا ہے کسی قانون میں مدعی کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی سینیٹ ایسا کوئی قانون پاس نہ کرے جس سے 295سی پر اثر پڑے ،راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ اور جسٹس شوکت صدیقی کے فیصلے پر من وعن عمل کیا جائے۔ کانفرنس سے سینیٹر سراج الحق کے علاوہ سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری، جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، ایڈووکیٹ اسد اللہ بھٹو اورمایہ ناز بین الاقوامی ماہر قانون احمر بلال صوفی نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں سابق امیرجماعت اسلامی آزاد کشمیرو رکن قانون ساز اسمبلی عبدالرشید ترابی، سابق چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر منظور گیلانی،رکن قومی اسمبلی مولانا اکبر چترالی، اشتیاق احمد ایڈووکیٹ عدالت عظمیٰ ، سید انور شاہ ، شیخ احسن الدین ، ملک محمد عامر، توفیق آصف، جاوید سلیم شورش،ضیا الدین انصاری ، خان افضل خان ایڈووکیٹ و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کانفرنس میں شرکت اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا ہوں رسولؐ کی محبت اور شان رسالت کے تحفظ کے لیے ہم یہاں اکٹھے ہوئے ہیں کانفرنس میں صرف شعبہ قانون کے لوگوں کو مدعو کیا گیا ہے تا کہ وہ اس معاملے پر قوم کی رہنمائی کریں پاکستان کو بے شمار مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے مگر سب سے بڑا مسئلہ نبی ؐ کی شان میں کی جانے والی توہین کا ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور یہ ہمارے غیرت ایمان کے لیے بھی چیلنج ہے اگر مسلمان امت رسولؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐ کی شان کی حفاظت کے لیے کھڑی نہیں ہو سکتی تو اس کو مر جانا چاہیے کیونکہ اس کے بعد امت کی کوئی ضرورت نہیں ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی رسولؐ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا یہی وجہ ہے کہ جب بھی ایسے اقدام کا اعلان کیا جاتا ہے تو مسلمان احتجاج کرتے ہیں جس پر یہ عارضی طو رپر ملتوی ہو جاتا ہے مگر وہ اس کو ختم نہیں کرتے ۔انہوں نے کہا کہ ہالینڈ کے سفیر سے میں نے گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے ملاقات کی اور ان کو مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کیا پُرامن دنیا کے لیے ضروری ہے کہ تمام مذاہب کی مقدس ہستیوں کی عزت کی جائے جس پر انہوں نے ہمارے اس مطالبے کو تسلیم کیا، پاکستان کی سطح پر قانونی ماہرین کو اکٹھا کر کے پہلے ملک کے اندر اور پھر عالمی سطح پر مقدس ہستیوں کی توہین کو جرم قرار دینے کی تحریک اٹھائیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ جس طرح ممالک کے درمیان معاہدے ہوتے ہیں اس طرح مقدس ہستیوں کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر معاہدہ کیا جائے ۔یہ اجلاس اس کے لیے ایک قطرہ ہے اگر ہم اخلاص سے جدوجہد جاری رکھیں گے تو یہ سمندر بن جائے گا اور ہم کامیاب ہوں گے ،توہین مذہب کے حوالے سے ہندوستان میں سب سے پہلے محمد علی جوہر نے تحریک شروع کی اور اس وقت متحدہ ہندوستان کے آئین میں توہین رسالت کو جرم قرار دیا گیا، پاکستان بننے کے بعد آئین کے اندر 295سی کا اضافہ کیا گیا مگر آج بین الاقوامی برادری 295سی کو ختم کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے مسلمان ہر قسم کی قربانی دے سکتے ہیں مگر شان رسالت کے قانون میں کسی صورت تبدیلی برداشت نہیں کر سکتے قادیانی فتنے کو بھی آئین پاکستان نے واضح کیا مگر آج تک آئین پاکستان کو بھی قادیانیوں نے قبول نہیں کیا اور اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مقدس ہستیوں کی توہین کا قانون بنایا جائے تا کہ کوئی جرأت نہ کر سکے کہ وہ مقدس ہستیوں کی توہین کریں۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ جماعت اسلامی نے جیورسٹ کانفرنس کر کے اچھا اقدام اٹھایا ہے ناموس رسالتؐ کا تحفظ اور گستاخی کرنے والوں کا سدباب کیا جائے جس کے لیے ضروری ہے کہ ایک باقاعدہ فورم بنایا جائے جو اس مسئلے کو دیکھے دیگر مذاہب کے لوگ اپنے مذہب کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرتے اس طرح ہم بھی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ شان رسالتؐ میں کوئی گستاخی کرے ،دنیا میں ترقی رسولؐؐکی تعلیمات کی وجہ سے ہوئی ہے۔ 295سی کو ختم کرنے کے بارے میں مغرب ہمیشہ ہم پر دباؤ ڈالتا رہا ہے یہ لوگ اسلام کے اصولوں اور تعلیمات کے خلاف ہیں ہمیں ان پر واضح کرنا ہو گا کہ ہم خاتم النبین ؐ کی ذات کے متعلق کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتے ،ختم نبوتؐ کا قانون ہمارے دستور کا حصہ ہے، اس کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوتا، ختم نبوتؐ کا قانون پاس کرنے والی اسمبلی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو بتا دیا ہے کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے، مسلمان صرف وہی ہے جو رسولؐ کے آخری نبی ہونے پر یقین رکھے گا ۔انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کے حوالے سے جسٹس شوکت صدیقی نے جو فیصلہ دیا ہے اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے، ہمارے لیے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ 10ہزار سرکاری ملازمین نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے آپ کو قادیانی لکھا ہے جو مسلمان بن کر نوکریاں کرتے رہے۔ راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ میں جن کے نام ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ، 295سی میں تبدیلی کے لیے ایک بل سینیٹ میں پیش کر دیا گیا ہے جس کو متعلقہ قائمہ کمیٹی میں بھیج دیا گیا ہے جس کے تحت اگر کوئی گستاخی کرنے والے کے خلاف درخواست دیتا ہے اور عدالت میں وہ ثابت نہ ہو تو اس کو بھی سزائے موت ملے گی ،دنیا میں اس طرح کا کوئی قانون موجود نہیں ہے کہ مدعی اور ملزم کو ایک ہی طرح کی سزا دی جائے ،یہ ختم نبوتؐ کے قانون کے خلاف سازش ہے ،سینیٹ کو 295سی میں تبدیلی کرنے یا اس پر اثر انداز ہونے والا کوئی بھی قانون پاس نہیں ہونا چاہیے ،ختم نبوتؐ کے خلاف سازش ہمارے ایمان پر حملہ ہے ختم نبوتؐ کے قانون کو ختم کرنا بین الاقوامی ایجنڈے کا حصہ ہے، ہم اس طرح کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے ،ختم نبوتؐ قانون کی حفاظت اگر ہم نہ کر سکیں تو ہمیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ۔جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ جیورسٹس کانفرنس کا مقصد حکومت کی آستینوں میں چھپے ہوئے ان لوگوں کی نشاندہی کرنا ہے جو اسلام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ان کو متنبہ کرنا ہے جو انسانی حقوق کی آڑ میں قادیانیوں کو مسلمان قراردینے کی سازشیں کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر شعائر اسلام کی توہین کی جا رہی ہے ،مذاہب کے درمیان فساد کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کو روکنے کے لیے اس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے ،معروف عالمی ماہر قانون احمر بلال صوفی نے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ علمی اور تحقیقی حوالے سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے ہمیں علم اور قانون کی روشنی میں مقدس ہستیوں کی توہین کا حل کرنا چاہیے علمی طور پر آگے بڑھنا سنت رسولؐ ہے رسولؐ نے بین الاقوامی معاہدے بھی کیے جنگ کے اصول بھی متعین کیے رسولؐ کی شان میں توہین پر ہمیں بھرپور جواب دینا چاہیے، ہمارے ہاں جذباتی احتجاج اور قراردادیں پاس کر دی جاتی ہیں مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ،پوری مسلم دنیا میں تحقیقی اور علمی حوالے سے کوئی کام نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے آرٹیکل 18،19اور20کو بنیادبنا کر کہا جاتا ہے کہ یہ آزادی اظہار ہے کہ ہم جو بھی بات کریں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہتک عزت کا دعویٰ ایک عام شہری بھی کر سکتا ہے اس کی بھی توہین نہیں کی جا سکتی اس طرح کے قوانین مغرب کے ہر ملک میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت پر ہم اپنے جذبات کو قابو نہیں رکھ سکتے رسولؐ سے ہم اپنی جان سے زیادہ محبت کرتے ہیں جب بھی کوئی توہین کرنے کی کوشش کرے گا اس کا بھرپور رد عمل آئے گا۔ انہوں نے تجویز دی کہ نوجوان وکیلوں کی ایک ٹیم بنائی جائے جو پوری دنیا کے توہین رسالتؐ، ہتک عزت، توہین مذہب کا مطالعہ کریں اور ایک جامع رپورٹ بنائیں جس کو ہم یورپی یونین میں پیش کر سکیں اس حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کمیٹی بھی کام کر تی ہے ،ملیحہ لودھی کو اس کمیٹی کو یہ تجویز دینی چاہیے اور ایک باقاعدہ ڈرافٹ تیار کر کے اس کمیٹی میں پیش کیا جائے تا کہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے۔کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جیورسٹ کانفرنس میں شریک ماہرین قانون ، اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائرڈ ججز حضرات ،وکلا تنظیموں کے عہدیداروں اور سینئر وکلا نے مسئلہ قادیانیت کے دستوری اور قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔ تحفظ ناموس رسالتؐ اور دنیا بھر کے مختلف مذاہب واقوام کی مقدس شخصیات کے حوالے سے ملکی وبین الاقوامی قوانین کی روشنی میں اپنی قیمتی ارا کا اظہار کیا ۔شرکا نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایک عام انسان کی توہین کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کا چارٹربرائے حقوق انسانی 1948ء کی قرارداد نمبر 217اور اقوام متحدہ کا بین الاقوامی معاہدہ برائے سیاسی و سماجی حقوق اختیار کردہ 23مارچ 1996ء موجود ہیں ۔ لیکن دنیا بھر کے مختلف مذاہب اور قوموں کے مقدسات کی ناموس کے تحفظ یا توہین کو روکنے کے لیے کوئی بین الاقوامی معاہدہ یا قانون موجود نہیں ہے ۔ جیورسٹ کانفرنس نے مطالبہ کیا ہے کہ دستور کے آرٹیکل (3)260میں مسلمان اور غیر مسلم کی جوتعریف بیان کی گئی ہے وہ واضح اور مکمل ہے ۔ جس کی روشنی میں قادیانی گروپ ، لاہوری گروپ (جو اپنے آپ کو احمدی یا کسی اور نام سے پکارتے ہیں)غیر مسلم ہیں ۔ لہٰذااس دستوری دفعہ کی تشہیر کی جائے تاکہ قادیانیوں کے متعلق ابہام کا خاتمہ ہوسکے اوران کی دستوری حیثیت قوم اور دنیا کے سامنے مزید واضح ہوجائے ۔ دستورکی دفعہ 5کے تحت پاکستان کے ہر شہری کو پاکستان کے ساتھ وفاداری اور پاکستان کے دستور اور قوانین کی اطاعت ضروری ہے ۔ نیز اس پر عملدرآمد کے لیے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298سی موجود ہے ۔ لہٰذاقادیانی اپنی دستوری اور قانونی حیثیت یعنی غیر مسلم ہونے کو تسلیم کریں ۔ جب تک قادیاتی یا لاہور (یااحمدی) اپنی مذکورہ دستوری وقانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے ان کو اہم کلیدی عہدوں پالیسی سازاداروں کی رکنیت یا مشیر وغیرہ مقرر کرنا خلاف آئین و قانون ہے لہٰذا ایساکرنے سے گریز کیا جائے، قانون ناموس رسالت کی دفعہ 295سی پاکستان کی پارلیمینٹ کا متفقہ طور پر منظور کردہ قانون ہے اسے ختم کرنے کی سزا میں ردوبدل یا اس کے تفتیش کے طریقہ کار یا کسی اور قسم کی تبدیلی کی سازشوں کی مذمت کرتے ہیں اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اس دفعہ میں کسی قسم کی تبدیلی یا اسے غیر موخر بنانے کے حوالے سے کیے جانے والے ہر اقدام کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی ،ہر پاکستانی مسلمان ناموس رسالتؐ کی حفاظت کے لیے مر مٹنے کو تیار ہے حضرت محمد مصطفٰی ؐ کی شان اقدس کے حوالے سے مغربی دنیا میں آئے روز توہین آمیزی کا ارتکاب ہو رہا ہے حال ہی میں ہالینڈ کے سیاستدان گیرٹ ویلڈرز نے توہین رسالت ؐ کا ارتکاب کرتے ہوئے کارٹون مقابلے جیسے ناپاک جسارت کا اعلان کیا ،پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس نفرت انگیز اور عالمی امن کو تہہ و بالا کرنے والی حرکت پر اپنے شدید غم وغصے کا اظہار کیا جس کے نتیجے میں بعض اعتدال پسند مغربی سیاستدانوں اور دانشوروں نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے توہین آمیزی پر مبنی مذکورہ مقابلہ ملتوی کرادیا لیکن گیر ٹ ویلڈرز نے اب بھی اعلان کر رکھا ہے کہ وہ کسی اور طریقے اور شکل سے توہین رسالتؐ کی ناپاک جسارت کرتے رہیں گے جو کہ اُمت رسولؐ کے لیے ایک چیلنج ہے ۔ بین الاقوامی طور پراقوام متحدہ کا اعلامیہ برائے انسانی حقوق اوراقوام متحدہ کے اجلاس برائے سماجی و سیاسی حقوق میں عام فرد کی عزت و احترام وغیرہ کی ضمانت تو دیتے ہیں لیکن دنیا بھر کے مذاہب اور قوموں کے مقدسات کی توہین روکنے کے لیے یہ دونوں بین الاقوامی دستاویزات خاموش ہیں جو کہ افسوسناک ہے ۔ اس لیے حکومت پاکستان بین الاقوامی سطح پر پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیؐ اور دیگر مذاہب کے مقدسات کی توہین روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر معاہدے کی تحریک کا آغاز کرے اور اسے اقوام متحدہ میں بطور قرارداد جمع کرانے کا اہتمام کیا جائے ۔ او آئی سی کے سیکرٹریٹ میں اس حوالے سے لابنگ اور ریسرچ ڈیسک قائم کیا جائے۔راجا ظفر الحق کی رپورٹ کو کسی لیت ولعل کے بغیر نافذ کیا جائے اور جوبھی ذمے دار ہو اس کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ