دل کا عالمی دن

195
دل کا عالمی دن
دل کا عالمی دن

ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر

امراض قلب سے بچائو کے لئے پاکستان سمیت پوری دنیا میں 29 ستمبر کو دل کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ دل کا عالمی دن منانے کا مقصد لوگوں کو امراض قلب کی وجوہات ، علامات ، بروقت آگاہی ، علاج اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا ہے ۔ دل کی بیماری کی ایک اہم وجہ آگاہی کا نہ ہونا ، تمباکو نوشی ، ذیابطیس ، ہائی بلڈ پریشر، غیر متحرک طرززندگی ، موٹاپا، بسیا ر خوری اور ورزش نہ کرنا شامل ہے ۔
پاکستان میں بھی دل کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہو رہاہے جس کی بڑی وجوہات میں ورزش کا نہ کرنا ، غیر متوازن اور غیر صحت مند خوراک اور تمباکو نوشی ہے ۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہر سال دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت میں چلے جاتے ہیں ۔ شدید تھکن دل کے عارضے کی ایک خاص علامت ہے جسے ہم عمومی طور پر انتھک محنت اور نیند کی کمی کی وجہ گردانتے ہیں ۔مگر ماہرین کے مطابق شدید تھکن اکثر اوقات امراض قلب کی طرف ایک اشارہ ہے کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے دل کو پور ے جسم میں آکسیجن فراہم کرنے میں مشکل پیش آ تی ہے ۔ جس کی وجہ سے ہمارا جسم تھکن کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اکثر اوقات پیروں کی سوجن بھی دل کی بیماری کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ اور اگر جسم کی کسی بھی حرکت کے ددوران چکر محسوس ہو تو یہ امراض قلب کی ایک وا ضح علامت ہے ۔ سر میں درد بھی دل کی بیماری کی ایک وجہ ہو سکتی ہے ۔
ایک رپورٹ کے مطابق دل کے چالیس فیصد مریضوں کو اکثر سر درد کی شکایت رہتی ہے ۔ کچھ افراد کو اکثر رات میں نیند کے دوران اپنے دل کی دھڑکن بھی سنائی دیتی ہے ۔ جو کہ دل کے والوں میں خرابی کی ایک علامت ہے اور اس کے شکار افراد کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے۔کچھ ایسی خاص علامات جو دل کی خرابی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور اگر ان میں سے کوئی بھی علامت موجود ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے ۔
اس کے علاوہ چھوٹے قد کے افراد میں بھی امراض قلب کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔ ان افراد میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلسیرائیڈ کی سطح بڑھنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق تنہائی یا تنہا ہونے کا احساس بھی بلڈ پریشر اور ذہنی تنائو کا باعث بنتاہے ۔ دوستوں کے غیر موجودگی ، اپنے پیاروں سے ناراضگی بھی امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھا سکتاہے ۔
اس کے علاوہ جو افراد فی ہفتہ کم از کم پچپن گھنٹے کام کر تے ہیں ان میں بھی دل کی بیماریوں کے امکانات 35 سے 40 گھنٹے کام کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے ۔ جس کی بنیادی وجوہات میں دفتری تنائو، زیادہ تر وقت بیٹھے رہنا اور ناقص غذائی انتخاب وغیرہ ہے ۔
ایک تحقیق کے مطابق منہ میں موجود بیکٹریا وہاں سے خون میں پہنچ سکتے ہیں اور شریانوں میں ورم کا باعث بن سکتا ہے ۔ جس کی وجہ سے چربی وہاں جمع ہونے لگتی ہے ۔ مختلف ریسرچ رپورٹس کے مطابق مسوڑھوں کے امراض پر قابو پاکر دل کے امراض کا خطرہ بھی کم کیا جاسکتا ہے ۔ ایک اورتحقیق کے مطابق فلو کے شکار افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ چھ گنا زیادہ ہوتا ہے ۔ دانت کا درد جس کا تعلق دل سے نہیں ہوتا لیکن اس سے بھی ہارٹ اٹیک کا خطرہ ہوتا ہے ۔
ایک رپورٹ کے مطابق غصہ آنے پر ہارٹ اٹیک کا خطرہ انداز اً پانچ گنا بڑھ جاتا ہے ۔ خاص طور پر غصے کے اظہار کے دو گھنٹے بعد فالج یا دل کی دھٹرکن تیز ہونے کا امکان ہوتا ہے ۔
پاکستان میں امراض قلب کی مریضوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ۔ سالانہ ایک لاکھ افراد دل کے دورے کی وجہ سے مو ت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تقریباََ دولاکھ افراد دل کے امراض کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2030 تک دنیا بھر میں دل کے امراض کے سبب اموات کی شرح 17.3 ملین سے بڑھ کر 23.6 ملین تک پہنچ سکتی ہے ۔ دل کے دورے کا شکار ہونے والے افراد کی تیس فیصد افراد ہی میڈیکل سینٹر تک پہنچ پاتے ہیں جبکہ ستر فیصد موقع پر یا ہا سپٹل پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتے ہیں ۔
دل کے امراض کی ایک بڑی اہم وجہ ذہنی دبائو بھی ہو سکتا ہے ۔ پابندی سے ورزش کرنی چاہیئے مکمل نیند لیں اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں حصہ لینا چاہیے اور جتنا ہو سکیں ہنسنا مسکرانا چاہیئے اور پانچ وقت باجماعت نماز پڑھنی چاہیئے کیونکہ دنیا میں سب سے بہترین ورزش نماز ہے جو روحانی اور جسمانی دونوں بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے ۔
دل کے مرض سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کم ہونی چاہیئے ۔ جسم میں کو لیسٹرول خون میں شامل ہو کر خون کو گاڑھا کرتی ہے ۔ جس کے باعث دل کے امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ ٹریفک کا شور ، گاڑیوں ، طیاروں اور ٹرینوں کی آواز بلڈپریشر بڑھانے کا باعث بنتی ہیں اور آواز کی سطح میںہر دس ڈیسی بل کے اضافہ سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ تحقیق کے مطابق آواز کی فریکو ئنسی میں اضافہ جسم پر دبائو کاباعث بنتا ہے ۔ جس کا اثر دل پر سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔
دل کی بیماریوں سے بچنے کے لئے باقاعدگی سے ورزش اور متحرک زندگی کی جانب قدم بڑھانا ہے ۔ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال دل کو صحت مند رکھتا ہے۔ جبکہ تیز مرچ ، مصالحے اور چکنائی تیل والے مرغن کھانے امراض قلب سمیت متعد د بیماریوں کا باعث بنتے ہیں ۔
جسمانی سرگرمیاں یعنی چہل قدمی ، سائیکلنگ ، یا کسی بھی ایسے کھیل میں خود کو شامل کرنا جس سے جسمانی صحت، فٹنس اور مزاج پر براہ راست اثر پڑتا ہوں ۔ ورزش کے لئے کچھ ٹائم ضرور نکالنا چاہیئے ۔ حرکت زندگی کا دوسرا نام ہے اور ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ روز انہ کی ورزش سے ہمارے دل پر بے حد مثبت اور خوش آ ئندا ثرات مرتب ہوتے ہیں جس سے لمبی زندگی کی طرف بڑھاوا ، دل کی مختلف بیماریوں کے ہونے کی شرح میں کمی ، وزن میں کمی وغیرہ شامل ہیں ۔ اپنی زندگی میں حرکت کو بڑھائیں اور نزدیکی مقامات پر آنے جانے کے لئے گاڑی کے بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دیں اسی طرح لفٹ کے استعمال کے بجائے سیڑھیوں سے اوپر نیچے جانے کو فوقیت دیں ۔اور کوشش کرنی چاہیئے کہ جسم کے مختلف حصوں کو استعمال میں لاتے ہوئے ورزش کریں جس میں مختلف کھیلوں مثلاََ باسکٹ بال، فٹ بال ، تیراکی ، ٹینس ، بیڈ منٹن وغیرہ سے مدد لی جاسکتی ہے ۔
سبز چائے بھی ذیابطیس اور دل کے امراض سے بچائوں میں مدد فراہم کرتی ہے اس کے علاوہ روزانہ مناسب مقدار میں خشک میوہ جات کا استعمال بھی دل کے امراض سے بچائو اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ دل کی بیماریوں سے بچنے کے لئے روزانہ کم از کم آ دھا گھنٹہ جسمانی سر گرمیوں میں گزارنا چاہیئے ۔
معاشرتی ناہمواریاں ، غربت ، پریشانیاں اور ناقص اور غیر معیاری غذائیں دل کی بیماری کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ دل کے مرض کے متعلق آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے عام طور پر ان علامات پر توجہ نہیں دی جاتی ہے اور علاج میں تاخیر زندگی سے محرومی کا باعث بن جاتی ہے ۔ بلڈ پریشر ، کولیسٹرول ، ذیابطیس میں سے اگر کوئی بھی چیز حد سے بڑھ جائے تو اسے کنٹرول میں لانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔کھانے میں چربی والے گوشت ، گھی ، گردے کلیجی ، سری پائے ، مکھن ، پنیر، انڈے کی زردی ، بالائی ، تلی ہوئی اشیاء، مثلا پراٹھے ، سموسے ، حلوہ پوری سے پرہیز کریں اور کافی کا استعمال بھی کم از کم کرنا چاہیئے۔
آج کل نوجوان بچوں میں بھی دل کے دورے کا رجحان بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے کیونکہ رات گئے تک مختلف سوشل میڈیا کے استعمال سے بچے ذہنی دبائو اور تنائو کا شکار ہو رہے ہیں اور پھر نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے ان میں بلڈ پریشر میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے ان کے مزاج میں چڑ چڑا ہٹ اورمختلف نفسیاتی تبدیلیاں بھی آجاتی ہیں ۔
تحقیق کے مطابق لوگوں کو اپنی غذامیں کاربو ہائیڈریٹس کے استعمال میںکمی لانی چاہیئے ۔ پنیر اور ترش پھلوں ، اخروٹ، زیتون ، سبزیاں اوردودھ وغیرہ کا استعمال امراض قلب کے خطرات کو کم کرتا ہے ۔ اوساکا یونیورسٹی کے ایک مطالعے کے مطابق صبح کا ناشتہ ترک کرنے والے افراد میں امراض قلب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔ سائنسدانوں کے مطابق اگر ناشتہ چھوڑنے کی عادت بنالی جائے تو مضر کولیسٹرول آہستہ آہستہ بڑھنے لگتے ہیں اور پھر بلڈ پریشر میں اضافہ ہوجاتاہے اور جب یہ دونوں مسائل شدت اختیار کرلیں تو دل کا مرض لاحق ہو سکتا ہے ۔
لہذٰا اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت مند انہ زندگی کے لئے دل کا خیال رکھیے اور ہنستے مسکراتے رہتے ہوئے دل کو بیماریوں سے دور رکھیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ