آداب زندگی،میت کے آداب

120
آداب زندگی،میت کے آداب
آداب زندگی،میت کے آداب

مولانا یوسف اصلاحی
’’ جب کوئی شخص اپنے بچے کے مرنے پر صبر کرتا ہے تو خدا اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے ، کیا تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کر لی ۔ فرشتے جواب دیتے ہیں پروردگار! ہم تیرا حکم بجا لائے ۔ پھر خدا پوچھتا ہے تم نے میرے بندے کے جگر کے گوشے کی جان قبض کر لی ۔ وہ کہتے ہیں ۔ جی ہاں۔ پھر وہ پوچھتا ہے تو میرے بندے نے کیا کہا وہ کہتے ہیں پروردگار اس نے تیری حمد کی اور انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ پڑھا تو خدا فرشتوں سے کہتا ہے، ’’ میرے اس بندے کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر کرو اور اس کا نام یت الحمد( شکر کا گھر) رکھو‘‘۔(ترمذی)
٭ مردے کے نہلانے دھلانے میں دیر نہ کیجیے ، غسل کے لیے پانی میں بیری کے پتے ڈال کر ہلکا گرم کر لیجیے تو اچھا ہے ، مردے کو پاک صاف تختے پر لٹایے ، کپڑے اتار کر تہبند ڈال دیجیے ۔ ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر پہلے چھوٹا بڑا استنجا کرایے اور خیال رکھیے کہ تہبند ڈھکا رہے پھر وضو کرایے وضو میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی ضرورت نہیں ، غسل کراتے وقت ناک میں روئی رکھ دیجیے تاکہ پانی اندر نہ جائے ۔ پھر سر کو صابن یا کسی اور چیز سے اچھی طرح دھو کر صاف کر دیجیے ۔ پھر بائیں کروٹ لٹا کر دائیں جانب سر سے پائوں تک پانی ڈالیے ، پھر اسی طرح بائیں طرف پانی سر سے پائوں تک ڈالیے ۔ اب بھیگا ہوا تہبند ہٹا دیجیے اور سوکھا تہبند ڈال دیجیے اور پھر اٹھا کر چار پائی پر کفن میں لٹا دیجیے ۔نی ﷺ نے فرمایا
’’ جس نے کسی میت کو غسل دیا اور اس کے عیب کو چھپایا خدا ایسے بندے کے چالیس کبیرہ گناہ بخش دیتا ہے اور جس نے کسی معیت کو قبر میں اتارا تو گویا اس نے میت کو روز حشر تک کے لیے رہنے کو مکان مہیا کیا ‘‘۔(طبرانی)
٭ کفن اوسط درجے کے سفید کپڑے کا بنایے نہ زیادہ قیمتی بنایے اور نہ بالکل ہی گھٹیا بنایے ۔ مردوں کے لیے کفن میں تین کپڑے رکھیے ایک چادر ایک تہبند اور ایک کفنی یا کرتہ ۔ چادر کی لمبائی میت کے قد سے زیادہ رکھیے تاکہ سر اور پائوں دونوں جانب باندھا جا سکے اور چوڑائی اتنی رکھیے کہ مردے کو اچھی طرح لپیٹا جا سکے ۔ عورتوں کے لیے ان کپڑوں کے علاوہ ایک سر بند رکھیے جو ایک گز سے کچھ کم چوڑا اور ایک گز سے زیادہ لمبا ہو اور بغل سے لے کر گھٹنے تک کا ایک سینہ بند بھی رکھیے ۔نبی ﷺ کا ارشاد ہے ’’ جس نے کسی میت کو کفن پہنایا تو خدا اس کو جنت میں سندس اور استبرق کا لباس پہنائے گا ‘‘۔(حاکم)
٭ جنازہ قبرستان کی طرف ذرا تیز قدمنوں سے لے جایے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا’’ جنازے میں جلدی کرو‘‘۔ حضرت ابن مسعودؓ نے نبی ﷺ سے پوچھا۔یا رسول اللہ ﷺ’’ جنازے کو کس رفتار سے لے جایا کریں‘‘۔ فرمایا’’ جلدی جلدی دوڑنے کی رفتار سے کچھ کم ۔ اگر مردہ صاحبِ خیر ہے تو اس کو انجام خیر تک جلدی پہنچائو اور اگر صاحب شر ہے تو اس شر کو اپنے سے جلد دور کرو ‘‘۔(ابو دائود)
٭ جنازے کے ساتھ پیدل جایے ۔ نبی ﷺ ایک جنازے کے ساتھ چلے اور آپ نے دیکھا کہ چند آدمی سوار ہیں ۔ آپ ﷺ نے ان سے کہا تم لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ خدا کے فرشتے پیدل چل رہے ہیں اور تم جانوروں کی پیٹھ پر ہو ‘‘۔ البتہ جنازے سے واپسی میں سواری پر آ سکتے ہیں ۔ نبی ﷺ ابو واحدی کے جنازے میں پیدل گئے اور واپسی میں گھوڑے پرسوار ہو کر آئے ۔
٭ جب آپ جنازہ آتے دیکھیں تو کھڑے ہو جایے پھر اگر اس کے ساتھ چلنے کا ارادہ نہ ہو تو ٹھیر جایے کہ جنازہ کچھ آگے نکل جائے ۔ نبی ﷺنے فرمایا۔
’’ جب تم جنازے کو دیکھو تو کھڑے ہو جائو ۔ اور جو لوگ جنازے کے ساتھ جائیں وہ اس وقت تک نہ بیٹھیں جب تک جنازہ نہ رکھ دیا جائے ‘‘
٭ نماز جنازہ پڑھنے کا بھی اہتمام کیجیے اور جنازے کے ساتھ جانے اور کندھا دینے کا بھی اہتمام کیجیے ۔ نبی ﷺ کا ارساد ہے ۔
(جاری ہے)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ