اسکول جانے والے بچوں کی غذا

233
اسکول جانے والے بچوں کی غذا
اسکول جانے والے بچوں کی غذا

ڈاکٹرسید احسن حسین
جب بچے اسکول جانے لگتے ہیں‘ اس وقت سے لے کر نوجوانی تک بڑھتی ہوئی عمر اور بڑھتی ہوئی مصروفیات کھیل کود کے ساتھ ساتھ غذائی ضرورتوں میں تبدیلی آتی رہتی ہے‘ اس عمر میں غذا کو بہت مقوی ہونا چاہیے۔ ماں باپ اپنے لاڈ پیار میں بچوں کو ٹافیاں‘ چاکلیٹ‘ چھالیہ وغیرہ دلا دیتے ہیں یا پھر اسکول جانے والے بچوں کو پیسے دیتے ہیں اور بچے اپنی مرضی سے اس طرح کی چیزیں کھانا شروع کر دیتے ہیں‘ ان چیزوں کا ایک بہت بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ بچے کی بھوک ختم ہو جاتی ہے‘ اسی طرح ذرا بڑی عمر کے بچوں میں کولڈ ڈرنک‘ آئسکریم یا پھر ٹھیلے سے خرید کر برگر وغیرہ کھانے کی عادت ہو جاتی اور بچوں کی صحت اور عادت دونوں خراب ہوتی ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم بچوں کو نہ صرف یہ کہ اچھی غذا فراہم کرنے کی کوشش کریں بلکہ یہ بھی کہ بچوں کو غذا کی اہمیت بتائیں‘ چورن‘ چٹنیاں‘ چھالیہ اور ایسی دوسری لغویات کے خلاف بچوں میں شعور پیدا کریں۔
درمیانی عمر کے لوگوں کے لیے غذا

ادھیڑ عمر یا درمیانی عمر میں عام طور پر انسانی زندگی میں ایک خاص ترتیب آجاتی ہے۔ کھیل کود اور ورزشیں کم ہو جاتی ہیں۔ پیشہ ورانہ زندگی میں کثیر تعداد ان افراد کی ہوتی ہے‘ جو ایک جگہ بیٹھ کر کام کرتے ہیں اور چلنا پھرنا کم ہو جاتا ہے۔ عمر کا یہی وہ حصہ ہے جب بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) اور دل کی بیماریوں کا اندیشہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ عمر کے ہر حصہ کی طرح اس دور کے لیے بھی کچھ غذائی تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ غذا میں چکنائیوں کا تناسب کم کر دینا چاہیے۔ وزن کو مقررہ حد سے نہیں بڑھنے دینا چاہیے کہ وزن بڑھنے کے ساتھ ساتھ بہت سی بیماریوں کے راستے کھل جاتے ہیں۔ مثلاً دل کی بیماریاں‘ شوگر اور جوڑوں کی تکلیف وغیرہ سگریٹ سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ پیدل چلنے کی کوشش کرنا چاہیے یاد رکھیے پیدل چلنا صحت مندی کی علامت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ