جدید طبی تحقیق

75
جدید طبی تحقیق
جدید طبی تحقیق

اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ صحت کیلیے اچھے نہیں
ایک تحقیق کے مطابق وہ لوگ اپنی صحت خراب کر رہے ہیں جو دفتر کے بعد بھی اپنے سمارٹ فونز، ٹیبلیٹس اور لیپ ٹاپس پر کام کرتے رہتے ہیں۔چارٹرڈ سوسائٹی آف فیزیوتھراپی کے مطابق لوگ ان آلات کے ’غلام‘ بن کر رہ گئے ہیں اور اکثر یہ لوگ سفر کرتے وقت یا گھر پر بھی سمارٹ فونز، ٹیبلیٹس اور لیپ ٹاپس کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔سوسائٹی کے بقول یہ آلات استعمال کرتے وقت وہ کس طرح بیٹھے یا لیٹے ہوتے ہیں اس کی وجہ سے ان کو کمر یا گردن کا درد ہو سکتا ہے۔
یونینز کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اب جان لینا چاہیے کہ کس وقت اپنے آلات بند کردیے جانے چاہیے۔ایک آن لائن سروے کے مطابق 2010 نوکری کرنے والے افراد میں سے دو تہائی افراد کا کہنا تھا کہ وہ دفتری اوقات کے بعد بھی سمارٹ فونز، ٹیبلیٹس اور لیپ ٹاپس استعمال کرتے ہیں۔سوسائٹی کے مطابق دفتری اوقات کے بعد بھی لوگ اوسطاً دو گھنٹے سکرینز کے سامنے گزارتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق لوگ زیادہ وقت سمارٹ فونز، ٹیبلیٹس اور لیپ ٹاپس پر اس لیے بھی گزار رہے ہیں کہ ایک تو ان پر کام کا بوجھ بہت ہے اور وہ دفتر میں کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے دفتری اوقات کے بعد کام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ہیلینا جانسن کا کہنا ہے کہ یہ تشویشناک بات ہے۔’اگر تو لوگ کبھی کبھار دفتری کام گھر لے جائیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر یہ عادت بن جائے تو کمر اور گردن کا درد ہو سکتا ہے۔

’زیادہ ایس ایم ایس کرنا مضرِ صحت

ایک امریکی ڈاکٹر نے نوجوان بچوں کے والدین کو متنبہ کیا ہے کہ زیادہ ایس ایم ایس بھیجنا بچوں کی صحت کے لیے مضر ہے۔ڈاکٹر سکاٹ فرینک نے ایک کانفرنس میں بتایا کہ جو نوجوان بچے ایک دن میں ایک سو بیس ایس ایم ایس بھیجتے ہیں ان کو شراب نوشی، سگریٹ پینے اور سیکس کرنے کے امکانات زیادہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے مطابق زیادہ ایس ایم ایس کرنا اور سماجی ویب سائٹس کے استعمال سے نوجوان زیادہ خطرناک رویہ اختیار کرتے ہیں۔ایک برطانوی ماہر کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بہت زیادہ استعمال کرنے والے افراد غلط کاموں کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ڈاکٹر سکاٹ نے چار ہزار ہائی سکول کے طلبہ پر اپنی تحقیق کی۔ ان طلبہ کی عمریں تیرہ سے اٹھارہ سال کے درمیان تھیں۔ان طلبہ میں سے بیس فیصد وہ تھے جو چھٹی کے دنوں کے علاوہ ایک سو بیس سے زائد ایس ایم ایس بھیجتے تھے۔ان طلبہ کے رہن سہن اور معاشی حیثیت کی مدِ نطر رکھتے ہوئے یہ معلوم ہوا کہ ان طلبہ کا سگریٹ اور شراب نوشی کرنا، منشیات لینا اور سیکس کرنے کے امکانات زیادہ ہیں۔اسی طرح کا رویہ ان نوجوانوں میں بھی دیکھا گیا جو انٹرنیٹ زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ڈاکٹر فرینک نے کہا ’یہ والدین کے لیے ایک تنبیہہ ہے وہ نہ صرف بچوں کو گاڑی چلاتے ہوئے ایس ایم ایس کرنے سے منع کریں بلکہ موبائل کا حد سے زیادہ استعمال اور انٹرنیٹ پر سماجی ویب سائٹس پر بھی زیادہ وقت نہ گزارنے دیں۔

زیادہ گوشت خوری نقصان دہ
سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں کہا ہے کہ زیادہ گوشت کھانا اور محفوظ کرنے کے عمل سے گزارے گئے گوشت کا کھانا مضرِ صحت ہے۔اس تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ دس سال سے زیادہ گوشت کھانے والے افراد کی موت کئی وجوہات سے واقع ہو سکتی ہے۔اس کے مقابلے میں مرغی اور مچھلی کھانے والے افراد کی جان کو اتنا خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔یہ امریکی تحقیق انٹرنل میڈیسن میں شائع کی گئی ہے۔یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے ڈاکٹر بیری ہاپکنز نے کہا ’گوشت کھانے میں کمی کرنا ضروری ہے‘۔ محققین کے مطابق ’ کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ برگر اورگوشت کھانا بند کر دیا جائے بلکہ صرف اس میں کمی لائے جائے‘۔اس تحقیق میں پتہ چلا کہ وہ افراد جو زیادہ گوشت کھاتے ہیں ان کی جلدی موت کے امکانات زیادہ ہیں اور خاص طور پر ان کو امراض قلب یا سرطان ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہیں۔تحقیق کے مطابق زیادہ گوشت کھانے والے افراد ایک سو ساٹھ گرام جبکہ کم گوشت کھانے والے افراد اوسطاً صرف پچیس گرام گوشت کھاتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ