کالا باغ ڈیم اور بھاشا ڈیم کیخلاف سندھی قوم پرستوں کا احتجاج کراچی میں تین روزہ بھوک ہڑتال کا اعلان

217
کراچی، پریس کلب کے سامنے سندھ ترقی پسند پارٹی کے کارکنان کالا باغ ڈیم کے خلاف دھرنا دیے ہوئے ہیں،چھوٹی تصویر میں جلال محمود شاہ پریس کانفرنس کررہے ہیں
کراچی، پریس کلب کے سامنے سندھ ترقی پسند پارٹی کے کارکنان کالا باغ ڈیم کے خلاف دھرنا دیے ہوئے ہیں،چھوٹی تصویر میں جلال محمود شاہ پریس کانفرنس کررہے ہیں

حیدر آباد، بدین،کراچی (نمائندگان جسارت/ اسٹاف رپورٹر) کالا باغ اور بھاشا ڈیم کے خلاف سندھی قوم پرستوں نے احتجاج شروع کردیا جبکہ کراچی میں3 روزہ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے‘ حیدر آباد اور بدین میں پریس کلب کے باہر سندھ ترقی پسند پارٹی کے کارکنان کی جانب سے دوسرے روز بھی علامتی بھوک ہڑتال کی گئی اور دھرنا دیا گیا۔ سندھ ایکشن کمیٹی کے کنوینر و سربراہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی سید جلال محمود شاہ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان زبردستی ڈیم بنانے کا خیال دل سے نکال دیں‘ آرٹیکل 6 سے نہیں ڈرتے‘ غیر ملکی آبادی کو سندھ کی قومی وحدت کے خلاف سمجھتے ہیں‘ 28 ستمبر سے11 اکتوبر تک سندھ بھر میں مظاہرے کیے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو سندھ ترقی پسند پارٹی کی جانب سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر اور غیر مقامی افراد کو شناختی کارڈ کے اجرا کے خلاف حیدر آباد پریس کلب کے سامنے دوسرے روز بھی علامتی بھوک ہڑتال کی گئی۔ اس موقع پر سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنماؤں عبدالفتاح سمیجو، نصرت چنا، حاکم زادی، قادر چنا و دیگر نے کہا کہ دریائے سندھ پر کالا باغ سمیت کوئی ڈیم بنانا سندھ کے خلاف سازش ہے‘ جسے عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ دریائے سندھ پر صرف سندھ کا حق ہے لیکن آج تک پنجاب یہ پانی چوری کرتا رہا ہے‘ سندھ کو اس کے حصے کا پانی نہ ملنے کے باعث کوٹری کے بعد ڈاؤن اسٹریم مکمل طور پر خشک ہوچکا ہے‘ زرعی زمین تباہ ہوچکی ہے‘ سمندری پانی تیزی سے کٹاؤ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بنگالی، بہاری، افغانوں کو شہریت دینے کا فیصلہ بھی فوری واپس لے بصورت دیگر احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کیاجائے گا۔ دریں اثنا سندھ ترقی پسند پارٹی کی جانب سے بدین پریس کلب کے سامنے بھاشا ڈیم کے خلاف دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا گیا اور کارکنوں نے بھوک ہڑتال کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ اس موقع پر کالا باغ ڈیم اور بھاشا ڈیم نا منظور، نامنظور کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر سندھ ترقی پسند پارٹی کے مرکزی ترجمان شاہنواز سیال نے کہا کہ دریائے سندھ پر بھاشا ڈیم کی تعمیر کسی صورت بھی قبول نہیں ہے‘ سندھ میں زرعی پانی اور پینے کے پانی کی شدید قلت کے باعث یہاں کا کاشت کار طبقہ معاشی طور پر تباہی کے کنارے پر پہنچ چکا ہے‘ دوسری جانبحکومت دریائے سندھ پر بھاشا ڈیم سمیت دوسرے ڈیم بنا کر سندھ میں پانی کی مزید قلت پیدا کرنا چاہتی ہے۔ علاوہ ازیں سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے کالا باغ ڈیم، بھاشا ڈیم اور غیر ملکیوں کو شہریت دینے کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیا ہے ۔ سندھ ایکشن کمیٹی کے کنوینر و سربراہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی سید جلال محمود شاہ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جوڈیشل ایکٹوازم کے نام پر جوڈیشل مارشل لا نافذ کر کے دریائے سندھ پر زبردستی ڈیم بنانے کا خیال دل سے نکال دیں‘ ہم آرٹیکل 6 سے نہیں ڈرتے‘ سندھ کا بچہ بچہ بھی اس کے لیے تیار ہے‘عوامی تحریک 28، 29اور 30 ستمبر کو کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتال کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سندھ ایکشن کمیٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد حیدر منزل کراچی میں سندھ کے قوم پرست رہنماؤں، ادیبوں اور دانشوروں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلال محمود شاہ نے کہا کہ دریائے سندھ سندھ کے وجود کی شہ رگ ہے‘ اس کے اوپر کسی کوبھی ڈاکا ڈالنے نہیں دیں گے‘ ہم غیر ملکی آبادی کو سندھ کی قومی وحدت کے خلاف سمجھتے ہیں‘ سندھ کا امن و امان، وسائل اور روزگار ان کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے‘ دھاندلی کی پیداوار وفاقی حکومت، افواج پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ ایک صوبے کے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے لیے ایسے منصوبے پیشنہ کرے جس سے قومی وحدت کو نقصان پہنچے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نہ ہی ایک قوم کا وطن ہے اور نہ ہی یہاں رہنے والے افراد کے سیاسی اور اقتصادی مفادات یکساں ہیں‘ پاکستان کے وفاق میں سندھ ایک قومی وحدت کی حیثیت رکھتا ہے‘ پنجاب سے دریا ئے سندھ پر پانی کی تقسیم اور منصوبوں کے حوالے سے ایک صدی سے اختلافات چلے آ رہے ہیں‘ پنجاب دریائے سندھ پر غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر ڈاکا ڈال کر چشمہ جہلم لنک کینال، تونسہ پنجند کینال سے پانی حاصل کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں شریک تمام جماعتوں نے مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ دریائے سندھ پر سب سے پہلا حق سندھ کا ہے‘ دریائے سندھ پر کالاباغ ڈیم سمیت کوئی بھی بیراج اور لنک کینال قابل قبول نہیں کیا جائے گا‘ دریائے سندھ پر کسی بھی ڈیم کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان کرنے کے ساتھ مطالبہ کرتے ہیں کہ دریائے سندھ میں کوٹری بیراج میں کم سے کم 10 ملین ایکڑ فٹ ایم اے ایف پانی چھوڑا جائے تاکہ سندھ کا ڈیلٹا اور لاکھوں ایکڑ اراضی تباہ ہونے سے بچ جائے‘ تھل کینال، تونسہ پنجند اور چشمہ جہلم لنک کینال کو مستقل طور پر بند کیا جائے‘ سندھ میں رہنے والے برمی، بنگالی اور افغانیوں سمیت دوسرے کسی بھی غیر ملکی کو ایلین رجسٹریشن کارڈ جاری کرکے ان کو واپس ان کے ممالک بھیجنے کا بندوبست کیا جائے اور سندھ میں دوسرے صوبوں سے آنے والے افرارد کو ورک پرمٹ جاری کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی تحریک کراچی پریس کلب کے سامنے 28، 29 اور 30 ستمبر کو بھوک ہڑتال کرے گی‘ سندھ پروگریس کمیٹی کی 30 ستمبر کو حیدرآباد میں اے پی سی، جئے سندھ محاذ 7 اکتوبر کو ڈہرکی میں دہرنا دے گی اور جسقم (بشیر قریشی) 11 اکتوبر کو لاڑکانہ میں احتجاج کرے گا۔ اجلاس میں جسقم کے صنعان خان قریشی ، اے جے پی کے امان شیخ، عوامی ورکرز پارٹی کے یوسف مستی خان ، جسقم آریسر کے ڈاکٹر میر عالم مری ، جئے سندھ تحریک کے فتاح چنا اور دیگرجماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ