پاکستان اور امریکا نئے سرے سے تعلقات پر متفق

134
نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے افتتاحی خطاب کررہے ہیں
نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے افتتاحی خطاب کررہے ہیں

نیویارک: (خبرایجنسیاں) پاکستان اور امریکا ازسرنو تعلقات کے آغازپرمتفق ہوگئے ۔نیویارک میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقاتمیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔شاہ محمود قریشی نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات گزشتہ روزاستقبالیہ کے دوران ہوئی جس میں پاک امریکا تعلقات پر گفتگو کا موقع ملا۔ شاہ محمود قریشی کے بقول ٹرمپ کا رویہ شائستہ تھا۔انہوں نے بتایا کہ امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے بھی
ملاقات ہوئی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی پر گفتگو کی گئی۔ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ 2 اکتوبرکو مائیک پومپیو سے دوسری ملاقات طے ہوئی ہے۔علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدرنے کہا کہ ایران کی حکومت نے اپنے عوام کے ساتھ زیادتیوں کی انتہا کر دی، پڑوسی ممالک بھی ایران کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، ہم نے ایران کو سبق سکھانے کے لیے پابندیاں لگائی ہیں، 5 نومبر سے ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی لگائیں گے،تمام ممالک ایران کو اس کے جارحانہ رویے پر تنہا کریں،ایران پڑوسی ممالک کی خودمختاری کا احترام نہیں کرتا،ایران پرپابندیاں خطے میں استحکام اور ایرانی فنڈنگ روکنے کے لیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین سے تجارت میں عدم توازن برداشت نہیں کیا جائے گا،شام کے مسئلے کا حل ایران کو شامل کرنے سے ہی ممکن ہے،شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ہوا تو کارروائی کریں گے، اسد حکومت نے کیمیائی ہتھیار نصب کیے تو امریکا کارروائی کرے گا، ہم صرف ان ممالک کو امداد دیں گے جوہمارے دوست ہیں، اصلاحات ہونے تک انسانی حقوق کونسل میں واپس نہیں آئیں گے، امریکا یواین امن مشن کے لیے 25 فیصد سے زیادہ فنڈز نہیں دے گا۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جرائم کی عالمی عدالت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے لیے پرْعزم ہیں،دہشت گردوں کو ملنے والی فنڈنگ کے خلاف کام کریں گے،امریکاخلیجی ملکوں،اردن،مصر کے ساتھ علاقائی اسٹریٹجک الائنس پرکام کررہاہے۔ انہوں نے کہاکہ شمالی کوریاکے صدرسے ملاقات کے بعدایٹمی تجربات بندہوگئے ہیں،اب شمالی کوریا سے میزائل اِدھر ادھر نہیں داغے جا رہے،جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے تک شمالی کوریاپرپابندیاں برقراررہیں گی،شمالی کوریا نے بہت اچھی پیش رفت کا مظاہرہ کیا ہے۔بعد ازاں ایرانی صدر حسن روحانی نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ امریکی حکومت نے تمام عالمی اداروں کو غیرمؤثر کردیا ہے، موجودہ امریکی حکومت سے کیسے معاہدہ ہو جس نے پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو خراب کیا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی ایران کے لیے پالیسیاں شروع سے ہی خراب رہی ہیں، ایرانی عوام کی خواہشات کے خلاف امریکی پالیسیاں ناکام ہوئی ہیں، کسی بھی ملک یا قوم کو طاقت کے ذریعے مذاکرات کی میز تک نہیں لایا جاسکتا۔روحانی نے کہا کہ دھمکیاں دینے کے بجائے بات چیت شروع کریں،عالمی قوانین اوراخلاقیات کے منافی غیر منصفانہ پابندیاں ختم کریں، کوئی جنگ، دھمکی، پابندیاں نہیں صرف قانون کی پاسداری کریں، ہمارا پیغام واضح ہے، پاسداری کا جواب پاسداری، بدعہدی کا بد عہدی، دھمکی کا دھمکی سے جواب دیا جائے گا۔علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ہم ہمیشہ فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں،مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی حفاظت کریں گے، اقوام متحدہ کو سب کے ساتھ مساوی انصاف کرنا چاہیے، یواین میں اصلاحات کی ضرورت ہے،سلامتی کونسل دنیا کے دیگر علاقوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے، سلامتی کونسل صرف ویٹو پاور رکھنے والے ممالک کے مفاد میں کام کرتی ہے۔ترک صدر نے کہا کہ اقوام متحدہ سے امن اور انسانی فلاح کی امیدیں پوری نہیں ہوسکی ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فتح اللہ گولن کا ادارہ دہشت گردی پھیلانے کا ماسٹر مائنڈ ہے، عالمی برادری فیٹو کے خلاف اقدام کی ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ