کراچی پریس کلب میں آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے تعاون سے امراض قلب کا کیمپ لگایا گیا۔

117

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) ماہرین امراض قلب کا کہنا ہے کہ شہری شوگر، نمک، سگریٹ اور ذہنی تناو سے پرہیز کریں تو دل کی بیماریوں میں بڑی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے، متوازن غذا کا استعمال اور پیدل چلنے کی عادت اپنانے کے نتیجے میں ان کی شریانوں میں کولیسٹرول، پلک جمنے کی شرح میں کمی ہوتی ہے، 

وہ لوگ جو ہفتے میں پانچ دن ورزش کرتے ہیں، ورزش نہ کرنے والے افراد کے مقابلے میں 30 فی صد کم امراض قلب کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ماہرین امراض قلب نے کراچی پریس کلب کی ہیلتھ کمیٹی کے زیر اہتمام آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے اشتراک سے کراچی پریس کلب میں امراض قلب کے حوالے سے لگائے گئے کیمپ میں صحافیوں کے طبی معائنے کے بعد پینل ڈسکشن میں کیا۔ 

اس موقعے پر کراچی پریس کلب کے صدر احمد خان ملک،سیکریٹری مقصود یوسفی ، سیکر یٹر ی ہیلتھ کمیٹی وقار بھٹی ،کفیل الدین فیضان،نعیم سہو ترا سمیت اراکین کی بڑی تعداد موجود تھی،

کراچی پریس کلب میں لگائے گئے کیمپ میں کلب کے اراکین اور اُن کے اہل خانہ کے کولیسٹرول، بلڈ شوگر، پھیپھڑوں کی کارکردگی، ای سی جی، وزن اور قد کی پیمائش سمیت مختلف طبی ٹیسٹ مفت کیے گئے، 

امراض قلب کیمپ میں آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے ماہر ڈاکٹرز نے دل کی صحت سے متعلق صحافیوں کو آگہی فراہم کی۔ ڈاکٹرز کے پینل میں کارڈک سرجن ڈاکٹر صولت فاطمی، ماہر امراض قلب ڈاکٹر زینب صمد، ماہر امراض قلب ڈاکٹر یاور سعید اور ماہر امراض سینہ ڈاکٹر جاوید خان شامل تھے۔ 

طبی کیمپ میں صحافیوں اور ان کے اہل خانہ نے بڑی تعداد میں اپنا طبی معائنہ کرایا۔ اس موقع پر معروف ڈاکٹر عاصم بلگامی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بین الاقوامی معیار کا واحد اسپتال آغا خان اسپتال ہے اور یہاں صرف ان لوگوں کے لیے ہی کام نہیں ہو رہا جو اسپتال تک آتے ہیں بلکہ اندرون سندھ سمیت مختلف شہروں اور دیہات میں بھی اس طرح کے پروگرام کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔ 

ڈاکٹر عاصم بلگا می نے بتایا کہ آغا خان کے ملک بھر میں 117 اسپتال، کلینک اور لیبارٹریز کام کر رہے ہیں، ایڈز اور دمے کے امراض پر بھی کام ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت مند رہنے کے لیے علاج کے ساتھ ساتھ احتیاط کی بھی ضرورت ہے، اگر صحافی صحت مند ہوں گے تو دوسروں کی بہتری کے لیے کام کر سکیں گے۔ 

معروف کارڈک سرجن صولت فاطمی کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں موت کی سب سے بڑی وجہ دل کا مرض ہے، پاکستان میں 40 سے 50 سال کی عمر میں یہ مرض لاحق ہو رہا ہے جس کی بنیادی وجہ طرز زندگی میں تبدیلی اور فاسٹ فوڈ کا استعمال ہے، 

خواتین کی اموات کا بھی سب سے بڑا سبب امراض قلب ہی ہیں اور ہم سب کو مل کر اس بیماری کا مقابلہ کرنا ہے۔ 

ماہر امراض سینہ ڈاکٹر جاوید خان کا کہنا تھا کہ سگریٹ سمیت تمباکو نوشی کی وجہ سے ہر سال پاکستان میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد موت کا شکار ہوتے ہیں، نوجوانوں میں حملہ قلب کی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے،

یہ پھیپھڑوں کے کینسر کا سب سے بڑا سبب بھی ہے، پان، گٹکا اور ہر شکل میں تمباکو نقصان دہ ہے۔

ماہرین امراض قلب ڈاکٹر زینب صمد اور ڈاکٹر یاور سعید کا کہنا تھا کہ ہر گھنٹے میں 12 لوگ دل کی بیماری کے باعث مر جاتے ہیں، امراض قلب سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کھانے پینے کے معمولات کو تبدیل کیا جائے،
پیدل چلنے کی عادت ڈالی جائے اور باقاعدگی سے ورزش کی جائے ورنہ جسمانی سرگرمیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے موت کا خطرہ 30 فی صد بڑھ جاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email