آمدن سے زاید اثاثے ، نیب نے خورشید شاہ کیخلاف تحقیقات شروع کردی

319
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری ریڈیو پاکستان کے وفد سے ملاقات کررہے ہیں
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری ریڈیو پاکستان کے وفد سے ملاقات کررہے ہیں

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں‘ ان کی حمایت جاری رکھیں گے‘ کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے‘ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے‘ برہان وانی فریڈم فائٹر تھا‘ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن ملکی سالمیت پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے سینیٹ میں سینیٹرز کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ فواد چودھری نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کے بیان اور مذاکرات سے انکار پر جس طرح اپوزیشن کی جماعتوں نے رد عمل دیا ہے اس سے پاکستان کا اچھا پیغام گیا
ہے ‘ پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح اکٹھی کھڑی ہو گی۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ کشمیر پر کسی صورت پیچھے ہٹ نہیں سکتے‘ ہم مذاکرات سے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں‘ اگر جنگ ہوگئی تو دونوں ملکوں میں گھاس بھی نہیں بچے گی‘ اگر بھارت چاہتا ہے کہ پہلے جنگ ہو تو اس کے بعد جو لوگ بچیں وہ مذاکرات کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کا نظریہ ہے کہ دوسرے ملک میں گھس کر اس کو کمزور کرو‘ پاکستان70 سال سے بھارت کے ساتھ لڑ رہا ہے‘ اگر بھارت چاہتا ہے تو ہم مزید لڑنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں لڑنے والے فریڈم فائٹر ہیں‘ برہان وانی نے کشمیر کی آزادی کے لیے جنگ لڑی‘ ان کے جنازے میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے‘ کشمیر اب بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ جبکہ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ وہ ایوان کی جانب سے بھارتیآرمی چیف کے بیان کی مذمت کرتے ہیں‘ پاکستان کے عوام اور افواج ایسی گیڈر بھبکیوں میں آنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات چلے گئے اور خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے اشارے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ ایوان میں آکر ہمارے تحفظات کا جواب دیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے کہا ہے کہ بھارت مذاکرات سے ہمیشہ بھاگتا ہے کیونکہ وہ کشمیر میں7 لاکھ فوج رکھنے کا جواز پیش نہیں کر سکتا‘ بھارت کے ساتھ سفارتی زبان میں بات کی جائے۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹرز جنرل (ر) عبدالقیوم ، یعقوب ناصر ، سید مظفر شاہ اور مصدق ملک نے منی بجٹ کو بے لگام مہنگائی کا پیغام اور ترقی کا جنازہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غریب آدمی پر95 ارب روپے کا ٹیکس لگایا جا رہا ہے‘ وہ اس کو کس طرح برداشت کرے گا‘ منی بجٹ قبضہ مافیا کے لیے ہے جو معاشی دہشت گردی کر رہے ہیں‘ حکومت کو پی آئی اے، اسٹیل مل اور ریلوے کے حوالے سے اپنا پلان تشکیل دینا چاہیے‘ اگر ٹھیک نہیں کر سکتے تو ان کی نجکاری کر دی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ