اسلام آباد میں طالبات کو ہراساں کرنے والا کالج پروفیسر نوکری سے فارغ

354

انسداد ہراسیت محتسب نے طالبات کو ہراساں کرنے میں ملوث بحریہ کالج کے پروفیسر کو نوکری سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

انسداد ہراسیت محتسب نے بحریہ کالج کے پروفیسر کو طالبات کو ہراساں کرنے پر نوکری سے برطرف کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ 31  مئی کو عمیمہ فاطمہ نے محتسب میں درخواست دائرکی تھی کہ 28  مئی کو بیالوجی پریکٹیکل کے دوران پروفیسرسعادت نے طالبات کو ہراساں کیا تھا، 20  سے زائد طالبات اور 3 طلبہ نے ہراساں کرنے کے الزامات کی تصدیق کی ہے۔

طالبہ کی درخواست پر انسدادِ ہراسیت محتسب کشمالہ طارق کی جانب سے تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بحریہ کالج میں طالبات کا بیالوجی کا پریکٹیکل دوبارہ لیا جائے اور طالبات کو ہراساں کرنے میں ملوث پروفیسر کو فوری برطرف کیا جائے اور الزام ثابت ہونے پر مجرم کو 2 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی  ادا کرنا ہوگا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ صبوہی حسین کو تادیبی لیٹرجاری کیا جائے، آئی جی اسلام آباد قانونی کارروائی کے لئے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیں۔

تحریری فیصلے میں حکم دیا گیا ہے کہ وفاقی نظامت تعلیمات متاثرہ طالبات کی نفسیاتی کونسلنگ کے لئے انتظامات کرے اور اداروں میں انسداد ہراسیت قوانین سے آگاہی یقینی بنائے جب کہ شہر بھر کے تعلیمی اداروں میں ہراساں کرنے کے واقعات کی رپورٹ جمع کرائی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ