ٹیکس جی ڈی پی  11 سے 22 فیصد تک بڑھانے کی گنجائش موجود ہے، ڈاکٹر شمشاد اختر 

190

آئی کیپ اور آئی سی ایم اے پاکستان کے تحت تیسرے فنانشل ریفارم فار اکنامک ڈیولپمنٹ فورم کا انعقاد

ورلڈ بینک کے نمائندوں سمیت ایشیا کے 30 سے زائد ممالک کے مالیاتی و اکاؤنٹنسی ماہرین کی شرکت

کراچی :انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی کیپ ) اور انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ منیجمنٹ اکاؤنٹنٹ آف پاکستان کی جانب سے تیسرے فنانشل ریفارم فار اکنامک ڈیولپمنٹ فورم (فریڈ) 2018 فورم مقامی ہوٹل میں منعقد کیا گیاجس میں ورلڈ بینک کے نمائندوں سمیت ایشیا کے 30 سے زائد ممالک بشمول بھارت، ملائیشیا، نیپال، پاکستان، فلپائن، سری لنکا، ویتنام کے مالیاتی و اکاؤنٹنسی ماہرین نے شرکت کی۔ فریڈ فورم ورلڈ بینک اور کنفیڈریشن آف ایشیئن اینڈ پیسفک اکاؤنٹنٹس (کاپا) نے مشترکہ طور پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس (آئیفک) کے تعاون سے شروع کیا تھا۔ اس پارٹنرشپ میں اب ساؤتھ ایشین فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس (سافا) اور آسیان فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس (آفا) بھی شامل ہو گئے ہیں

فریڈ کو پورے خطے میں پھیلایا جا سکے۔ فریڈ کا پہلا اور دوسرا فورم بالترتیب سری لنکا اور ملائیشیا میں منعقد ہو چکے ہیں۔ فریڈ فورم کے افتتاحی سیشن کی مہمان خصوصی سابق گورنر اسٹیٹ بینک پاکستان و سابق نگران وزیرخزانہ ڈاکٹر شمشاد اخترتھیں جبکہ اس سیشن میں ڈائریکٹر گورننس گلوبل پریکٹس ورلڈ بینک جیمز اے برمبے، کنٹری ڈائریکٹر پاکستان الینگوپیچ موٹھوصدرآئی کیپ ریاض اے رحمان چامڈیااور صدر آئی سی ایم اے پاکستان ضیا المصطفی اعوان نے بھی خطاب کیا۔صدر کاپا منوج فنڈس نے کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن ہمیشہ مزید مضبوط اور سسٹین ایبل اکاؤنٹنسی شعبے کے لیے کوشاں رہتی ہے

ہم سب مل کر بہتر مستقبل کے اہداف حاصل کرسکیں۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ ٹیکس موبلائزیشن بہت ضروری ہے، ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 11 فیصد ہے جسے 22 فیصد تک بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ ٹیکس ایڈمنسٹریشن کو مضبوط بنانے اور کیپٹل مارکیٹ کی ڈیولپمنٹ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسٹاک ایکس چینج کے ساتھ مل کرنگران حکومت میں کیپٹل مارکیٹ کی ڈیولپمنٹ کے لیے ایک روڈ میپ بنایا تھا جسے وہ حتمی شکل دیں گے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ اکاؤنٹنسی کا اعلیٰ معیارکاروبار اور معاشی استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

اپنے خطاب میں ورلڈ بینک کے ڈائریکٹر گورننس گلوبل پریکٹس جیمز اے برمبے نے کہا کہ وہ پاکستان میں عمران خان کی نئی حکومت کو مبارکباد دیتے ہیں اوراس نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ورلڈ بینک کے نمائندے نے کہا کہ پاکستان کو اقتصادی شعبے میں چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پروسائل کو بروئے کار لانے کے لیے رائج مروجہ طریقہ کار کو اپنانا ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات کریں گے۔ اس سے قبل خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے صدر آئی کیپ ریاض اے رحمان چامڈیا نے کہا کہ آئی کیپ ملک میں اکاؤنٹنسی شعبے کا معیار بلند کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے معاشی نظام میں وسائل کی موبلائزیشن سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس فورم کا تھیم نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ پروفیشنلز کو چاہیے کہ وہ اپنا اعتماد بحال کریں تاکہ پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے بہتر نتائج نکل سکیں ۔ اب حکومتیں اپنے ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر آئی سی ایم اے پاکستان ضیا المصطفی اعوان نے بتایا کہ ان کا انسٹی ٹیوٹ ملک میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھنے والوں کی سہولت کے لیے ریسرچ اور فزیبلٹی اسٹڈی فراہم کرتا ہے۔

وہ فنانس پروفیشنلز کو جدید خطوط پر تربیت بھی فراہم کرتے ہیں۔ فورم میں ترقی کے لیے نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور مؤثر پبلک سیکٹر اداروں کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے موضوعات پر تین پلینری سیشنز بھی منعقد ہوئے۔ ان سیشنز میں ڈائریکٹر کیپٹل مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر ساؤ ڈٹ خوا Cao Dat Khoa، صدر سافا ڈاکٹر سوود کمار کرن Suvod Kumar Karn، نائب صدر سافا ڈاکٹر پی وی ایس جگن موہن راؤ، آسیان منیجر آئی آئی آر سی و پارٹنر ، آڈٹ اینڈ اشورنس ، بی ڈی او کوالالمپور فرنسس سرل Francis Cyril ، پارٹنر ای اینڈ وائے، سری لنکا منیل جیا سنگھ Manil Jayasinghe ، سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی، سینئر کنٹری آفیسر آئی ایف سی پاکستان معظم احمد، ڈپٹی اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ارشاد کلیمی نے بھی خطاب کیااور تجربات بتائے۔ مقررین نے متفقہ طور پر زور دیا کہ حکومتی پالیسیاں اور ہر سطح پر ایک جیسی ریگولیشنز کا ہونا بہت ضروری ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر صدر آئی کیپ ریاض اے رحمان چامڈیانے ورلڈ بینک، سافا، کافا اور دیگر ملکی و غیرملکی وفود کا شکریہ ادا کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com