ٹرمپ نے مسئلہ فلسطین کو کھیل بنادیا

73

 

نبیل نجم الدین

یہ بات یقینی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے کلیدی مسئلہ فلسطین کو پیچیدہ بنانے اور انتہائی غرور اور نادانی کے ساتھ خطے کے اس بحران سے کھیلنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ عجیب و غریب رویے رکھنے والے ٹرمپ فلسطینی عوام کے حقوق اقوام متحدہ کی قراردادوں ، بین الاقوامی قانون، روایات اور پروٹوکول کے ساتھ انتہائی غلط انداز سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔ فلسطینی عوام کے حقوق کو کمتر گردان رہے ہیں۔
امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کی اقوام اور حکام کے لیے امید کی کوئی کرن باقی نہیں چھوڑی۔ جھوٹی امید تک کا امکان باقی نہیں رکھا۔ ٹرمپ سے پہلے امریکا کے بیشتر صدور امید کی کرن باقی رکھتے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں براجمان امریکا کا سیاسی زور آور مسئلہ فلسطین کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گا۔ امریکی صدر مسئلہ فلسطین کی بنیادوں کو اندر اور باہر سے توڑ چکے ہیں۔ اب وہ فلسطینی گھرانے کی دیواروں اور کھڑکیوں پر تیشہ چلا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہودی لابی سے انتخابی مہم کے دوران انہوں نے جو وعدے کیے تھے اس کا بل انتہائی ٹھنڈے انداز میں ادا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
امریکی صدر کے اس موقف کے کئی خطرناک پہلو ہیں۔ ایک یہ ہے کہ وہ ماہ رواں کے اختتام پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 73ویں اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اس سے سلامتی کونسل کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑی ہوئی ہے۔ اس بات کا خوف ہے کہ وہ سلامتی کونسل کے ساتھ نہ جانے کیا سلوک روا رکھیں۔ خوف کا محرک یہ ہے کہ ٹرمپ ملکہ جمال کے مقابلوں کی سرپرستی سے لے کر فری اسٹائل کشتی کے ہنگامہ خیز پروگراموں، اخلاق باختہ حرکتوں، غیر معیاری ٹی وی پروگرام پیش کرنے ، انکم ٹیکس سے بچنے کے دعوؤں تک نہ جانے کیا کچھ کرچکے ہیں۔ صدر ٹرمپ مقبوضہ القدس سے متعلق تمام بین الاقوامی قراردادوں اور دستاویزات کو اپنے قدموں تلے روند چکے ہیں۔ انہوں نے القدس کو قابض اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دے کر مقبوضہ شہر کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے غیر قانونی مداخلت کی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس فیصلے کو مسترد کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا۔ 128ممالک نے ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف ووٹ دیا اور صرف 9نے ان کے حق میں اور 53ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
القدس سے متعلق فیصلے کے ایک ماہ کے اندر ٹرمپ نے فلسطینی پناہ گزینوں کو روزگار دلانے اور مدد کرنے والے عالمی ادارہ اونروا کی امداد بند کردی۔ اس کے لیے اول فول بہانے تخلیق کیے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے عالم میں جبکہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ طویل المیعاد امن مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو انہیں لاکھوں ڈالر مدد کے طور پر کیوں دیے جائیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ بیان وہ ایسے عالم میں دے رہے ہیں جبکہ امریکا، اسرائیل کو فلسطینیوں کے قتل کے لیے سالانہ 3ارب ڈالر پیش کررہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ