مودی حکومت کی ناکام پالیسیاں‘ بھارتی نسل تباہی کی جانب گامزن

101

 

سمیع اللہ ملک

بھارتی معاشرے میں تشدد کا گراف بلند سے بلند تر ہوتا جارہا ہے۔ ایک طرف معاشرتی نوعیت کاتشدد ہے اوردوسری طرف مذہبی منافرت کی بنیادپرپھیلایا جانے والا تشدد کاوسیع ہوتاہوادائرہ اہلِ دانش کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے۔ معاشرے کے سیاہ وسفید پرنظررکھنے والے حکومت پرزوردے رہے ہیں کہ وہ معاملات کوکنٹرول کرنے پرتوجہ دے اورایسے اقدامات کرے، جن سے تشدد کادائرہ محدود سے محدودتررکھنے میں مددملے۔ بھارت کے چیف جسٹس دیپک مشرانے حال ہی میں ایک انٹرویومیں کہا ہے کہ بھارت میں مذہب کی بنیادپرکسی کونشانہ بنانے کارجحان تیزی سے فروغ پارہاہے۔ ہجوم کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنانے کی وارداتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ یہ سب کچھ معاشرے میں غیرمعمولی عدم توازن پیداکرنے کاباعث ہے۔ انہوں نے حال ہی میں گائے کے تحفظ کے نام پر کئی مسلمانوں کو تشدد کے ذریعے قتل کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی اور حکومت پر زور دیا کہ وہ ہجوم کی نفسیات کو بے قابو ہونے سے روکنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔
انڈین ایکسپریس گروپ کے تحت شائع ہونے والے ہندی اخبار نے معاشرے میں تیزی سے پھیلتے ہوئے تشدد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس امرپرزوردیاہے کہ حکومت فوری اورخاطرخواہ اقدامات کے ذریعے معاملات درست کرے۔ چند برسوں کے دوران تشددکے واقعات میں تیزی،بہت سے سوال کھڑے کرچکی ہے۔ بڑوں کی دیکھادیکھی بچوں میں تشدد کا پھیلتا دائرہ معاشرے، انتظامیہ اور حکومت سبھی کے لیے بہت بڑاچیلنج ہے۔ سوال یہ ہے کہ بچوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے ایسی شکل کس طرح اختیارکرلیتے ہیں کہ نوبت چاقوبازی اورقتل تک جا پہنچے۔ یہ واقعات نئی نسل میں تیزی سے بڑھتی عدم برداشت اورعدم رواداری کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔
دہلی کے ایک سرکاری اسکول میں3؍اگست کوصبح کی دعاکے وقت ایک طالب علم نے سب کے سامنے چاقونکال کرایک اور طالب علم پرپے درپے وارکرکے اُسے شدیدزخمی کردیا۔دونوں کاایک دن قبل جھگڑاہواتھا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اس نوعیت کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ رواں سال کے دوران دہلی ہی کے علاقے کرول باغ کے ایک سرکاری اسکول میں چند طلبہ نے مل کر ایک ساتھی طالب علم کو قتل کردیا تھا۔ گزشتہ برس بھی دہلی کے ایک اسکول میں ایک طالب علم مارا گیا تھا۔ اسے بھی اس کے ساتھیوں ہی نے موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ کچھ مدت پہلے ہریانہ کے ایک سرکاری اسکول میں طلبہ کے دو گروہوں کے درمیان جم کر چاقو بازی ہوئی تھی جس میں 5طلبہ شدید زخمی ہوئے تھے۔
چاقو بازی طلبہ کی باہمی لڑائیوں تک محدود نہیں۔ طلبہ میں تشدد پسندی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اگر انہیں اساتذہ سے بھی کوئی شکایت ہو تو بات کو دل میں رکھ لیتے ہیں اور پھر اساتذہ سے حساب چُکتا کرنے سے بھی نہیں چُوکتے۔ گزشتہ برس دہلی کے نانگلوئی علاقے میں ایک سرکاری اسکول کے استاد پر دو طلبہ نے چاقو سے حملہ کردیا تھا۔بھارتی دانشورسرپکڑکربیٹھے یہ کہنے پرمجبورہوگئے ہیں کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ معاشرہ کس سمت جارہا ہے۔ بچوں میں تشدد پسندی کا گراف بلند ہوتاجارہا ہے۔ نئی نسل اپنے آپ کو بہتر مستقبل کے لیے تیارکرنے اور اپنے ساتھ ملک کے لیے کچھ کرنے کی تیاری کے بجائے غیر صحت مند سرگرمیوں میں گم ہوتی جارہی ہے۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ آخر ہم اپنی آنے والی نسل کو کیسا ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ نئی نسل میں بڑھتی ہوئی تشددپسندی اس امرکی طرف بھی واضح اشارہ کرتی ہے کہ ہم اُن کی تعلیم پر توجہ دے رہے ہیں نہ ہی اس بات کی کچھ فکر ہے کہ وہ مستقبل میں کیاکریں گے،کس طورزندگی بسر کریں گے اورگھربسانے کے بعداہل خانہ کوکیادے سکیں گے۔اہل خانہ اوراساتذہ دونوں ہی نے بچوں اور نوجوانوں کونظراندازکررکھاہے۔اس روش ہی کایہ نتیجہ برآمدہواہے کہ اب بچوں میں سنجیدگی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی اور وہ تشدد سمیت ہر منفی رجحان تیزی سے قبول کرکے اپنے امکانات کو مٹی میں ملاتے جارہے ہیں۔
سرکاری اور نجی اسکولوں میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیکورٹی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جارہی۔ اساتذہ بھی طلبہ کے جھمیلے میں پڑنے سے گریز کرتے ہیں۔ بچوں میں تشدد پسندی کا گراف نیچے لانے کے لیے والدین اور اساتذہ کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگالیکن بھارت میں بڑھتی ہوئی غربت،نسلی امتیازاورانسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے والی بی جے پی کی بے لگام پالیسیاں ملک کوبربادکررہی ہیں اورمودی سرکارکواس کی کوئی پروا نہیں کیونکہ جوکچھ انہوں نے بویاہے اسی کوبالآخرکاٹنابھی توہے!
بھارت کی ریاست تمل ناڈو میں پولیس نے کینیڈا میں زیرِ تعلیم ایک طالبہ لوئس صوفیا کومحض اس لیے گرفتارکرکے 15 دنوں کے لیے عدالتی تحویل میں دے دیا کہ اس نے بھارت کے شہر چنائے سے ٹوٹی کورین کی ایک پرواز کے دوران اسی طیارے میں بی جے پی کی ریاستی صدر تمیلی سائی سوندا را کو دیکھ کر ’فسطائی بی جے پی کی حکومت مردہ باد‘ کے نعرے لگائےاوراپنی مٹھیاں اٹھاتے ہوئے بی جے پی کے خلاف ’فاشسٹ‘ لفظ کا استعمال کیا۔ صوفیا کی گرفتاری پر ردِّ عمل ظاہر کرتے ہوئے تمل ناڈو کے حزب اختلاف کے رہنما ایم کے سٹالن نے ریاستی حکومت پر الزام عائدکیا ہے کہ وہ اظہار ِآزادی کا گلا دبا رہی ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ پیغام میں صوفیا کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ’اگر اختلاف کے اظہار پرحکومت لوگوں کو گرفتار کرے گی تو میں صوفیا کے نعرے کوبارباردہرائوں گا،بی جے پی کی فاشسٹ حکومت مردہ باد‘۔صوفیا کی گرفتاری کے خلاف سوشل میڈیا پربھی زبردست ردِّعمل سامنے آیاہے۔ بھارت کے معروف صحافی راج دیپ سر دیسائی نے ایک ٹویٹ میں سوال کیا کہ ’کسی حکومت کے خلاف نعرے لگاناکب سے جرم ہوگیا؟‘

Print Friendly, PDF & Email
حصہ