پی آر سی کےزیر اہتمام سعودی عرب کے 88ویں قومی دن کے موقع پر تقریب

110

 

پاکستان ریپیٹرئیشن کونسل (پی آر سی) کے زیر اہتمام سعودی عرب کے 88ویں قومی دن کے موقع پرایک تقریب مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی ،جس کی صدارت سابق سعودی سفارتکار، معروف دانشور اور کالم نگار ڈاکٹر علی الغامدی نے کی جبکہ پاکستان جرنلسٹس فورم (پی جے ایف) کے چیئرمین امیر محمد خان مہمان خصوصی تھے۔ دیگر مہمانوں میں محمد علی الغامدی، محمد جمیل راٹھورجنرل سکرٹری پی جے ایف، انجینئر سید نصیرالدين، وصی امام، حسن نجمی، سید غضنفر حسن اور اسرار احمد خان پرسنل اسسٹنٹ جنرل (ر) ڈاکٹر محمد مصطفیٰ الجھنی شامل تھے۔
اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر علی الغامدی نے پی آر سی کا تقریب کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ دن نہ صرف سعودی عوام کے لیے بلکہ تمام پاکستانیوں کے لیے بھی خوشی کا دن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں 1965ء میں ہوٹل بیچ لگژری کراچی میں منعقدہ پہلی سعودی نیشنل ڈے کی تقریب میں شریک تھا۔ خطاب کے دوران ڈاکٹر علی الغامدی نے خادم حرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وژن 2030ء مملکت کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے 1971ء سے بنگلا دیشی کیمپوں میں 3لاکھ محب وطن پاکستانیوں کی کسمپرسی کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئےنئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے اپیل کی کہ وہ اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے حکمرانوں کو سکھایا ہے کہ وہ معاشرے کے غریب اور نیچے طبقے کے افراد کا خاص خیال رکھیں۔ اس لیے 47سال سے نظر انداز کیے ہوئے محصور پاکستانیوں کی مشکلات کا فوری خاتمہ کرنا ضروری ہے۔
مہمان خصوصی امیر محمد خان نے کہا کہ سعودی عرب کے قومی دن کا جشن منانا ہماری قومی ذمے داری ہے کیونکہ اس ملک نے ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیوں کی مدد کی ہے۔ یہاں قیام کی وجہ سے ہم خوشحال ہوئے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ محصور پاکستانیوں کے مسئلے کو حل کریں۔ ان کی وطن واپسی کے لیے جلد اقدامات کریں۔
اعزاز ی مہمان خصوصی مکہ مکرمہ سے آئے صحافی محمد عامل عثمانی نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان لازوال دوستی کی تعریف کی اور اس حوالے سے اہم واقعات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ 45سال سے زائد عرصے سےسعودی عرب میں مقیم ہیں اور انہوں نے حرمین شریفین کی توسیع اور اس ملک کے انفراسٹرکچر میں شاہی حکمرانوں کے تحت ہونے والی ترقی کا مشاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر مسلم ممالک کی بھی مدد کی ہے۔ انہوں نے عمران خان پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر بنگلادیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی واپسی کا انتظام کریں۔
پاکستان تحریک انصاف سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی مڈل ایسٹ کے رہنما فرخ رشید نے سعودی قومی دن کے حوالے سے تقریب منعقد کرنے پر پی آر سی کی تعریف کی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ بنگلا دیش سے محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان کی توجہ دلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان سے کرپشن کے خاتمہ اور دیگر مسائل کو حل کرنے اور مضبوط پاکستان بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
پاکستان قومی یکجہتی فورم (پی این ایس ایف) کے بانی کنوینیئر سید ریاض بخاری نے اپنے خطاب میں وژن 2030ء کے لیے شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین سے قربت، امن اور سلامتی کی وجہ سے وہ اس ملک سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر زور دیا کہ وہ محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کا انتظام کریں۔
کشمیر کمیٹی جدہ کےرکن راجا محمد زرین خان نے کہا کہ سعودی عرب مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بہت اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اس کے لیے کشمیری عوام سعودی حکومت کے بہت شکر گزار ہیں۔
پی ٹی آئی جدہ کے صدراحمد بشیر نے پاکستان کی ترقی کے لیے عمران خان کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ عمران خان بنگلادیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے مسئلے پر جلد توجہ دیں گے۔
میمن کمیونٹی کے سرگرم رکن شیخ محمد لقمان نے کہا کہ میں نے سعودی عرب میں تقریباً نصف صدی گزاری ہے اور اسے اپنا دوسراگھر سمجھتا ہوں۔ انہوں نے شاہ سلمان ،شہزاد محمد بن سلمان اور حکومت کے دیگر ارکان کو مملکت کو ترقی اور نئی بلندیوں پر لے جانے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے بھی محصورین کی واپسی کا مطالبہ کیا۔
میمن ویلفیئر سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری طیب موسانی نے سعودی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا اور قومی پر سعودی عرب کو مبارکباد دی۔
جموں و کشمیر کمیٹی اوورسیز کے رہنما خورشید احمد متیال نے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں سعودی عرب کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے عاشورہ محرم الحرام کے موقع پر مسلمانوں کے جلوس پر بھارتی فورسز کے مظالم کی مذمت کی۔
پی آر سی کے ڈپٹی کنوینیئر حامد الاسلام خان نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب ہمارا دوسرا گھر ہے۔ انہوں نے پی آر سی کے مشن کا اعادہ کیا کہ بنگلا دیش سےمحصورین کی وطن واپسی اور مسئلہ کشمیر کے حل کےبغیر پاکستان نا مکمل ہے۔
کنوینیئر سید احسان الحق نے ڈاکٹر علی الغامدی، مقررین اور تقریب کے شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک سعودی دوستی اسلامی اقدار پر مبنی ہے۔ ہمیں اس رشتے کو مزید بڑھانے اور مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ تجارت، افرادی قوت، تعلیم، صنعت، سیکورٹی، مفاد عامہ اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے ’پاک سعودی اسٹریٹجک کمیشن‘ کے قیام کی تجویز دی تاکہ دونوں ملکوں کے مفاد میں اضافہ کرنے کے لیے مواقع تلاش کیے جائیں جن سے ہمار ی معیشت کو بہتر بنایا جاسکے تاکہ ہم آئی ایم ایف اور دیگر عطیہ دہندگان سے قرضوں سے بچ جائیں۔
تقریب کی نظامت کے فرائض صحافی سید مسرت خلیل نے انجام دیے۔ قبل ازیں تقریب کا آغاز صدارتی ایوارڈ یافتہ قاری انجینئر محمد آصف کی تلاوت قران پاک و ترجمہ سے ہوا۔ نعت رسول مقبولؐ خالد جاوید نے پیش کی۔ معروف شاعر زمرد خان سیفی نے یوم الوطنی پر نظم پیش کی۔
سمینار میں مندرجہ ذیل قراردادیں کثرت رائے سے منظور کی گئیں:
۱۔ وزیراعظم عمران خان سے اپیل ہے کہ ’پاک سعودی اسٹریٹجک کمیشن‘ قائم کریں جو دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے ، مشترکہ طور پر دہشت گردی سے مقابلہ کرنے اور تجارت کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
۲۔ ہم وزیراعظم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بنگلا دیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی وطن واپسی اور بحالی کا انتظام کریں۔ پیسے کی کمی پر قابو پانے کے لیے پی آر سی کی تجویز پر عمل کریں۔ بنگلا دیش کو اس مسئلے کو حل کرنے میں کردار ادا کرنے کے لیے کمیٹی میں شامل ہونا چاہئے۔ وطن واپسی نہ ہونے تک ڈھاکا کے پاکستانی ہائی کمیشن کو محصورین کی حفاظت،کھانے پینے، تعلیم، طبی اور دیگر بنیادی ضرورت کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔
۳۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مستقل بنیادوں کشمیر کمیٹی تشکیل دی جائے۔ کشمیر میں عوام کی خواہش کے مطابق رائےشماری کی جائے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام مذاکرات میں کشمیریوں کو شامل کیا جائے۔ بھارتی فوج کو کشمیر سے واپس بلایا جائے۔
۵۔ ہم بھارتی افواج کے ظلم و ستم اور یوم عاشور پر کشمیریوں کے جلوس پر اندھا دھند فائرنگ کی پُر زور مذمت کرتے ہیں۔
۶۔ ہم او آئی سی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ میانمر کے حکمرانوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کو روکنے اور انہیں شہریت کے حقوق فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ بنگلا دیش میں منتقل ہونے والے تمام افراد کو ان کے صوبے راکھین میں واپس آباد کیا جائے۔او آئی سی بنگلا دیش کی مالی امداد کرے تاکہ وہ پناہ گزینوں کی خوراک، صحت اور دیکھ بھال کے لیے بہتر اقدامات کر سکے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ