قانون ناموس رسالت چھیڑنے سے بحران پیدا ہوگا،عالمی مجلس ختم نبوت ، بین الاقوامی قانون ناگزیر ہے، سراج الحق

286
راولپنڈی: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں
راولپنڈی: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں

 

لاہور (آن لائن) تحفظ ناموس رسالت ایکٹ کو چھیڑنے سے نیا بحران پیداہوگا، سینیٹ میں پیش کردہ تحفظ ناموس رسالت ایکٹ کا ترمیمی بل پر شدید تحفظا ت ہیں چونکہ اس بل میں توہین رسالت کا مقدمہ درج کرانے والے کو مکمل کوائف نہ دینے پر سزائے موت کی تجویز قرآن و سنت کے منافی اور آئین پاکستان کے بھی خلاف ہے، ہرآنے والی حکومت نے بیرونی ایجنڈے کے تحت ناموس رسالت ایکٹ کو غیرمؤثر کرنے کے ناکام اقدامات اٹھائے اور موجودہ حکومت بھی اس روش پرچل پڑی ہے جو
اسلامائیزیشن کے عمل کیخلاف یہودی و قادیانی سازشوں کا تسلسل ہے جسے ہرصورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولاناعزیزالرحمن ثانی، نائب امیر مولانا سید ضیا الحسن، پیررضوان نفیس، مولانا عبدالنعیم، مولاناعلیم الدین شاکر، مولانا خالدمحمود،قاری ظہورالحق، مولانا سعیدوقار نے وفاقی وزیرمملکت برائے خزانہ حماد اظہر کی طرف سے سینیٹ میں پیش کردہ قانون تحفظ ناموس رسالت ایکٹ295سی میں مجوزہ ترمیمی بل کے خلاف ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس میں اس بل پرشدید تحفظات کا اظہارکیا گیا اور کہا گیاکہ سینیٹ میں پیش کردہ نیامجوزہ ترمیمی بل قانون ناموس رسالت کو غیرمؤثربنانے کی نئی سازش ہے ،توہین رسالت کیس کے طریقہ اندراج کو مشکل سے مشکل ترین بنانا توہین رسالت کے مجرموں کوتحفظ فراہم کرنے اورانہیں قانونی سزائے موت سے بچانے کے مترادف ہے ،نئے ترمیمی بل میں توہین رسالت کیس کے مدعی کو مشکل ترین قانونی پراسیس میں مکمل ثبوت فراہم نہ کرنے والے کو سزائے موت کی تجویز کاقانون اللہ اوراس کے رسولؐ سے بغاوت اور اسلام وآئین سے کھلی غداری ہے جسے قطعی طورپرقبول نہیں کیاجائے گا۔ توہین رسالت کے سیکڑوں کیسز عدالتوں میں پینڈنگ پڑے ہیں جن پرکوئی کارروائی آگے نہیں بڑھائی جارہی، آج تک نہ تو توہین رسالت قانون پر کوئی عمل درآمدکرایاگیااورنہ ہی توہین رسالت کے مرتکب کسی بھی مجرم کوسزائے موت دی گئی جبکہ تحفظ ناموس رسالت ایکٹ کو غیرمؤثربنانے کے لیے سازشوں کے نت نئے جال بنے جارہے ہیں جوایک خطرناک ایجنڈا ہے نئی حکومت حساس اسلامی معاملات کو چھیڑکراپنے لیے مزیدبحران پیدانہ کرے جو ملک و قوم کے ساتھ خود حکومت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ختم نبوت اور انبیا کرام ؑ کی ناموس کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے ۔ پاکستان، ترکی ،سعودی عرب اور ایران قانون سازی کے لیے اقوام متحدہ سے مشترکہ مطالبہ کریں اور اس مقصد کے لیے عالم اسلام کے دیگر ممالک سے بھی رابطے کیے جائیں ۔ ختم نبوت دنیا میں بسنے والے ایک ارب 75 کروڑ مسلمانوں کا محور محبت ، عقیدہ اور ایمان ہے ۔ جماعت اسلامی تحفظ ختم نبوت اور نامو س رسالتؐ کے لیے مسلم و غیر مسلم سفیروں
سے ملاقاتیں کر رہی ہے اور27 ستمبر کو اسلام آباد میں اس حوالے سے جیورسٹ کانفرنس کا انعقاد کر رہی ہے جس میں سینئر قانون دان ، ججز ، وکلا اور سول سوسائٹی کے لوگ شریک ہوں گے ۔ تحفظ ختم نبوت اور نامو س رسالتؐ آئین پاکستان کا تقاضا ہے ۔ حکومت اپنی آئینی ذمے داری پوری کرے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی کے ارکان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ ، امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن اور صوبہ شمالی پنجاب کے عبوری امیر ڈاکٹر طارق سلیم بھی موجود تھے ۔سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ عالمی امن کے قیام اور دنیا کو جنگوں کے خطرے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ پوری انسانیت باہمی احترام اور اخوت و محبت کے ساتھ رہے دنیا میں پونے 2 ارب مسلمان اللہ کی طرف سے انسانیت کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے ،آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عقیدت کو دنیا بھر کے مسلمان اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھتے ہیں لیکن مغرب اور یورپ کے انتہا پسند عناصر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بار بار گستاخی کر کے دنیا بھر کے مسلمانوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہالینڈ میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے بنانے کے مقابلے کو وقتی طور پر معطل کیا گیاہے ، منسوخ نہیں کیا گیا ۔ ان مقابلوں پر مستقل پابندی لگانے اور ایسی اشتعال انگیزی کا ارتکاب کرنے والوں کو نشان عبرت بنانے کے لیے پوری انسانیت کو متحد ہونا پڑے گا ۔ توہین آمیز خاکوں سے پونے 2 ارب مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے جاتے ہیں۔ دنیا کو ہر ممکن قانونی، سیاسی اور معاشرتی دباؤ ڈال کر اس گروہ کو اس مہلک اقدام سے باز رکھنا چاہیے جو اس قبیح فعل کے ذریعے عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کررہا ہے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اسلام امن، محبت اور سلامتی کا دین ہے۔ اسلام میں انسان ہی نہیں ہر جان دار کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ مسلم اُمہ کے لیے یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ حقوقِ انسانی کے علم بردار یورپ میں کوئی شخص ایسی نفرت آمیز راہ اختیار کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی بھی مقدس ہستی کی شان میں توہین آمیزی رائے کی آزادی نہیں بلکہ درحقیقت معاشرے کے اندر نفرت کی آگ کو بھڑکانا ہے، جس کا کوئی بھی مہذب معاشرہ اجازت نہیں دے سکتا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ