ایران میں فوجی پریڈ پر حملہ، 30 ہلاک ، 70 سے زاید زخمی

222
اہواز: فوجی پریڈ کے دوران حملے کے بعد فوجی زخمی حالت میں پڑے ہیں ‘ چھوٹی تصویر میں زخمیوں کو منتقل کیا جارہا ہے
اہواز: فوجی پریڈ کے دوران حملے کے بعد فوجی زخمی حالت میں پڑے ہیں ‘ چھوٹی تصویر میں زخمیوں کو منتقل کیا جارہا ہے

تہران/اسلام آباد (خبر ایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے صوبے اہواز میں فوجی پریڈ کے دوران حملے میں20پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں سمیت 30 افراد ہلاک جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 70 سے زاید افراد زخمی ہیں۔ایرانی دارالحکومت تہران سے ہفتے کو موصولہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران عراق جنگ کے آغاز کی سالگرہ کی مناسبت سے مختلف شہروں میں فوجی پریڈ کا اہتمام کیا گیا تھا اور اس موقع پر صدر حسن روحانی نے قوم سے خطاب بھی کیا ۔ اپنے خطاب میں صدر روحانی نے کہا تھا کہ ایران امریکی صدر ٹرمپ کو بھی اسی طرح شکست دے دے گا، جیسے ماضی میں عراقی آمر صدام حسین کو شکست دی گئی
تھی۔ فوجی پریڈ کے دوران جو تہران، بندر عباس اور کئی دیگر بڑے شہروں میں منعقد کی گئیں، تیل کی دولت سے مالا مال صوبے خوزستان کے دارالحکومت اہواز میں فوجی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد نے اس پریڈ کے شرکاپر خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی اور حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 70سے زاید زخمی ہوگئے ہیں۔سرکاری ٹی وی کے مطابق حملہ آوروں نے مارچ پاسٹ کرتے فوجی اہلکاروں اور تماشائیوں کے علاوہ اس چبوترے پر بھی گولیاں برسائیں جہاں اعلیٰ حکام فوجی پریڈ کے معائنے کے لیے موجود تھے۔سرکاری خبر رساں ادارے ‘اِرنا’ نے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ حملے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایرانی فوج پاسدارانِ انقلاب کے کئی اہلکار بھی شامل ہیں۔ حملے کے 53 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اہواز کے مختلف اسپتالوں میں لایا گیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق فوجی وردیوں میں ملبوس حملہ آوروں نے پہلے اس چبوترے پر فائرنگ کی جہاں اعلیٰ حکام موجود تھے جس کے بعد انہوں نے تماشائیوں اور پریڈ کرتے فوجی اہلکاروں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں۔ایران کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں 4 افراد ملوث تھے جن میں سے 3 پریڈ میں موجود اہلکاروں کی جوابی فائرنگ سے موقع پر ہی مارے گئے جبکہ ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دورانِ علاج چل بسا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہفتے کے دن ہونے والی اس پریڈ کے دوران 4 نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی۔ سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 2 حملہ آور موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ2 کو گرفتار کر لیا گیا۔ گو کہ شدت پسند تنظیم داعش نے ایک بیان کے ذریعے حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں خطے میں سرگرم عرب علیحدگی پسند ملوث ہوسکتے ہیں۔واضح رہے کہ اہواز شہر عراق کی سرحد سے متصل ایرانی صوبے خوزستان کا دارالحکومت ہے جہاں سنی عربوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔اہواز ماضی میں ایران کی شیعہ حکومت کے خلاف مظاہروں کا بڑا مرکز بھی رہا ہے اور یہاں آباد عرب اور کرد ماضی میں سرکاری تنصیبات اور گیس اور تیل کی پائپ لائنوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے حملے کا الزام “خطے کے ملکوں اور ان کے امریکی آقاؤں” پر عاید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آوروں کو غیر ملکی طاقتوں کی مدد اور حمایت حاصل تھی۔ایک ٹوئٹر پیغام میں جواد ظریف نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایران اپنے شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے جوابی اقدام کرے گا۔ایرانی فوج ‘پاسدارانِ انقلاب’ کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے ‘ارنا’ کے ساتھ گفتگو میں حملے کا الزام عرب قوم پرستوں پر عاید کیا ہے جنہیں ترجمان کے بقول سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔تاحال سعودی عرب نے ایرانی حکام کے ان الزامات پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ اہواز میں پیش آنے والے واقعے کے بعد ملک بھر میں ہونے والی تقریبات کی سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔دوسری جانب پاکستان نے ایران کی اہواز فوجی پریڈ میں حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ