دشمن پاکستان کو طاقت سے ختم کرنے میں ناکامی کے بعد سازشیں کر رہے ہیں ، چیف جسٹس

135
چترال: چیف جسٹس ثاقب نثار ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال کا اچانک دورہ کررہے ہیں
چترال: چیف جسٹس ثاقب نثار ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال کا اچانک دورہ کررہے ہیں

چترال (آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثارنے کہا ہے کہ دشمن پاکستان کو طاقت سے ختم کرنے میں ناکامی کے بعد سازشیں کررہے ہیں۔ ہم میں پاکستانیت کو جگانے اور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور جس وقت پاکستانیت کا جذبہ بیدار ہوجائے تو اسی دن مسائل بھی حل ہوں گے اور ہمیں اس بات پر انتہائی فکر مند ہونے کی ضرورت ہے کہ ہم نئی نسل کو کوئی قیمتی چیز کی بجائے فی کس ایک لاکھ سترہ ہزار روپے کا قرض دے
رہے ہیں اور ہمیں ان قرضوں سے بھی نجات حاصل کرنی ہوگی۔ ہفتے کے روز ڈسٹرکٹ بار روم چترال میں وکلاء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمیں دیانت داری کی عادت کو اپنا نا چاہیے اور اس عمل کو ہمیں ہر ایک کو اپنی ذات اور اپنے گھر سے ہی شروع کرنا ہے۔ا نہوں نے بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کا نام لیے بغیر کہاکہ ہمیں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور یہ مسئلہ آگے جاکر گھمبیر صورت اختیار کرسکتی ہے اور ملک کے مخالفین اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو قوت کے ذریعے زیر کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے وہ اس کے خلاف سازشوں کا سوچ رہے ہیں اور ملک میں پانی کا قلت پیدا کرنا بھی سازشوں کا حصہ ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ انہوں نے کبھی بھی بار اور بینج میں تفریق روا نہیں رکھی کیونکہ دونوں انصاف کے حصول کے ذرائع ہیں اور ایک ہی جسم کے دو حصے ہیں جن کے درمیان ربط نہ ہونے معذوری کا نام دیا جاتا ہے ۔انہوں نے چترال میں سڑکوں کی خراب انفراسٹرکچر پر انتہائی مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ اکیسویں صدی میں چترال کے روڈ خچر کے بھی قابل نہیں ہیں اور اس بات پر حکمرانوں سے آئین کے تحت باز پرس بھی کی جائے گی کیونکہ سڑک بنیادی سہولیات میں سے ایک ہے اور موجودہ صورت حال ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے چترال میں پشاور ہائی کورٹ کے سرکٹ بینچ اور سنگل بینچ کی باقاعدگی کا بھی اعلان کیا جبکہ پشاور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس سے موقع پر ہی ٹیلی فون پر بات کرنے کے بعد بونی اور دروش میں ججوں کی کمی پوری کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس سے قبل ڈسرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر خورشید حسین مغل اور خیبر پختونخوا بار کونسل کے رکن عبدالولی خان عابد ایڈوکیٹ نے چیف جسٹس کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ