حکومتی منی بجٹ عوام کیلیے مہنگائی کا طوفان ثابت ہوگا

188

حکومت نے ایک منی بجٹ پیش کر دیا جس کا حجم 190ارب سے زائد ہو نے کی امید حکومت نے کر رکھی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں مزید اضافہ کا خدشہ بھی موجود ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ابھی حکومت نے 9ماہ کے دوران 30جون تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر ماہ بڑھانے کا آپشن بھی اپنے پاس رکھا ہو ا ہے وفاقی حکومت کے نئے منی بجٹ کے باعث 400 سے زائد اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ہے جب کہ عوام مہنگائی کے نئے طوفان کے لیے تیار نہیں لہٰذا حکومت عوام کو درپیش معاشی مسائل کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے عوام نے تحریک انصاف کی حکومت سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں لیکن منی بجٹ کی آمد کے بعد عوام کی غربت میں اضافہ ہو نے کا خدشہ موجود ہے ۔اس سلسلے میں حکومت کے ارکان اور وزیر خزانہ اسد عمر یہی کہہ رہے ہیں کہ نواز حکومت کو گیس کی قیمتیں بڑھانی تھیں لیکن انھوں نے سیاسی بنیادوں پر گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا لیکن حکومت کی بات اپنی جگہ لیکن حقیت یہ ہے کہ نگراں وزیر خزانہ شمشاد اختر نے اپنی رخصتی سے ایک دن قبل ہی پریس کانفر نس میں یہ بتا دیا تھا وہ نئی حکومت کو اپنی تجاویز سے آ گاہ کریں گی اس کی وجہ یہ ہے نواز حکومت نے ایک ایسا بجٹ بنایا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور اس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت ان کی تجاویز پر عمل کرے گی تو اس صورت میں ان کے لیے آئی ایم ایف سے قرض لینا آسان ہو جا ئے گا ۔ اب جو صورتحال سامنے آئی ہے کہ اس پتہ چلتا ہے کہ حکومت کا منی بجٹ عوامی ہو یا نہیں لیکن اس بات میں کو ئی دوسری رائے نہیں کہ حکومت کو آئی ایم ایف سے ان کی ضرورت کے مطابق قرض مل جائے گا ۔ حکومت کے لیے فنانس بل 2018-19 ء میں ترامیم کر نے کے لیے اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ مشکل ترین فیصلہ تھا قومی اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران ہی حکومت نے فنانس بل اسمبلی میں پیش کر دیا اور شاید یہ بل منظور بھی ہو جا ئے۔اس منی مگر میگا بجٹ سے 400 سے زائد اشیاء مہنگی ہونے کا خدشہ ہے جب کہ عوام مہنگائی کے نئے طوفان کے لیے تیار نہیں لہٰذا حکومت کو عوام کو درپیش معاشی مسائل کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنے کی ضرورت تھی لیکن حکومت کو اپنے اخراجات کے لیے فوری طور پر جس ر قم کی ضرورت ہے وہ عوام کی گردن پر بھاری ٹیکس سے ہی حاصل ہو سکتی ہے ۔ معلوم ہو ا ہے کہ ایف بی آر نے 300 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے اور تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس بڑھانے کی تجویز پیش کی تھی اور جس کو منظور کر لیاگیا اس ٹیکس کے براہ راست اثرات متوسط طبقے پر پڑیں گے۔ گزشتہ حکومت نے مالی سال 2018-19 ء کے بجٹ میں 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن والوں کو انکم ٹیکس سے استثنا دیا تھا اور اب منی بجٹ میں انکم ٹیکس کی شرح 12 لاکھ سے کم کرکے 4 لاکھ کرنے اور انکم ٹیکس کے ریٹس 30 جون سے پہلے والی سطح پر لانے کی تجویز تھی لیکن حکومت نے اس میں ایک نیا ء سلیب متعارف کرایا ہے لیکن اس سے متوسط طبقے کے بجائے بڑے تنخواہ دارطبقہ پر آنے کا خدشہ موجود ہے ۔ حکومت بار بار یہی کہہ رہی ہے عوام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن عوام کی یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے پیٹرول اور گیس کے نرخوں میں نواز دور میں اگر مہنگائی کا طوفان تھا تو عمران دور میں اضافہ عوام کے لیے دودھ کی نہر کیسے ثابت ہو گا۔آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئر مین اشعر حلیم نے منی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سی این جی کا شعبہ قدرتی گیس کی قیمت میں اضافہ کے بعد اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گااس لیے اس اضافہ کو سی این جی سیکٹر پر لاگو نہ کیا جائے۔ سی این جی سیکٹر کی بندش سے ساڑھے چار سو ارب روپے کی سرمایہ کاری ضائع اور لاکھوں افراد کا روزگارختم ہو سکتا ہے جبکہ آئل امپورٹ بل، آلودگی اور حکومت کے خسارے میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا۔اے پی سی این جی اے کے مرکزی چیئر مین اشعر حلیم نے کہا کہ گیس کی قیمت میں اضافہ سے سی این جی اور پٹرول کی قیمت کا فرق بہت کم رہ جائے گا۔سب سے مہنگی گیس خریدنے والے سی این جی سیکٹر کے لیے گیس کی قیمت میں مزید چالیس فیصدریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس سے اس کی قیمت میں اٹھارہ سے بیس روپے فی کلو اضافہ ہو جائے گا اور یہ ماحول دوست ایندھن عوام کی پہنچ سے باہر نکل جائے گا جبکہ اس صنعت کی بقاء خطرے میں پڑ جائے گی۔انھوں نے کہا کہ اگر سی این جی انڈسٹری کو تحفظ نہ دیا گیا تو یہ ایندھن استعمال کرنے والے عوام کو مجبوراً پٹرول پر منتقل ہونا پڑے گا جس سے انھیں مجموعی طور پراربوں روپے کا نقصان ہو گا جبکہ ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ جائیں گے۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک و قوم کے مفاد میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ سی این جی سیکٹر پر لاگو نہیں کیا جائے۔سابق چیئرمین آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن غیاث پراچہ نے نئی حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کو مسترد کردیا اور کہا کہ گیس کی قیمت بڑھنے سے غریب آدمی پر بوجھ پڑے گااس لیے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کسی صورت قبول نہیں ہے، چیئرمین سی این جی ایسوسی ایشن غیات پراچہ نے کہا کہ پیٹرول سے زیادہ قیمت ہونے پر سی این جی کا کاروبار ختم ہوجائے گا ،پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ہوجائے گااس لیے حکومت سی این جی کے لیے گیس کی قیمت میں اضافہ فوری طور پر واپس لے ۔انہوں نے کہا کہ اتنی زیادہ قیمت ہونے پر ٹیکنالوجی کو تبدیل کرنا پڑے گا جو ممکن نہیں۔انھوں نے کہا کہ اگر سی این جی انڈسٹری کو تحفظ نہ دیا گیا تو یہ ایندھن استعمال کرنے والے عوام کو مجبوراً پٹرول پر منتقل ہونا پڑے گا جس سے انھیں مجموعی طور پراربوں روپے کا نقصان ہو گا جبکہ ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ جائیں گے۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک و قوم کے مفاد میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ سی این جی سیکٹر پر لاگو نہیں کیا جائے۔سابق چیئرمین آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن غیاث پراچہ نے نئی حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ گیس کی قیمت بڑھنے سے غریب آدمی پر بوجھ پڑے گااس لیے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کسی صورت قبول نہیں ہے، چیئرمین سی این جی ایسوسی ایشن غیات پراچہ نے کہا کہ پیٹرول سے زیادہ قیمت ہونے پر سی این جی کا کاروبار ختم ہوجائے گا ،پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ہوجائے گااس لیے حکومت سی این جی کے لیے گیس کی قیمت میں اضافہ فوری طور پر واپس لے ۔انہوں نے کہا کہ اتنی زیادہ قیمت ہونے پر ٹیکنالوجی کو تبدیل کرنا پڑے گا جو ممکن نہیں
دوسری جانب وائس چیئرمین آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن سمیر نجم الحسن نے کہا کہ حکومت نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرکے غریب عوام کی کمر پر مہنگائی کی کیل ٹھونک دی ہے ،وزیر خزانہ کے فیصلے سے سی این جی کی ریٹیل قیمت میں 21 روپے کا اضافہ ہوگا،انہوں نے کہا کہ اسد عمر نے کونسے اعداد و شمار اکھٹے کیے، سمجھ سے بالا تر ہیں،ماضی کی حکومتوں نے بھی گیس ٹیرف میں بیک وقت اتنا اضافہ نہیں کیا،گیس کی قیمت میں اضافے سے غریب عوام براہ راست متاثر ہوں گے،گیس کی قیمت میں اضافہ کا براہ راست اثر پبلک ٹرانسپورٹ، اسکول وینوں، لاکھوں سی این جی کاروں پر پڑے گا، وزیر اعظم عمران خان اپنے وزیر خزانہ کے اس فیصلے کے منفی اثرات کا عوامی جائزہ لے لیں کیونکہ انتخابات سے عوام کے مفاد کا دم بھرنے والی پی ٹی آئی اپنے منشور سے منحرف ہورہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ستر فیصد گاڑیاں سی این جی پر ہیں، نجی شعبے کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،گیس کے لیے وزیر پیٹرولیم کا سندھ پنجاب اور کے پی کا موازنہ سراسر غلط ہے، وزیر خزانہ جواب دیں ملک کے معاشی حالات کا خمیازہ کروڑوں عوام کیوں بھگتیں؟
اسلام آباد چیمبر آف ا سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ گیس کی قیمت میں اضافہ سے عوام پر ایک سو چھیاسٹھ ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے جو عوام پر بتدریج ایک کھرب روپے سے زیادہ کا بوجھ ڈالنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ گیس کی قیمت میں مزید اضافہ کیا جائے گا جبکہ بجلی کے نرخ اور ٹیکس کی شرح بھی بڑھائی جائے گی جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں زبردست کٹوتی کی جائے گی ۔ان اقدامات سے عوام بری طرح متاثر ہوں گے۔فیصلے کے اثرات سے غریب کو محفوظ رکھنے کا دعویٰ محض لالی پاپ ہے کیونکہ اس سے شرح نمو میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ہو گا ۔شاہد رشید بٹ نے اسلام آباد سے جسارت پر خصوصی گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ توانائی کی قیمت میں اضافہ سے زرعی اورصنعتی شعبہ بھی متاثر ہو گا جس سے پیداوار اور برآمدات پر منفی اثر پڑے گا۔ توانائی کی قیمت بڑھانے سے قبل گزشتہ پانچ سال تک اربوں روپے کی گیس اور بجلی چوری کرنے والے سرمایہ داروں اور ان سے ملی بھگت کرنے والے سیاستدانوں اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائی کر کے ریکوری کی جائے۔ اوگرا عوام کے مفادات کاتحفظ کرنے کے بجائے گیس کمپنیوں کا آلہ کار بن گیا ہے اور ان کے منافع میں ناجائزاضافہ کی فکر میں رہتا ہے جبکہ نیپرا بھی اسی کھیل میں ملوث ہے۔ٹیکس میں اضافہ کر کے غریب عوام پر مہنگائی کا بم گرانے سے قبل ٹیکس سسٹم میں پانچ سو ارب سے زیادہ کی کرپشن اور ساڑھے پانچ سو ارب سے زیادہ کی ٹیکس معافیاں ختم کی جائیں جبکہ ٹیکس چورشرافیہ کو قومی ذمہ داری ادا کرنے پر مجبور کیا جائے۔حکومتی آمدنی کا صرف دس فیصد تک براہ راست ٹیکسوں سے جبکہ نوے فیصد تک بالواسطہ ٹیکس عائد کر کے وصول کیا جاتا ہے جس سے غربت بڑھتی ہے۔ امیروں سے ٹیکس لے کر غریبوں سے خرچ کرنے کے بجائے غریبوں سے ٹیکس لے کر امیروں پر خرچ کیا جا تا ہے اور مشکل وقت میں غریب کو ہی کڑوی گولی نگلنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اگر ٹیکس کے نظام کو متوازن اور شفاف بنایا جائے تو محاصل میں تین سو فیصد اضافہ ممکن ہے جس سے ملک مقامی اور بیرونی قرضوں سے ہمیشہ کے لیے بے نیاز ہو جائے گا۔صنعتی شعبہ بھی موجودہ گیس کے نرخوں میں اضافہ سے نالاں ہے اوراس کی کوشش تھی کہ یہ اضافہ نہ ہو اس سلسلے میں گزشتہ ای سی سی کے اجلاس قبل وفاقی وزیر تجارت عبدالزاق داؤد سے ملا قات کی تھی اور ان کی سفارش کی وجہ سے گیس کے بھاؤ میں اضافہ نہیں ہو سکا تھا لیکن بعد میں نئی حکومت پر آئی ایم ایف کے دباؤ نے عمران خان کو مجبور کر دیا کہ وہ وہی کریں جس کی ہدایت شمشاد اختر کر چکی ہیں ۔ پاکستان کا تجارتی خسارہ بہت بڑھ گیا ہے جس سے ملکی معیشت مشکلات کا شکار ہے لہذا نجی شعبہ درآمدات کے متبادل ملک کے اندر تیار کرنے پر توجہ دے جس سے تجارتی خسارہ کم ہو گا اور صنعتی شعبہ بھی بہتر ترقی کرے گا۔ بزنس کمیونٹی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اور برآمدات کو فروغ دے کر اربوں ڈالر کا زرمبادلہ ملک میں لا رہی ہے جس وجہ سے ملک آگے بڑھ رہا ہے لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ تاجروں وصنعتکاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ