گیس کی قیمت میں اضافہ سے سی این جی سیکٹر ختم ہو جائے گا ایسوسی ایشن

703

گیس کی قیمت میں اضافہ سے سی این جی سیکٹر ختم ہو جائے گا۔سی این جی ایسوسی ایشن
قیمت میں بیس روپے فی کلو اضافہ سے ایندھن عوام کی پہنچ سے باہر نکل جائے گا۔اشعر حلیم

ساڑھے چار سو ارب کی سرمایہ کاری ضائع، لاکھوں افراد کا روزگارختم ہو نے کا خدشہ

گیس کی قیمتوں میں اضافہ سی این جی سیکٹر پر لاگو نہ کیا جائے۔مطالبہ

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی چئیرمین اشعر حلیم نے کہا ہے کہ سی این جی کا شعبہ قدرتی گیس کی قیمت میں اضافہ کے بعد اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گااس لئے اس اضافہ کو سی این جی سیکٹر پر لاگو نہ کیا جائے۔

سی این جی سیکٹر کی بندش سے ساڑھے چار سو ارب روپے کی سرمایہ کاری ضائع اور لاکھوں افراد کا روزگارختم ہو سکتا ہے جبکہ آئل امپورٹ بل، آلودگی اور حکومت کے خسارے میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا۔اے پی سی این جی اے کے مرکزی چئیرمین اشعر حلیم نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ گیس کی قیمت میں اضافہ سے سی این جی اور پٹرول کی قیمت کا فرق بہت کم رہ جائے گا۔

سب سے مہنگی گیس خریدنے والے سی این جی سیکٹر کے لئے گیس کی قیمت میں مزید چالیس فیصدریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس سے اسکی قیمت میں اٹھارہ سے بیس روپے فی کلو اضافہ ہو جائے گا اور یہ ماحول دوست ایندھن عوام کی پہنچ سے باہر نکل جائے گا جبکہ اس صنعت کی بقاء خطرہ میں پڑ جائے گی۔انھوں نے کہا کہ اگر سی این جی انڈسٹری کو تحفظ نہ دیا گیا تو یہ ایندھن استعمال کرنے والے عوام کو مجبوراً پٹرول پر منتقل ہونا پڑے گا

جس سے انھیں مجموعی طور پراربوں روپے کا نقصان ہو گا جبکہ ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ جائیں گے۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک و قوم کے مفاد میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ سی این جی سیکٹر پر لاگو نہیں کیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com