توانائی کی قیمت اورٹیکس میں اضافہ سے عوام بری طرح متاثر ہونگے

244

گیس اور بجلی چورصنعتکاروں کے خلاف سخت کاروائی، ریکوری کی جائے

رئیسوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے ملک قرضوں سے بے نیاز ہو جائے گا

غریبوں سے ٹیکس لے کر امیروں پر خرچ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے

 

اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ گیس کی قیمت میں اضافہ سے
عوام پر ایک سو چھیاسٹھ ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے جو عوام پر بتدریج ایک کھرب روپے سے زیادہ کا بوجھ ڈالنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ گیس کی قیمت میں مزید اضافہ کیا جائے گا جبکہ بجلی کے نرخ اور ٹیکس کی شرح بھی بڑھائی جائے گی جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں زبردست کٹوتی کی جائے گی ۔ان اقدامات سے عوام بری طرح متاثر ہونگے۔فیصلے کے اثرات سے غریب کو محفوظ رکھنے کا دعویٰ محض لالی پاپ ہے کیونکہ اس سے شرح نمو میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ہو گا ۔شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ توانائی کی قیمت میں اضافہ سے زرعی اورصنعتی شعبہ بھی متاثر ہو گا جس سے پیداوار اور برامدات پر منفی اثر پڑے گا۔
ہ توانائی کی قیمت بڑھانے سے قبل گزشتہ پانچ سال تک اربوں روپے کی گیس اور بجلی چوری کرنے والے سرمایہ داروں اور ان سے ملی بھگت کرنے والے سیاستدانوں اعلیٰ حکام کے خلاف کاروائی کر کے ریکوری کی جائے۔ اوگرا عوام کے مفادات کاتحفظ کرنے کے بجائے گیس کمپنیوں کا آلہ کار بن گیا ہے اور انکے منافع میں ناجائزاضافہ کی فکر میں رہتا ہے جبکہ نیپرا بھی اسی کھیل میں ملوث ہے۔
ٹیکس میں اضافہ کر کے غریب عوام پر مہنگائی کا بم گرانے سے قبل ٹیکس سسٹم میں پانچ سو ارب سے زیادہ کی کرپشن اور ساڑھے پانچ سو ارب سے زیادہ کی ٹیکس معافیاں ختم کی جائیں جبکہ ٹیکس چورشرافیہ کو قومی زمہ داری ادا کرنے پر مجبور کیا جائے۔حکومتی آمدنی کا صرف دس فیصد تک براہ راست ٹیکسوں سے جبکہ نوے فیصد تک بالواسطہ ٹیکس عائد کر کے وصول کیا جاتا ہے جس سے غربت بڑھتی ہے۔ امیروں سے ٹیکس لے کر غریبوں سے خرچ کرنے کے بجائے غریبوں سے ٹیکس لے کر امیروں پر خرچ کیا جا تا ہے اور مشکل وقت میں غریب کو ہی کڑوی گولی نگلنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اگر ٹیکس کے نظام کو متوازن اور شفاف بنایا جائے تو محاصل میں تین سو فیصد اضافہ ممکن ہے جس سے ملک مقامی اور بیرونی قرضوں سے ہمیشہ کے لئے بے نیاز ہو جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com