کون سا پاکستان؟

319

 

آصف جیلانی

’’نیا پاکستان‘‘ کا نعرہ سن سن کر کان پک گئے ہیں اور پڑھ پڑھ کر آنکھیں پتھرا گئیں ہیں۔ عوام کو سیاسی سحر میں مبتلا کرنے کے لیے نت نے نعروں کا سلسلہ دراصل مغرب سے شروع ہوا ہے۔ 1995 میں برطانیہ میں ٹونی بلیر نے جب لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالی تھی تو ایک عرصہ دراز تک اقتدار سے محروم رہنے والی جماعت کو بائیں بازو کے کٹر نظریات کے لبادے سے چھٹکارہ دلانے اور اسے قابل منتخب جماعت بنانے کے لیے ’’نئی لیبر پارٹی۔ نئی زندگی‘‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ اسی طرح ٹوری پارٹی نے 2010 میں مستقبل کی تبدیلی کے لیے ووٹ کا نعرہ بلند کیا تھا۔ وقتی طور پر تو ان نعروں نے اپنا جادو دکھایا لیکن طویل عرصے کے بعد ناکامی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے نے ان جماعتوں کو گھیر لیا۔
پاکستان میں تحریک انصاف نے ان ہی نعروں کی دیکھا دیکھی ’’نئے پاکستان‘‘ کا نعرہ لگایا ہے۔ کوئی پوچھے کہ اقتدار کا حصول ہی نئے پاکستان کا مطمح نظر ہے یا نئے پاکستان کی کوئی نظریاتی بنیاد بھی ہے۔ کیا نیا پاکستان اور اس کا نظریہ اُس پرانے پاکستان سے مختلف ہے جس کے لیے بانی پاکستان محمد علی جناح نے جدوجہد کی تھی اور کامیابی حاصل کی تھی۔ نئے پاکستان کی نظریاتی اساس کی نشان دہی کیے بغیر، ’’نیا پاکستان‘‘ کا نعرہ محض ایک سیاسی مصلحت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ عوام یہ سوال ضرور پوچھیں گے کہ کون سا پاکستان؟
پھر یہ کیسا نیا پاکستان ہے کہ عمران خان کی حکومت پر نئے پاکستان کے جذبہ سے سرشار جوشیلے اور ملک میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے خواہاں جوانوں کے بجائے پرانے فوجی طالع آزما جنرل مشرف کے دور کے وزارء مسلط ہیں۔ وہی مشرف کے دور کے ریلوے وزیرشیخ رشید ریلوے کے وزیر ہیں، مشرف کی جماعت کے ترجمان فواد چودھری وزیر اطلاعات و نشریات ہیں۔ شفقت محمود، خسرو بختیار، علیم خان، چودھری پرویز الٰہی، عمر ایوب، اور عامر کیانی، مشرف کے دور میں وزیر تھے اور فوجی آمر مشرف کے وزیر جہانگیر ترین اب عمران خان کے مشیر خاص ہیں۔ کیا کوئی ان سے نیا پاکستان کی تعمیر کی توقع کر سکتا ہے؟ اور انہوں نے نئے پاکستان تعمیر کرنے کی کوشش کی تو کس نوعیت کا پاکستان ہوگا؟
نئے پاکستان میں کفایت شعاری اور سادگی کے نام پر اعلان کیا گیا ہے کہ وسیع و عریض ایوان وزیر اعظم میں اعلیٰ تعلیم کا ادارہ قائم کیا جائے گا اور مختلف صوبوں میں گورنر ہاؤس اور سرکاری عمارتوں کو عجائب گھروں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس اعلان پر اس قدر شور مچایا جارہا ہے اور عوام کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ جیسے یہی ان کا سب سے اہم مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ حل ہوتے ہی ان کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات اورکیا ہوگی اگر یہ کہا جائے کہ ایوان وزیر اعظم میں اشرافیہ کے لیے اعلیٰ تعلیمی ادارہ قائم کرنے سے ملک کے پانچ سے سولہ سال کی عمر کے ان دو کروڑ باون لاکھ بچوں کی تعلیم کا مسئلہ حل ہو جائے گا جو اس وقت اسکول جانے سے محروم ہیں۔ اس وقت اسکولوں میں زیر تعلیم 87فی صد بچے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل نہیں کرتے ہیں۔ یہ بے چارے کیسے، ایوان وزیر اعظم میں مجوزہ اعلیٰ تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ اس کی دہلیز تک بھی ان کا سایہ نہ پہنچ سکے گا۔
کس قدر ناکامی اور ندامت کا احساس ہوتا ہے یہ جان کر کہ پاکستان میں تعلیم پر قومی پیداوار کا صرف 2۔ اعشاریہ 2 فی صد خرچ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں خواندگی کی شرح 58فی صد سے بھی کم ہے۔ یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کو تو چھوڑیے، تاجکستان، ازبکستان، کرغیزیہ، اور ترکمانستان میں خواندگی کی شرح ایک سو فی صد دیکھ کر سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ ہم نے قیام پاکستان کے بعد ستر برسوں میں اپنی قوم کی نئی نسل کی تعلیم سے غفلت برت کر کس قدر بڑا جرم کیا ہے۔
اب یہ کہہ کر عوام کا دل بھلایا جارہا ہے کہ اس اعلی شان ایون وزیر اعظم میں اشرفیہ کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیمی ادارہ قائم کر کے نئے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا۔ کوئی پوچھے کہ یہ حساب لگایا گیا ہے کہ ایوان وزیر اعظم کو ترک کر کے وزیر اعظم کی نئی رہائش گاہ کی تعمیر پر کتنا خرچ آئے گا؟ اور گورنروں کی رہائش گاہوں کے انتظام پر کتنے اخراجات آئیں گے۔ عمران خان کو برا لگے گا اگر یہ کہا جائے کہ ان کی حکومت عوام کو ایسے مسئلے میں الجھا رہی ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ اسے ہی عوام کو ان کے حقیقی مسائل کی طرف سے توجہ ہٹانے کی کوشش سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
سادگی کے سلسلے میں لندن میں ڈاوننگ اسٹریٹ کی ایک چھوٹی سی گلی میں ایک چھوٹے مکان میں برطانوی وزیر اعظم کے دفتر اور قیام گاہ دس ڈاوننگ اسٹریٹ کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ ان لوگوں کو جنہوں نے دس ڈاوننگ اسٹریٹ اندر سے نہیں دیکھا انہیں احساس نہیں کہ یہ اندر سے کتنا وسیع ہے۔ ان کے لیے واقعی باہر سے یہ چھوٹا مکان نظر آتا ہے لیکن داخلی حقیقت اس کے بر عکس ہے۔
1971 میں مجھے اس زمانہ کے وزیر اعظم ایڈورڈ ہیتھ کے مہمان بننے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ اس دوران مجھے دس ڈاوننگ اسٹریٹ اندر سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ میں وہ عالی شان ہال دیکھ کر دنگ رہ گیا جس میں کابینہ کے اجلاس ہوتے ہیں پھر اس سے ملحق وزیر اعظم کے عملہ کے بیس سے زیادہ دفاتر ہیں۔ باہر سے دیکھنے میں چھوٹے سے مکان میں ایک سو سے زیادہ کمرے ہیں۔ تین سو سال قدیم دس ڈاوننگ اسٹریٹ دراصل تین مکانات پر مشتمل تھا جس میں سے ایک مکان 11 ڈاوننگ اسٹریٹ ہے جس میں وزیر خزانہ کی رہائش ہے۔ دس ڈاوننگ اسٹریٹ کی تین منزلہ عمارت ہے۔ دوسری منزل پر وزیر اعظم کے مطالعہ کا کمرہ ہے اور اسی سے ملحق ایک چھوٹا سا باورچی خانہ ہے۔ جس میں وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ خود کھانا تیار کرتے ہیں۔ جب میں ایڈورڈ ہیتھ سے ان کے مطالعہ کے کمرے میں ان سے گفتگو کر رہا تھا تو انہوں نے اچانک پوچھا کیا چائے پئیں گے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ وہ کسی ملازم کو بلائیں گے۔ اس کے بجائے وہ مجھے اپنے ساتھ باورچی خانہ لے گئے اور بڑی محبت سے انہوں نے خود میرے لیے چائے بنائی، آس پاس کسی ملازم کا کوئی سایہ تک نہ تھا۔ یہ تھی برطانوی وزیر اعظم کی سادگی اور مہمان نوازی جس کی یاد ابھی تک تازہ ہے۔
دس ڈاوننگ اسٹریٹ کی تیسری منزل پر وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے لیے رہائش گاہیں ہیں۔ نیچے دور تک وسیع سبزہ زار ہے جس پر بعض اوقات پریس کانفرنسیں اور دعوتیں ہوتی ہیں۔ دس ڈاوننگ اسڑیٹ میں وزیر اعظم کے دفتر کے علاوہ، پارلیمنٹ میں بھی وزیر اعظم کا وسیع دفتر ہے۔ ہاں برطانوی وزیر اعظم کی تام جھام سے آزاد سادگی قابل تقلید ہے۔ وزیر اعظم ٹریسا مے جہاں بھی جاتی ہیں ان کی سرکاری کار کے آگے موٹر سائیکل پر سوار پولیس کا صرف ایک سپاہی چلتا ہے۔ چالیس کاروں کا کوئی قافلہ پروٹوکول کے نام پر وزیر اعظم کی شان و شوکت کا ڈھنڈھورہ نہیں پیٹتا۔ یہ سادگی واقعی قابل تقلید ہے اور بلاشبہ پارلیمنٹ کے سامنے وزیر اعظم کی جواب دہی پارلیمانی جمہوریت کے داعیوں کے لیے روشن مثال ہے، خاص طور پر ہر بدھ کو بارہ بجے ایک گھنٹے تک وزیر اعظم ایوان میں اراکین پارلیمنٹ کے سوالات کا جواب دیتی ہیں۔
دیکھتے ہیں کہ نئے پاکستان کا مژدہ سنانے والے کہاں تک اپنے آپ کو پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہی کے لیے پیش کرتے ہیں اور عوام کے منتخب نمائندوں کے ایوان کا احترام کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ