جنرل اسمبلی میں اردو میں تقریر۔ یہ بھی ایک تبدیلی ہوگی

567

 

محمد مظفر الحق فاروقی

َ18 ستمبر 2018ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے جارہا ہے جس میں اقوام متحدہ میں شامل تمام چھوٹے بڑے ممالک کے نمائندے اپنے اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے تقریباً 12 منٹ کی تقریر کریں گے۔ پہلا اور کلیدی خطاب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہوگا۔ صدر بننے کے بعد یہ ان کا اس عالمی فورم پر پہلا خطاب ہوگا، پھر انگریزی حروفِ تہجی کے اعتبار سے ناموں کی ترتیب سے ہر ہر ملک کا نمائندہ خطاب کرے گا۔
کوئی چوتھائی صدی تو ہوگئی ہوگی ہم کو ان خطابات کو سنتے ہوئے اپنے ملک کے جس نمائندے نے بھی تقریر کی انگریزی زبان میں کی، یہ جان کر انگریزی وہ زبان ہے جسے وہاں موجود تقریباً سب ہی ممالک کے لوگ سمجھ لیتے ہیں۔ آصف علی زرداری صاحب صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حیثیت میں بولے انگریزی میں بولے۔ ان کی اہلیہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ان کی اقوام متحدہ میں پہلی تقریر تھی۔ وہ اپنے ساتھ بینظیر کی تصویر کا ایک فریم ساتھ لے کر گئے تھے، پورے مجمع کو تصویر اٹھا کر دکھائی اور پھر تقریر کی۔ دوسری بار تقریر کا موقع آیا تو منہ میں کچھ رکھا ہوا تھا۔ چیونگم رہی ہوگی، اس کو منہ سے نکال کر رکھ دیا پھر گویا ہوئے۔ اپنے سابق صدر ہیں تو میٹرک یا انٹر مگر خیر سے ان کی انگریزی اردو سے بہتر ہے، اس لیے شاید مجبوراً انہوں نے انگریزی میں تقریر کی ہوگی۔ فوجی حکمران اور صدر پرویز مشرف نے اقوام متحدہ میں سفید شیروانی پہن کر تقریر کی، قومی لباس تو زیب تن کرلیا مگر قومی زبان میں تقریر کرنے میں احساس کمتری کا شکار ہوگئے۔ ہم نے دیکھا کہ اس عالمی فورم پر ہر ہر ملک کا نمائندہ یا سربراہ اپنی قومی زبان ہی میں تقریر کرتا ہے۔ عرب ملک کا نمائندہ عربی میں خطاب کرتا ہے، چین کا نمائندہ چینی زبان میں، فرانس کا نمائندہ فرانسیسی زبان (FRENCH) میں، جرمنی کا نمائندہ جرمنی زبان میں، ایران کا نمائندہ فارسی میں اور ہندوستان کا نمائندہ ہندی زبان میں خطاب کرتا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج 3 سال سے مسلسل ہندی میں تقریر کرتی نظر آتی ہیں۔ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نمائندہ خواہ وہ صدر ہو، وزیراعظم ہو یا وزیرخارجہ احساس کمتری کے خول سے باہر نکل نہیں پاتا۔ احساس کمتری کے بھنور میں ہاتھ پیر مارتا ہوا لکھی ہوئی انگریزی تقریر پڑھ کر واپس آجاتا ہے۔ یہ احساس کمتری نہیں شرم کی بھی بات ہے کہ اتنی بڑی زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ہم شرم سے پانی پانی ہوئے جارہے ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ ہی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں جس کی آبادی پونے سات ارب کے قریب ہے اور جو تقریباً ڈھائی سو چھوٹے بڑے ممالک پر مشتمل ہے اور جو سیکڑوں اقوام اور قبیلوں میں تقسیم ہے۔ 2400 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان دو ہزار چار سو زبانوں میں اردو زبان کا چوتھا نمبر ہے۔ یعنی چوتھی سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے۔ اردو زبان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت پڑوسی ملک جس کا ہم کبھی ایک حصہ تھے کی آبادی سوا ارب کے قریب ہے یعنی ایک سو پچیس کروڑ اور ہمارے اپنے ملک پاکستان کی آبادی 20 کروڑ صرف ان دو ممالک کی آبادی تقریباً ڈیڑھ ارب نفوس تک جا پہنچی ہے۔ یعنی پوری دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ ان ہی دو ممالک میں بستا ہے۔ ڈیڑھ ارب آبادی کے اس خطے میں تقریباً ایک ارب یعنی سو کروڑ افراد اردو زبان کو بول اور سمجھ سکتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اردو ہندوستان کی قومی زبان تو نہیں ہے ان کی قومی زبان اس میں شک نہیں کہ اردو کے بجائے ہندی ہے اور جس پر ان کو فخر ہے نہ کہ شرمندگی۔ ہندی بھی اردو ہی کی طرح ہے جب کہ ان کے مذہب ہندو دھرم کی مذہبی زبان سنسکرت ہے جو بالکل مختلف ہے۔ ہندی اور اردو کو آپ ایک زبان اس مثال سے سمجھ سکتے ہیں کہ اگر آپ یہ جملہ ادا کریں کہ ’’میں ایک ضروری کام سے دہلی جارہا ہوں‘‘ تو ایک ہندو یا ہندی بولنے والا بھی یہی جملہ کہے گا ’’میں ایک ضروری کام سے دہلی جارہا ہوں‘‘ حالاں کہ ’’ضروری‘‘ اردو کا لفظ ہے جب کہ ضروری کی ہندی اَوَشیہ (Auashya) ہے۔ آپ بھارت کے ٹی وی پروگرام دیکھیں ہندی بھی اردو ہی لگے گی۔ مگر ہم اس اہمیت سے غافل اور احساس کمتری کا شکار ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے آج سے دو تین سال قبل یہ حکم دیا تھا کہ پاکستان میں اردو کو قومی زبان کی حیثیت سے رائج کیا جائے مگر ہم نے عدالت عظمیٰ کے اس فرمان کو بڑے مزے سے بالائے طاق رکھ کر اُلٹی سیدھی انگریزی لکھنے اور بولنے لگے۔ ہم اب تک انگریزوں کی ذہنی غلامی کے طوق سے خود کو آزاد نہ کرسکے۔
بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے نمائندے کے خطاب کی ہورہی تھی۔ شاید پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی صاحب 24 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ 193 ممالک کے ایک عالمی فورم پر پاکستانی نمائندے کا خطاب اہم ہوگا جو اردو میں ہوا تو اور بھی بلکہ بہت زیادہ اہم ہوجائے گا۔ ہماری حکومت یا عمران خان صاحب کی حکومت تبدیلی کا نعرہ لگا کر آئی ہے۔ بہت سے شعبوں میں ہمیں تبدیلی نظر بھی آنے لگی ہے۔ صبح ہوتی ہے تو فوراً دوپہر نہیں ہوجاتی۔ سورج آہستہ آہستہ اُفق سے اُبھر کر شفق میں ڈوبتا ہے۔ عمران خان صاحب احساس کمتری کا شکار نظر نہیں آتے اس کی مثال یہ ہے کہ قوم نے ابھی تک اس شخص کو انگریزی لباس یعنی سوٹ اور ٹائی میں نہیں دیکھا (ہمارے سندھ کے نئے گورنر صاحب قائد اعظم کے مزار پر فاتحہ بھی ٹائی سوٹ میں پڑھ رہے تھے) ہمارا نیا لیڈر انگریز اور امریکن وزیر اور جنرل سے بھی بات کرتا ہے تو اپنا قومی لباس شلوار قمیص پہن کر بات کرتے ہوئے کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتا۔
اچھا ہوتا وزیراعظم عمران خان ہی پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے مگر اگر وزیرخارجہ ہی جاتے ہیں تو وہ اردو یعنی اپنی قومی زبان میں خطاب کریں، اپنے قومی لباس میں خطاب کریں، وہ بلاول بھٹو نہیں ہیں، شاہ محمود صاحب اچھے مقرر ہیں اچھی اردو بولتے ہیں، آپ کا اقوام متحدہ میں اردو میں خطاب ایک تاریخی خطاب بن جائے گا اور تبدیلی کا ایک خوبصورت اور مسحورکن آغاز بھی، یہ وہ تبدیلی ہوگی جس پر اربوں روپے کا خرچ نہیں آئے گا، مفت کی تبدیلی ہوگی، آسان اور دلکش بھی۔ اردو میں تقریر کرنے کے بعد آپ خود کو اقوام عالم کی صف میں زیادہ باوقار، باوضع اور باعزت مقام پر فائز محسوس کریں گے جو اپنے قومی لباس اور قومی زبان سے محبت کرتے ہیں جس طرح دوسری قومیں کرتی ہیں۔ شاہ صاحب آپ یقیناًایک چھوٹے سے وفد کے ساتھ U.N.O میں جائیں گے، پچھلی حکومتوں کی طرح ایک بارات لے کر نہیں جائیں گے، آپ جب اپنی قومی زبان میں سشما سوراج اور دوسری قوموں کو بھی مخاطب کرکے وطن لوٹیں گے تو یہ بھی تبدیلی کا ایک خوشگوار جھونکا ہوگا جسے ہم تعریف کی نگاہ سے دیکھیں گے اور تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ