یمن میں عرب اتحاد کی بمباری، مزید 7شہری شہید

112
یمن: عرب اتحاد کی بم باری کا نشانہ بننے والا مکان تباہ ہوگیا ہے‘ چھوٹی تصویر جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کی ہے
یمن: عرب اتحاد کی بم باری کا نشانہ بننے والا مکان تباہ ہوگیا ہے‘ چھوٹی تصویر جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کی ہے

صنعا (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن میں سرگرم عرب اتحاد کے طیاروں نے ایک بار پھر آبادی پر بم باری کرکے 7 شہریوں کو شہید کردیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنگی طیاروں نے صوبہ بیضا کے ضلع درمان کے علاقے حوران میں ایک مکان کو نشانہ بنایا۔ مرنے والوں میں 4 بچے بھی شامل ہیں، جب کہ 8 افراد زخمی ہوئے۔ دوسری جانب یمنی فوج نے عرب اتحاد کی معاونت سے صنعا کے مشرق میں حوثیوں کا ایک ڈرون طیارہ مار گرایا۔ جاسوس طیارے کو حریب نہم کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔ ادھر یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھ صنعا میں ہیں، جہاں وہ حوثی ملیشیا کو سیاسی حل کے لیے مشاورت کی جانب لوٹنے پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ رواں ماہ کی ابتدا میں جنیوا میں بات چیت کا نیا دور ہونا تھا، تاہم حوثیوں کی عدم شرکت نے اس کا انعقاد ناکام بنا دیا۔ اب وہ آیندہ ایسی کسی بات چیت میں شرکت کے لیے نئی شرائط عائد کررہے ہیں۔ مارٹن گریفتھس یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کی غرض سے دوبارہ کوششیں کررہے ہیں اور وہ اس سلسلے میں اتوار کو صنعا پہنچے، جہاں وہ حوثی ملیشیا اور سابق مقتول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے لیڈروں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ حوثیوں نے عالمی ایلچی سے ملاقات سے قبل جنیوا میں مذاکرات کے آیندہ مجوزہ دور میں شرکت کے لیے نئی شرائط عائد کردی ہیں۔ انہوں نے تمام صوبوں میں سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کے لیے نقد رقوم مہیا کرنے اور صنعا کا بین الاقوامی ہوائی اڈا تجارتی اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یمنی حکومت اور اس کی عمل داری کی مکمل بحالی کے لیے کوشاں عرب اتحاد نے گزشتہ ہفتے حوثی وفد کے صنعا سے جنیوا سفر کے تمام انتظامات کرلیے تھے اور اس وفد کو لے جانے کے لیے سلطنت عمان نے ایک طیارہ بھیجا تھا۔ مغربی ذرائع کے مطابق عرب اتحادی افواج نے مبینہ طور پر اس طیارے کی تلاشی لی تھی اور حوثیوں نے اس کو جواز بنا کر اومانی طیارے میں سوار ہونے سے انکار کردیا تھا۔ تب اقوام متحدہ کے ایلچی نے کہا تھا کہ مجھے اس بات سے بڑی مایوسی ہوئی ہے کہ ہم حوثی وفد کو صنعا سے جنیوا نہیں لا سکے ہیں ۔ واضح رہے کہ یمن کی سول ایوی ایشن نے حوثیوں کے لیے بھیجے گئے اس طیارے کو صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اڑان بھر کر جنیوا جانے کی اجازت دے دی تھی۔یمنی وزیر اطلاعات نے ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں پرواز کی تاریخ، اڑان بھرنے اور اترنے کی جگہ، روٹ، سفر کا مقصد، طیارے کے ماڈل اور اس کے مالک سے متعلق تمام تفصیل بھی بیان کردی تھی، مگر حوثیوں نے از خود ہی اس میں سوار ہونے سے انکار کردیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ