ادلب کے بحران پر اردوان اور پیوٹن کی ملاقات

139
ادلب/ سوچی: روسی اور اسدی حملے کے پیش نظر شامی شہری زیرزمین پناہ گاہیں بنا رہے ہیں‘ چھوٹی تصویر صدر اردوان اور پیوٹن کے درمیان ملاقات کی ہے
ادلب/ سوچی: روسی اور اسدی حملے کے پیش نظر شامی شہری زیرزمین پناہ گاہیں بنا رہے ہیں‘ چھوٹی تصویر صدر اردوان اور پیوٹن کے درمیان ملاقات کی ہے

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان سے سوچی میں ملاقات کی۔ پیر کے روز ہونے والی اس سربراہ ملاقات میں شامی صوبے ادلب میں امن کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ بند کمرے میں ہونے والی یہ ملاقات ایک گھنٹہ 50 منٹ جاری رہی، جس میں دونوں ممالک کے کئی اہم وزرا سمیت اعلیٰ حکام موجود تھے۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے اور تعلقات مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات سے قبل صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ شام کے علاقے ادلب کے حالات اگر موجودہ شکل میں جاری رہے تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ صدر اردوان نے کہا کہ سوچی میں روسی صدر کے ساتھ متوقع مذاکرات کا اہم ترین موضوع ادلب ہو گا۔ صدر اردوان نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ آئیے ادلب میں مزاحمت کاروں کے درمیان موجود دہشت گرد گروپوں کے خلاف مل کر کاروائی کریں، لیکن بہانے بنا کر وہاں بمباری کرنے جیسے اقدامات سے بھی گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی کوششوں کے نتیجے میں حالیہ دنوں میں ادلب کی صورت حال پرسکون ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق روس اور ترک حکام شام میں سیف زون قائم کرنے پر متفق ہوگئے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اعلان کیا کہ ادلب میں اسدی فوج اور مزاحمت کاروں کے درمیان 15 سے 20 کلومیٹر پر محیط محفوظ علاقہ قائم کیا جائے گا۔ اس اقدام کے بعد تمام فریقوں پر لازم ہوگا کہ وہ حد بندی کا احترام کریں ۔ ادھر اتوار کے روز ادلب میں 300 سے زائد ڈاکٹروں اور نرسوں نے مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے میں طبی عملے نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ادلب کے شہریوں کو اسدی فوج کی جانب سے ممکنہ حملے سے تحفظ فراہم کرے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہرین نے اس مارچ میں آپریشن تھیڑ کا یونیفارم پہن رکھا تھا، جب کہ ہاتھوں میں پھول بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ یہ مظاہرہ ترک سرحد کے قریب واقعے اطمہ کے ایک اسپتال کے باہر کیا گیا۔ واضح رہے کہ حالیہ چند دنوں سے ادلب میں اسدی اور روسی افواج کی جانب سے زبردست فضائی حملے جاری ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ