برطانیہ کو علاحدہ ہونے سے روکا جائے، آسٹریا کا یورپی یونین پر زور

122
پیرس: فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں اور آسٹرین چانسلر سبستیان کرز پریس کانفرنس کررہے ہیں
پیرس: فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں اور آسٹرین چانسلر سبستیان کرز پریس کانفرنس کررہے ہیں

پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) آسٹریا کے چانسلر سبستیان کرز نے کہا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے عمل کو روکنے کی تمام ممکنہ کوشش کی جانا چاہیے۔ یورپی سربراہان کا 2 روزہ اجلاس آج منگل سے آسٹریا میں شروع ہو رہا ہے، جس میں بریگزٹ کا معاملہ کلیدی موضوع ہے۔ کرس نے پیر کے روز پیرس میں فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں سے ملاقات کے بعد کہا کہ اس اجلاس میں بریگزٹ کے علاوہ مہاجرین کے بحران پر بھی تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ اس موقع پر ماکروں کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی کوشش ہو گی کہ ایک طرف وہ تمام رکن ریاستوں کے مفادات کا تحفظ کرے اور ساتھ ہی برطانوی عوام کے بریگزٹ سے متعلق فیصلے کا بھی۔ دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے اپنی جماعت میں بریگزٹ کے حوالے سے سخت موقف رکھنے والوں کو خبردار کیا ہے۔ مے کا کہنا ہے کہ ان کے تجویز کردہ معاہدے کا کچھ اور متبادل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال میں دوسرا راستہ یہی ہو سکتا ہے کہ کوئی معاہدہ نہ کیا جائے۔ یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلا کے موضوع پر مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے برطانوی وزیر اعظم دباؤ کا شکار ہیں۔ ساتھ ہی مے پر ان کی بریگزٹ حکمت عملی کی وجہ سے ان کی جماعت بھی تنقید کر رہی ہے۔ مے یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی زون قائم کرنا چاہتی ہیں۔ ادھر لندن کے میئر صادق خان نے مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ کے یورپ سے اخراج کے سوال پر ایک اور ریفرنڈم کرایا جائے۔ صادق خان سیاستدانوں کی اس بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں، جو بریگزٹ پر دوسرے ریفرنڈم کے حق میں ہیں۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج میں اب 6 ماہ کا وقت ہی باقی بچا ہے۔ تاہم اپوزیشن لیبر پارٹی کے سینئر رہنما اور لندن کے میئر صادق خان نے مطالبہ کیا ہے کہ بریگزٹ یا برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے سوال پر ملک میں ایک اور ریفرنڈم کرایا جائے۔ ان کا یہ مطالبہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب بریگزٹ کے سوال پر حکومت کے اندر تفریق بڑھتی جا رہی ہے۔ آبزرور نامی اخبار میں صادق خان نے لکھا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کی حکومت برطانیہ کے یورپی یونین کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات کے لیے نہ تو تیار دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی اس کی گہرائی سے آگاہ نظر آتی ہے۔ صادق خان نے مزید لکھا کہ اس کا مطلب ہے کہ حکومت کی طرف سے برسلز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل شدہ بریگزٹ معاہدے پر ریفرنڈم کرایا جائے، جس میں یورپی یونین میں رہنے کا آپشن بھی موجود ہو۔ خان کا کہنا تھا کہ عوام کے معیار زندگی، ملازمتوں اور ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات اتنے زیادہ ہیں کہ عوام سے اس پر ان کی رائے ضرور پوچھی جانی چاہیے۔ میں نہیں سمجھتا کہ تھریسا مے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ لوگوں کے معیار زندگی اور معیشت کے ساتھ کھلے بندوں کھیل سکیں۔ صادق خان ان برطانوی سیاستدانوں میں شامل ہیں، جو جون 2016ء میں بریگزٹ کے سوال پر ہونے والے ریفرنڈم کے موقع پر یورپی یونین میں رہنے کے حق میں چلنے والی مہم کا حصہ تھے۔ صادق خان کا بریگزٹ کے لیے جاری عمل میں براہ راست تو کوئی کردار نہیں ہے، مگر وہ سیاسی برادری میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ پیپلز ووٹ کے نام سے دوسری بار ووٹنگ کا خیال بعض برطانوی سیاستدانوں، یونینوں اور کاروباری رہنماؤں کے درمیان مقبول ہو رہا ہے، جن کا کہنا ہے کہ برطانوی عوام کو بریگزٹ معاہدے پر اپنی رائے دینا کا اختیار ملنا چاہیے۔ برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج 29 مارچ 2019ء کو طے ہے، تاہم ابھی تک اس معاملے پر برطانیہ اور برسلز کے درمیان حتمی معاہدہ طے نہیں ہو پایا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ