روس پر مقدونیا میں اثرورسوخ بڑھانے کا امریکی الزام

100
اسکوپے: امریکی وزیر خارجہ جیمز میٹس کا استقبال کیا جارہا ہے‘ مقدونی وزیراعظم زوران زائیف بھی ساتھ ہیں
اسکوپے: امریکی وزیر خارجہ جیمز میٹس کا استقبال کیا جارہا ہے‘ مقدونی وزیراعظم زوران زائیف بھی ساتھ ہیں

اسکوپے (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی وزیردفاع جیمز میٹس نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ مقدونیا میں اپوزیشن کو سرمایہ فراہم کررہا ہے، تاکہ مقدونیا کے نام کی تبدیلی کے سلسلے میں ریفرنڈم کو ناکام بنایا جا سکے۔ جیمز میٹس 3روزہ دورے پر مقدونیا پہنچے ، جہاں وزیر اعظم زوران زائیف نے ان سے ملاقات کی۔ امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ماسکو حکومت اپنے پیسے اور اثررسوخ کا استعمال کر کے مقدونیا کی حزب مخالف کومضبوط بنانے میں مصروف ہے۔ کریملن حکام کی کوشش ہے کہ مقدونیا میں حکومت مخالف جماعت کو آگے لایاجائے ، تاکہ اسکوپے کے لیے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا رکن بننے کی راہ میں مشکلات پیدا ہوجائیں۔ واشنگٹن حکومت چاہتی ہے کہ مقدونیا کے عوام اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے میں آزاد ہوں اور کسی جماعت کے زیر اثر ان کے مستقبل کا غلط ہاتھوں میں نہ پڑجائے۔ مقدونیامیں 30 ستمبر کو نام کی تبدیلی کے حوالے سے ریفرنڈم ہوگا، جس کے اس کی نیٹو میں شمولیت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ وزیر اعظم زوران سے ملاقات میں جیمز نے براہ رست روس کا نام لینے سے گریز کیا ، تاہم خبررساں اداروں کے مطابق ان کا اشارہ ماسکو ہی کی طرف تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا بلقان کے ممالک کو سائبر حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کررہا ہے۔ مقدونیا ماضی میں سویت یونین کا حصہ تھا۔ میٹس سے پہلے جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور نیٹو کے سربراہ اسٹولٹن برگ بھی روس پر الزام تراشیاں کرچکے ہیں۔ جولائی میں یونان نے بھی 2روسی سفارت کاروں کو نام بدل کر غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث ہونے اور مختلف جماعتوں کو فنڈنگ کرنے کے الزام میں ملک بدر کردیا تھا۔ واضح رہے کہ یونان مقدونیا کا پڑوسی ملک ہے۔ یونان میں بھی مقدونیا نام کا علاقہ ہے ،جس کے باعث ایتھنز نے پڑوسی ملک سے مطالبہ کررکھا ہے کہ وہ اپنا نام تبدیل کرے۔ یونان حکام کا موقف ہے کہ الیگزینڈرا صوبے کے شہر مقدونیا کی ایک تاریخ حیثیت ہے ، جو پڑوسی ملک کی وجہ سے مجروح ہورہی ہے۔ اسی تنازع کی بنیاد پر یونان نے مقدونیا پر نیٹو اور یورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے قدغن لگارکھی ہے۔ ریفرنڈم میں اگر لوگوں نے نیٹواور یورپی یونین میں شمولیت کو ترجیح دی تو مقدونیا کو اپنا نام تبدیل کرنا پڑے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ