گیس قیمتوں میں 143 فیصد تک اضافہ، صنعتوں کو چھوٹ، سارا بوجھ گھریلو صارفین پر منتقل

337
اسلام آباد: وفاقی وزرا غلام سرور خان اور فواد چودھری پیٹرلیم قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کررہے ہیں
اسلام آباد: وفاقی وزرا غلام سرور خان اور فواد چودھری پیٹرلیم قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت ) تحریک انصاف کی حکومت نے گیس صارفین کے لیے قیمتوں میں 143فیصد تک اضافہ کر دیا ۔وفاقی وزیرپیٹرولیم غلام سرور خان کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے گیس کے ماہانہ سلیب 3 سے بڑھا کر 7 کر دیے گئے، برآمد کندگان صنعتوں کو ریلیف دیا گیا ہے جب کہ بجلی اور کھاد کارخانوں سمیت سی این جی، سیمنٹ اور کمرشل سیکٹر کے لیے بھی گیس 30سے 57فیصد تک مہنگی کر دی گئی ہے۔غلام سرور خان نے وزیر اطلاعات فواد چودھری کے ہمراہ نئی قیمتوں کا اعلان کیا اور بتایا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں گیس کی قیمتیں بڑھانے جب کہ ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 200 روپے تک کم کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایل پی جی پر تمام ٹیکسز ختم کرکے 10 فیصد جی ایس ٹی لگایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گیس کی قیمت میں زیادہ اضافہ بڑے صارفین کے لیے کیا گیا ہے،گیس کی مقامی اور درآمد کی گئی پیداوار کی قیمتیں یکساں کردی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گھریلو صارفین کے لیے گیس استعمال کا پہلا سلیب ماہانہ 50 مکعب میٹر تک ہوگاجس کے لیے فی یونٹ گیس کی قیمت 10 فیصد بڑھائی گئی ہے۔ملک بھر میں ماہانہ 50مکعب فٹ تک گیس استعمال کرنے والے صارفین 38فیصد ہیں جن کے لیے گیس کی ماہانہ قیمت میں 23روپے اضافہ ہو گا جو 252روپے سے بڑھ کر 275روپے ہو جائے گی۔دوسرا سلیب ہے ماہانہ 100مکعب میٹر تک گیس استعمال کا بنایا گیا ہے اور اس سلیب کے لیے فی یونٹ 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ یعنی پہلے 480روپے ماہانہ بل ادا کرنے والے صارفین کا بل 71روپے اضافے سے 551 روپے ہو جائے گا۔تیسرا سلیب 200مکعب میٹر تک رکھا گیا ہے اور اس میں فی یونٹ 20فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح چوتھا سلیب ہے ماہانہ 300مکعب میٹر گیس کے استعمال تک مقرر کیا گیا ہے جس کی فی یونٹ قیمت میں 25فیصد اضافہ کیا گیا۔پانچواں سلیب ماہانہ 400مکعب میٹر تک استعمال کرنے والے صارفین کا ہوگا اور ان کے فی یونٹ میں 30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔چھٹا سلیب ماہانہ 500مکعب میٹر گیس استعمال تک بنایا گیا ہے ان کے لیے فی یونٹ اضافہ 143فیصدتک اضافہ ہوگا۔ساتواں اور آخری سلیب 500مکعب میٹر سے زیادہ گیس استعمال کرنے والے صارفین کا رکھا گیا ہے اور ان کے لیے فی یونٹ گیس 143فیصد مہنگی کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا بجلی کارخانوں کے لیے بڑھائی گئی گیس قیمت کا اثر بجلی قیمتوں پر نہیں پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے ایل این جی معاہدہ خفیہ رکھا، جس کی ایف آئی اے اور نیب تحقیقات کررہا ہے، شفاف معاہدوں کوکبھی خفیہ نہیں رکھا جاتا۔گیس کی نئی قیمتوں پر عملدرآمد اکتوبر سے شروع ہوگا جس کی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔دوسری جانب ڈیلرز اونرز ایسوسی ایشن کے رہنما بشیر اکبر نے کہا کہ گیس کی قیمت بڑھنے سے سی این جی 15 روپے فی کلو بڑھے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ