صدر کا مدینے جیسی ریاست کا عزم خوش آئندہ ہے، سود کے خاتمے کا روڈ میپ بھی دیتے ، سراج الحق

155
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے صدر مملکت کے پارلیمنٹ سے خطاب پر اپنے رد عمل میں کہاہے کہ ہر سال صدر پاکستان خطاب کرتے ہیں مگر کسی حکومت نے بھی اپنے صدر کی تقریر پر کبھی عمل نہیں کیا ، ماضی کے صدور کی طرح موجودہ صدر نے بھی بہت اچھی باتیں کیں مگر ان باتوں پر عملدرآمد کے لیے کوئی لائحہ عمل نہیں دیا گیا ، پاکستان کو مدینہ کی اسلامی ریاست کی طرز پرایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کا عزم خوش آئند ہے مگر سودی معیشت کے خاتمے کے لیے کوئی روڈ میپ نہیں دیا گیا ۔ تقریر میں کشمیر کاذکر تو موجود تھا مگر آزادی کشمیر کی جدوجہد کو نتیجہ خیز بنانے اور کشمیریوں کو بھارت کے ظلم و جبر سے نجات دلانے کا کوئی عزم نہیں تھا ۔ فاٹا جس کا خیبر پختونخوا میں انضمام تو ہوگیا ہے ، مگر اس کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور ان علاقوں کی پسماندگی دورکرنے کے لیے اقدامات کی طرف کسی کی توجہ نہیں ۔ان خیالا ت کااظہار انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم نے کراچی میں بنگالیوں اور افغانوں کو شہریت دینے کا جو اعلان کیا ہے ، وہ محض ایک شہر تک محدود نہیں رہنا چاہیے ، اس کا اطلاق پورے ملک میں ہوناچاہیے ۔ بہت سے لوگ 1970 ء سے پاکستان میں ہیں اور اب ان کی تیسری نسل پروان چڑھ رہی ہے مگر انہیں شہریت سے محروم رکھا گیاہے ۔ ان کو ذمے دارشہری بنانے کے لیے مستقل شہریت دینا ملکی مفاد میں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ لاکھوں لوگوں کے شناختی کارڈ بلاک ہیں ، ان کو شناختی کارڈ مہیا کرنا حکومت کی ذمے داری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے انتخابات میں دھاندلی پر پارلیمانی کمیشن بنانے کا وعدہ کیا تھا ، مگر ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ۔سینیٹر سراج الحق نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی طرف سے گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی فوری طور پر اپنی سفارشات واپس لے ۔ اگر ان سفارشات پر عمل کیا گیا تو مہنگائی کا ایک طوفان آئے گا اور عام آدمی بری طرح پس جائے گا ۔ گیس کے گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں 143 فیصد اضافہ کیا گیاہے جبکہ کارخانوں کے لیے گیس کی قیمتوں میں 57 فیصد اضافہ کیا گیا یہ کیسی اقتصادی پالیسی ہے جس میں کارخانہ دار پر کم اور گھریلو صارفین پر زیادہ بوجھ ڈالا جارہاہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ