سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ضمنی بجٹ کو آئی ایم ایف بجٹ قرار دیدیا

178

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وفاقی حکومت کے ضمنی بجٹ کو آئی ایم ایف کا بجٹ قرار د دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کو ڈیڑھ سو ارب روپے کا ٹیکہ لگایا۔

حکومت کے منی بجٹ پر اپنے ردعمل میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تحریک انصاف والے پانچ سال تک کہتے رہے کہ ٹیکس نیٹ بڑھائیں، ہم نے بہت زیادہ لابی کو برداشت کیا اور نان فائلر پر پابندی لگائی لیکن انہوں نے وہ ہٹادی جو ایک برا قدم ہے، اس سے ٹیکس دینے والا طبقہ ہار گیا اور نان فائلر جیت گیا ہے کیونکہ اب نان فائلر بھی گاڑی خرید سکتا ہے جس سے ٹیکس پیئر کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، اچھا ہوتا کہ نان فائلر پر عائد قدغن لگی رہنے دی جاتی۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہماری حکومت نے دو لاکھ سے زائد آمدن والوں کا ٹیکس کم کیا تھا لیکن انہوں نے وہ پھر بڑھادیا۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے کل بھی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کو ڈیڑھ سو ارب روپے کا ٹیکہ لگایا، اس سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے تسلیم کیا کہ وہ ہمارے دور کے سی پیک کے منصوبوں کو چلنے دیں گے، انہوں نے مہم چلائی تھی کہ ہمارے پروجیکٹ غلط ہیں لیکن آج تسلیم کیا کہ وہ پروجیکٹ ملکی مفاد میں تھے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت نے بینکنگ ٹرانزکشن پر ٹیکس بڑھا دیا ہے جس سے لاکھ روپے ٹرانزکشن پر 200 روپے کٹیں گے، یہ بالکل آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن بتا نہیں رہے۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے ایمنسٹی اسکیم سے 120 ارب روپے جمع کیے تھے، اس سے انہیں 80 سے 90 ارب روپے ٹیکس ملے گا لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ایمنسٹی سے ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ