تاجروصنعتکار برادری نے کے سی سی آئی میں تبدیلی کو مستردکر دیا ، سراج تیلی

224
بی ایم جی کی 20 سالہ کارکردگی کے باعث تمام 15امیدواروں نے50فیصد سے ذائد برتری کے ساتھ کلین سوئپ کردیا
حتمی نتائج کا اعلان 29ستمبر2018 کو کے سی سی آئی میں منعقد ہونے والے اجلاس عامہ کے موقع پر کیا جائے گا۔

کراچی :بزنس مین گروپ ( بی ایم جی ) کے تمام امیدواروں نے چیئرمین بی ایم جی و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی کی قیادت میں کے سی سی آئی کے انتخابات برائے 2018-19 میں پیٹریاٹ بزنس مین گروپ ( پی بی جی ) کے تمام مخالفین کو بدترین شکست سے دوچار کیا ہے جن کو عقیل کریم ڈیڈھی،مقصود اسماعیل اور ایس ایم منیر کی حمایت حاصل تھی۔انھوں سی سی آئی کے انتخابات میں 5245 بیلٹ پیپرز جاری کیے گئے

جس میں سے 5010 بیلیٹ پیپرز درست قرار دیے گئے۔ بی ایم جی کے تمام 15امیدواروں کی جانب سے حاصل کیے گئے ووٹوں کی تعداد 3246 سے 3404ووٹوں کے درمیان رہی جبکہ سب سے زیادہ 3404 ووٹ بی ایم جی کے محمد حنیف نے حاصل کئے اورپیٹریاٹ گروپ کے سربراہ امجد چامڈیا صرف 1760 حاصل کر پائے۔کے سی سی آئی کے انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے اعلان کے وقت آڈیٹوریم میں بی ایم جی کے حمایتیوں کی بڑی تعداد میں موجود تھی۔
اس موقع پر چیئرمین بی ایم جی و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی نے کہاکہ اس سال الیکشن میں ریکارڈ ووٹ ڈالے گئے اور تاجروصنعتکار بڑی تعداد میں بی ایم جی کی حمایت میں آگے آئے جنہوں نے کے سی سی آئی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے تسلسل کو ووٹ دیا ۔انہوں نے کہاکہ یہ شکست مخالف نوجوانوں کی نہیں بلکہ مقصود اسماعیل، عقیل کریم ڈیڈھی،ایس ایم منیر، یحیحٰی پولانی اور رحیم جانو کی ہے
جنہوں نے ان مخالف نوجوانوں کو گمراہ کیا اور انہیں بی ایم جی سے مقابلے کے لیے اکسایا۔ یہ وہ خودساختہ لیڈران ہیں جو تاجربرادری کی خوشحالی کے لیے کچھ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور صرف اپنی اور اپنے مفادارت کی پرواہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک سچا اور حقیقی لیڈر بننے کے لیے سخت محنت اور مخلصی کے ساتھ عوام کی خدمت کرنی پڑتی ہے ۔15ستمبر بلا شبہ ایک تاریخی دن ہے کیونکہ پوری دنیا اسے بین الاقوامی جمہوریت کے دن کے طور پر منارہی ہے اور کراچی چیمبر میں بھی آج ہی کے روز جمہوریت کی جیت ہوئی ۔یہ ایک تاریخی دن ہے جب ہزاروں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر کے سی سی آئی کے انتخابات میں حصہ لیا جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ہم انتخابات کے مخالف نہیں بلکہ یہ خوش آئند ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مخالفین اور ان کے حمایتی ذاتیات پر اتر آئیں اور بے بنیاد،جھوٹے الزامات لگائیں اور غلط الفاظ استعمال کریں ۔یہ تاجربرادری کا الیکشن ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے مخالفین اور ان کے حمایتیوں نے جنہیں حال ہی میں قومی سیاست میں شکست کا سامنا رہا کے سی سی آئی کے انتخابات میں بھی الزام تراشی کی سیاست کرنے کی کوشش کی تاہم تاجروصنعتکار برادری نے بی ایم جی کی حمایت کرکے انہیں یکسر مسترد کردیا۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ عناصر نے ڈی جی ٹی او کے پاس 15سے زائد شکایات درج کروائیں اور اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے دو سرکاری افسروں کی زیر نگرانی کے سی سی آئی کے انتخابات کرانے کی کوشش کی جو پاکستان اور کراچی چیمبر کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا لہٰذااس مانیٹرنگ ٹیم کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا
کیونکہ یہ اقدام مکمل طور پر غیر قانونی تھا۔ ہم نے ہائیکورٹ سے درخواست کی کہ تمام شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے کسی سینئر جج یا عدالت کے نمائندے کو نامزد کیا جائے۔ انھوں نے معزز ہائی کورٹ کی جانب سے الیکشن سرگرمیوں کی نگرانی کے لئے کورٹ کے ناظر کو تعینات کرنے کے اقدام کو سراہا اور اس سلسلے میں سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگا کی جانب سے یکطرفہ فیصلہ کرنے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے بی ایم جی کی 20سالہ عوامی خدمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹ کا فیصلہ بی ایم جی کے حق میں کرنے پر پوری تاجروصنعتکار برادری کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے بی ایم جی اور سراج قاسم تیلی کو فتح سے ہمکنار کرنے کے لیے انتخابی مہم کے دوارن انتھک جدوجہد پر تمام بی ایم جی اینز کو بھی خراج تحسین پیش کیا اوربزنس مین پینل کے میاں انجم نثار، میاں زاہد حسین، ذکریا عثمان،ناصر حیات مگوں ، شوکت احمد ودیگرسمیت تمام چھوٹی بڑی تجارتی مارکیٹوں،تاجروصنعتکار برادری کی بھرپور حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔ ان سب کی حمایت اورکوشیشوں کے نتیجے میں بی ایم جی کو تاریخی فتح حاصل ہوئی۔یہ میرے لیے کسی نعمت سے کم نہیں کہ میرے بچھڑے ہوئے دوست دوبارہ مجھ سے آملے اور میری اور میرے گروپ کی حمایت کی۔
انہوں نے الیکشن کمیشن کے ممبران کی جانب سے غیرجانبدارانہ اور ایمانداری کے ساتھ الیکشن کے پورے عمل میں خدمات انجام دینے کی بھی تعریف کی۔کے سی سی آئی کے انتخابات برائے 2018-19 میں سب سے زیادہ ووٹ محمد حنیف 3404ووٹ،حفیظ عزیز3396،شاہد اسماعیل3386،وسیم الرحمان 3378، شمون ذکی 3378،فیصل نعیم 3371،جنید اسماعیل ماکڈا 3370، شکیل الرحمان 3366، آصف یونس سم سم 3364،حسن شیخ وہرہ3361،محمد ہارون قیصر 3349، سہیل احمد3342،شعیب سلطان 3307، ہمایوں محمد3296 اور محمد عمار شیخ نے 3246ووٹ حاصل کیے۔حتمی نتائج کا اعلان 29ستمبر2018 کو کے سی سی آئی میں منعقد ہونے والے اجلاس عامہ کے موقع پر کیا جائے گا۔
Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com