منی لانڈرنگ کیس: عبدالغنی مجید،انور مجید کے طبی معائنہ کیلئے کمیٹی قائم

162

سپریم کورٹ نے عبدالغنی مجید اور انور مجید کے میڈیکل معائنے سے متعلق کیس میں سرجن جنرل آف پاکستان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار انور مجید اورعبدالغنی مجید کے معائنے کے لئے میڈیکل بورڈ کی تشکیل سے متعلق ایف آئی اے کی درخواست پرسماعت کی۔دوران سماعت تفتیشی افسر نے تفتیش مکمل نہ ہونے کا عذر پیش کرتے ہوئے کہا کہ مدعیہ تھانے پیش ہو کر شامل تفتیش نہیں ہورہی۔ جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مدعیہ کو شامل تفتیش کسے کرنا ہے، کیا وہ بھی عدالت کی ذمہ داری ہے۔ آئندہ سماعت پر ہر حال میں آپ کی تفتیش مکمل ہو۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے جناح ہسپتال کراچی کی ایم ایس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سیمی جمالی ! آپ کو اتناکمزورنہیں سمجھاتھا،جب بھی آپ عدالت آئیں میں نے سپورٹ کیا ،آپ لوگ ایک شخص کے مرض کی تشخیص نہیں کرپارہے؟میں نے اس دن آپ کی عزت رکھی ایم آر آئی مشین چیک کرنے نہیں گیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہر کوئی ایک دوسرے پر معاملہ ڈال رہا ہے، جس کو کہو وہ کہتا ہے اس کے پاس جائیں اس کے پاس جائیں۔

عدالتی استفسار پر ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ عبدالغنی مجید 27 اگست سے اسپتال میں ہیں۔ تاثر دیا جارہا ہے کہ سندھ کے ڈاکٹرز پر اعتماد نہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت کے بارے میں ریمارکس دینے پر مجبور نہ کریں۔ سرجن جنرل آف پاکستان ڈاکٹر زاہد کی سربراہی میں بورڈ تشکیل دیں گے، ان کی مرضی کہ وہ خود چیک کریں یا کوئی کمیٹی تشکیل دیں۔

ملزمان کی وکیل عائشہ حامد نے کہا کہ معاملہ متعلقہ عدالت میں ہے،سپریم کورٹ کواس معاملے میں نہیں آناچاہئے،ٹھوس وجوہات کے بغیر میڈیکل بورڈ نہیں بن سکتا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت تعاون نہیں کر رہی تو ہمیں میڈیکل بورڈ تشکیل دینا پڑ رہا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سندھ حکومت آزادانہ طبی معائنہ کرانے سے کیوں گھبرارہی ہے؟عائشہ حامد نے کہا کہ سندھ کامعاملہ ہے،پنجابی ڈاکٹرزکیوں چیک کریں؟۔ عدالت نےملزمان کی وکیل عائشہ حامد کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سے بات کرتے ہوئے لہجہ دھیما رکھیں، کوئی پنجابی میڈیکل نہیں بنے گا، قانون تک رہیں صوبائیت پر نہ جائیں، قانون کا کیس ہے اس میں صوبائیت کہاں سے آگئی۔

سپریم کورٹ نے سرجن جنرل آف پاکستان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا، کیس کی مزید سماعت 24 ستمبر کو ہوگی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ