قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ ﷺ

104

اے نبیؐ، ان کافروں سے کہو کہ اگر اب بھی باز آ جائیں تو جو کچھ پہلے ہو چکا ہے اس سے درگزر کر لیا جائے گا، لیکن اگر یہ اسی پچھلی روش کا اعادہ کریں گے تو گزشتہ قوموں کے ساتھ جو کچھ ہو چکا ہے وہ سب کو معلوم ہے ۔ اے ایمان لانے والو، ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے پھر اگر وہ فتنہ سے رْک جائیں تو ان کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے ۔ اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے اور وہ بہترین حامی و مدد گار ہے ۔ اور تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسْولؐ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو فیصلے کے روز، یعنی دونوں فوجوں کی مڈبھیڑ کے دن، ہم نے اپنے بندے پر نازل کی تھی، (تو یہ حصہ بخوشی ادا کرو) اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔(سورۃ الانفال:38تا41)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں ان میں سے ایک رحمت کو اس نے تمام مخلوقات کے درمیان تقسیم کردیا ہے اسی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحمت وشفقت کرتی ہیں اور اسی وجہ سے وحشی جانور اپنی اولاد پر شفقت کرتے ہیں اللہ نے ننانوے رحمتیں محفوظ کر رکھی ہیں ان کے ذریعے وہ روز قیامت اپنے بندوں پر رحم کرے گا۔ (مسلم، بخاری، ترمذی) ۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی موت اس گواہی پر ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور یہ گواہی سچے دل سے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا۔ (سنن ابن ماجہ) ۔۔۔عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! نجات کی کیا صورت ہے؟ فرمایا: اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر میں (محدود) رہنے کو کافی سمجھو اور اپنی خطاؤں پر رویا کرو۔ (ترمذی)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.