شاہ محمود قریشی کا دورہ کابل ، پاکستان اور افغانستان کا چیلنجوں سے ملکر نمٹنے پر اتفاق

123
کابل:افغان وزارت خارجہ کے حکام شاہ محمود قریشی کااستقبال کر ر ہے ہیں
کابل:افغان وزارت خارجہ کے حکام شاہ محمود قریشی کااستقبال کر ر ہے ہیں

اسلام آباد/کابل (آئی این پی ) پاکستان اور افغانستان نے جوائنٹ اکنامک کمیٹی اور افغانستان پاکستان ایکشن پلان پر کام جاری رکھنے اور جلال آباد میں قونصل خانہ دوبارہ فعال کرنے پر اتفاق کیاہے،وزیر خارجہ نے افغان پولیس کو پاکستان میں ٹریننگ دینے کی پیشکش کی اور دونوں ملکوں کے درمیان معاملات کے بہتر حل کے لیے رابطے جاری رکھنے پر زور بھی دیا گیا، پاکستان نے افغانستان سے امپورٹ پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی اور وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران
خان کی جانب سے 40 ہزار ٹن گندم کے تحفے کا خط افغان صدر کے حوالے کیاجبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان نئے سرے سے تعلقات اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کا فیصلہ ہوا ہے۔ ہفتے کووزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں شاہ محمود قریشی افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ایک روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچنے پر افغان وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے ان کا ائرپورٹ پر استقبال کیا جس کے بعد وزیر خارجہ افغان صدارتی محل روانہ ہوگئے۔افغان صدارتی محل میں شاہ محمود قریشی کا ان کے افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی نے استقبال کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ افغانستان کا اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔اعلامیے کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور ہم منصب سے ملاقات کی۔وزیر خارجہ نے افغان قیادت کو خیر سگالی کا پیغام پہنچایا، دونوں ممالک نے جوائنٹ اکنامک کمیٹی اور افغانستان پاکستان ایکشن پلان پر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں نے جلال آباد قونصل خانے کی سیکورٹی کے معاملات جلد حل کرنے پر اتفاق کیا اور قونصل خانہ دوبارہ آپریشنل کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق شاہ محمود قریشی نے افغان ہم قیادت سے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، امن کے لیے افغان زیر قیادت سیاسی عمل کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور ہر کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔اعلامیے کے مطابق وزیر خارجہ نے افغان پولیس کو پاکستان میں تربیت دینے کی پیشکش کی اور دونوں ملکوں کے درمیان معاملات کے بہتر حل کے لیے رابطے جاری رکھنے پر زور بھی دیا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے افغانستان سے امپورٹ پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی اور وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 40 ہزار ٹن گندم کے تحفے کا خط افغان صدر کے حوالے کیا۔اس کے علاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے دورے کے دوران افغان مہاجرین کی با عزت واپسی کا معاملہ بھی افغان قیادت کے سامنے اٹھایا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی جو تقریباً 45منٹ تک جاری رہی۔ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور افغانستان میں امن سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر افغان صدر نے شاہ محمود قریشی کو وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد بھی دی۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان افغان صدر اشرف غنی کی سربراہی میں وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے جس کا دورانیہ 45 منٹ مقرر تھا تاہم یہ مذاکرات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہے جس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی شاہ محمود قریشی نے کی۔ مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تمام امور پر مثبت انداز میں تفصیلاً بات چیت کی گئی جس میں دو طرفہ تجارتی امور، افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردا،ر بارڈر مینجمنٹ اور جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کی بندش سمیت دیگر اہم امور پر بات کی گئی۔اس کے علاوہ امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کے حالیہ دورہ پاکستان پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں دونوں جانب سے مزید ملاقاتوں اور مذاکرات کا عندیہ دیا گیا ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی سے بھی ملاقات کی جس دوران گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہا کہ ہمارے چیلنجز ایک جیسے ہیں جن سے باہمی تعاون سے ہی نمٹنا ہے، افغانستان میں ورکنگ گروپ پر زیادہ کام کرنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے بھی امن اتناہی ضروری ہے جتنا افغانستان کے لیے ہے۔ملاقات کے موقع پر شاہ محمود نے دو طرفہ معاملات کے حل کے لیے دونوں اطراف سے علمائے کرام کی میٹنگ کی تجویز دی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ہم منصب سے ملاقات کے بعد افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی جس میں انہوں نے شاہ محمود کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ امید ہے آپ اپنے اس منصب کے چیلنجز پر پورا اتریں گے جب کہ اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان آنے کا خیال اسی لیے آیا کیونکہ پاکستان افغانستان کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔افغان چیف ایگزیکٹو نے شاہ محمود قریشی کو قالین کا تحفہ دیا۔افغان چیف ایگزیکٹو کی آمد سے پہلے شاہ محمود اور ان کے ہم منصب نے خوش گپیاں لگائیں۔افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے شاہ محمود کو کہا کہ آپ کوانگوروں کا تحفہ بھجواؤں گا، میرے علاقے کے انگور اچھے ہیں، اس پر شاہ محمود قریشی مسکرادیے۔صلاح الدین ربانی نے شاہ محمود سے کہا کہ آپ کے علاقے کے بھی تو آم مشہور ہیں جس پر وزیر خارجہ نے کہا کہ آپ کوملتان کے آم بجھوا دیں گے۔کابل کا دورہ مکمل ہونے کے بعد ائرپورٹ پر نجی ٹی و ی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ دورہ کابل بہت مفید رہا، میں سمجھتا ہوں کہ جو خوف کے بادل منڈلا رہے تھے وہ چھٹ گئے ہیں، پاکستان افغانستان نے نئے سرے سے رابطے بڑھانے اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان صدر، چیف ایگزیکٹو اور وزیر خارجہ سے کچھ باتیں طے کی ہیں، 24ستمبر کو علما کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوگا۔شاہ محمود نے کہا کہ ہم نے اپنے اقتصادی تعلقات کو بڑھانا ہے تو مشترکہ اقتصادی کمیشن بنانا ہوگا، افغانستان کا اقتصادی کمیشن اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا اور اکتوبر میں مذاکرات کا اگلا دور ہوگا۔وزیر خارجہ نے بتایا کہ افغان صدر اور وزیر خارجہ اکتوبر میں پاکستان آئیں گے۔
شاہ محمود قریشی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.