واٹر کمیشن:ایف ٹی سی پل کی نیچے دکانیں فوج نے تعمیر کرائیں ، سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ

215

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایف ٹی سی فلائی اوور سمیت دیگر پلوں پر تجاوزات اور غیر قانونی دکانوں کا معاملہ،کمیشن نے ڈائریکٹر ملٹری لینڈ،سی ای او کراچی کنٹونمنٹ ودیگر کو تحریری جواب کے لیے15روزکی مہلت دے دی۔سندھ ہائی کورٹ میں واٹر کمیشن کی سماعت ہوئی۔ایف ٹی سی فلائی اوورسمیت دیگر پلوں پر غیر قانونی دکانوں و تجاوزات کے معاملے پر کوآرڈ ینٹر کمیشن آصف حیدرشاہ کا کہنا تھا کہ شارع فیصل پر کئی مقامات پر تجاوزات ہیں،ایف ٹی سی فلائی اوور کے نیچے دکانیں تعمیر ہوگئی ہیں۔کمیشن میں سی ای او کراچی کنٹونمنٹ پیش ہوئے، کمیشن نے ان سے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت اوور ہیڈبرج کے نیچے دکانیں بنائی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ عدالت اور واٹر کمیشن کے حکم پر اشتہاری دیوار ختم کردی تھی ،پاک آرمی کی ایک دیوار باقی ہے جو دفاعی مقاصد کے لیے تعمیر کی گئی ہے۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ صرف یہ بتائیں فلائی اوور کے نیچے کس قانون کے تحت تجارتی سرگرمیاں ہوسکتی ہیں ۔سی ای او کا کہنا تھا کہ پاک آرمی اس دیوار کے پیچھے خود دکانیں تعمیر کررہی ہے۔کمیشن نے کہا کہ کیا شہریوں کے حقوق سلب کیے جاسکتے ہیں ۔سی ای او کا کہنا تھا کہ آرمی کا کہنا ہے کہ یہ سارا علاقہ ہمارا تھا،فلائی اوور بننے کے بعد علاقہ اب مقامی حکومت کو منتقل نہیں ہوا،دیوار ‘‘فایؤ کور ‘‘ نے بنائی ہے جس کی اجازت ہم سے نہیں لی گئی ،دکانیں بھی فوج نے ہی بنائی ہیں۔ کمیشن میں ڈی جی ملٹری لینڈ پیش ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ دکانیں فایؤ کور نے تعمیر کی ہیں،ہمارا کوئی کردار نہیں۔آصف حیدر شاہ کا کہنا تھا کہ صرف ایف ٹی سی فلائی اوور کا معاملہ نہیں ،شارع فیصل پر کئی تجاوزات ہیں ،بلوچ کالونی پل کے نیچے بھی اس طرح کی سرگرمیاں ہورہی ہیں۔کمیشن کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ دکانیں بنیں گی تو اس کا فضلہ بھی خارج ہوگا، پانی کہاں جائے گا ،کیا فلائی اوورز کے نیچے بلڈنگز بن سکتی ہیں ، ہم شہریوں کے حقوق کی بات کررہے ہیں ،اگر شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی تو ہم مداخلت کریں گے ،شہر میں کئی مقامات پر مستقل اسٹرکچر بنادیے گئے ہیں جن کو ہٹانا مشکل ہو رہا ہے۔آصف حیدر شاہ کا کہنا تھا کہ کم از کم شارع فیصل پر فٹ پاتھ وغیرہ پر عارضی تجارتی سرگرمیوں کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے ،پارکنگ کو بھی ریگولرائز کیا جائے،سروس روڈپر پارکنگ ہے۔کمیشن میں ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا کہ جس ادارے کی حدود میں غیر قانونی تجارتی سرگرمیاں یا تجاوزات ہوں وہی ادارہ ذمے دار ہے۔کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ ایف ٹی سی پر اشتہاری دیوار گرائی نہیں گئی، صرف سوراخ کیے گئے جو بعد میں بھر دیے گئے ۔کمیشن نے کہا کہ عدالت عظمیٰ میں اشتہاری دیواروں کا معاملہ زیر سماعت تھا،دکانوں کی تعمیر نیا ایشو ہے،عدالت عظمیٰ نے آرمی کو بھی ہدایت کی تھی کہ دیوار کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے حکم پر اشتہارات کا نیا قانون بنایا گیا ہے ،بڑے بڑے سائن بورڈز ہٹا دیے گئے ہیں،ایف ٹی سی پر تعمیر کی گئی دیو ہیکل دیوار خطر ناک ہوسکتی تھی۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ میں یہ معاملہ عدالت عظمیٰ کو بھی بھیج سکتا ہوں،اس طرح کی تجاوزات سے وقت کے ساتھ مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ آصف حیدر شا ہ کا کہنا تھا کہ دیگر پلوں کے نیچے بھی کمرشل سرگرمیاں ختم ہونی چاہییں ۔ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ کئی ریڑھی والے روزانہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، ان کا روزگار ہے۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ کیا فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر تجاوزات کی اجازت دے دیں،کیایہ سوچ کر چرس بیچنے کی بھی اجازت دے دیں کہ یہ غریب آدمی ہے۔ کمیشن نے شارع فیصل اور اطراف میں تجارتی سرگرمیوں کی تفصیلی رپورٹ طلب جب کہ کمشنر کراچی اور ڈائریکٹر ملٹری لینڈ کو مشترکہ رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ کمیشن میں پی ای سی ایچ ایس کے مکینوں کا کہنا تھا کہ رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں کی وجہ سے ہماری زندگی اجیرن ہوگئی،خالد بن ولید روڈ سمیت دیگر مقامات پر تجاوزات کی بھرمار ہے،اب ہمارے گھروں میں پانی بھی نہیں آتا۔کمیشن نے اس حوالے سے خاتون شہری کو تحریری درخواست جمع کرانے کی ہدایت کی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ